عالمی بے حسی یا مفادات کی اسیر دنیا: اسرائیل کو کون روکے؟

اسرائیل کے مظالم سب کے سامنے ہیں مگر سب کی آنکھیں بند ہیں۔
یہ ایک ایسا تلخ اور لہو آلود سوال ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے، اور بالخصوص حالیہ بدترین مظالم کے بعد، دنیا بھر کے اربوں انسانوں کے ذہنوں میں ایک سنگین چبھن بن کر گونج رہا ہے۔ جب بھی سکرینوں پر معصوم بچوں کی لاشیں، ہسپتالوں کا ملبہ اور سسکتی انسانیت دکھائی دیتی ہے، تو ایک عام انسان بلبلا اٹھتا ہے کہ کیا واقعی اس سیارے پر آباد آٹھ ارب انسانوں، بڑی بڑی ایٹمی طاقتوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور عالمی قوانین کے رکھوالوں میں اتنی سکت بھی نہیں کہ وہ اسرائیل کا ہاتھ روک سکیں؟ یا پھر پردے کے پیچھے کوئی ایسا کھیل چل رہا ہے جہاں سب مصلحت کی چادر اوڑھے، دانستہ طور پر خاموش اور اندرونی طور پر ایک پیج پر ہیں؟ اس بھیانک المیے کو سمجھنے کے لیے ہمیں جذبات کی عینک اتار کر بین الاقوامی سیاست، طاقت کے توازن اور مفادات کی اس بے رحم شطرنج کو دیکھنا ہوگا جس کے مہرے انسان اور قوانین صرف کاغذ کے ٹکڑے ہیں۔
​نظریاتی طور پر دنیا نے جنگوں کو روکنے اور امن قائم کرنے کے لیے 'اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل' جیسا ادارہ تشکیل دیا تھا، جسے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن عملاً یہ ادارہ ایک ایسا مفلوج ڈھانچہ بن چکا ہے جس کا ریموٹ کنٹرول چند بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ جب بھی دنیا کا کوئی ملک یا سلامتی کونسل کا کوئی رکن اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف کوئی سخت قرارداد لانے، اقتصادی پابندیاں عائد کرنے یا جنگ بندی پر مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے، امریکہ اپنی 'ویٹو پاور' کا خنجر گھونپ کر اس کوشش کو وہیں ذبح کر دیتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ جب تک سلامتی کونسل متفق نہ ہو، کسی ملک کے خلاف کوئی عملی یا فوجی کارروائی ممکن ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ یہ نظام بنایا ہی اس طرح گیا ہے کہ طاقتور اور اس کے لاڈلوں کو قانون کے کٹہرے سے ہمیشہ امان حاصل رہے۔
​عام طور پر عوامی حلقوں میں یہ جملہ کثرت سے بولا جاتا ہے کہ "یہ سب ملے ہوئے ہیں"۔ بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں اس جملے کو "مفادات کا اسیر ہونا" کہا جاتا ہے۔ عالمی سیاست کا پہلا اور آخری اصول یہ ہے کہ یہاں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ دشمن، یہاں صرف اور صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مغربی دنیا، بالخصوص امریکہ اور یورپ، اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی (Strategic) خطے میں اپنے سیاسی اور استعماری مفادات کا نگران سمجھتے ہیں۔ مستزاد یہ کہ امریکہ کی اندرونی سیاست، صدارتی انتخابات اور معیشت پر صہیونی لابی (جیسے AIPAC) کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بھی امریکی صدر یا جماعت اسرائیل کی سرپستی سے پیچھے ہٹنے کا سیاسی خطرہ مول نہیں لے سکتی۔
​دوسری طرف، سب سے بڑا اور جگر سوز المیہ مسلم اور عرب دنیا کا ہے۔ کہنے کو تو عالمِ اسلام ایک بڑی طاقت ہے، لیکن اندرونی طور پر یہ بلاک بری طرح تقسیم اور انتشار کا شکار ہے۔ کئی اہم عرب ممالک اپنے وجود، اندرونی سیکیورٹی اور معاشی بقا کے لیے واشنگٹن کے محتاج ہیں۔ وہ اپنے عوام کے غیظ و غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اخباری بیانات تو بہت سخت اور لچھے دار دیتے ہیں، لیکن پسِ پردہ وہ اپنے تجارتی، سفارتی اور سیکیورٹی تعلقات کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جہاں تک روس اور چین جیسی دوسری بڑی عالمی طاقتوں کا تعلق ہے، تو وہ فلسطینی موقف کی حمایت ضرور کرتی ہیں اور مغربی منافقت پر تنقید بھی کرتی ہیں، لیکن وہ اس بحران کی خاطر امریکہ سے کسی براہِ راست تصادم یا ایسی بڑی معاشی جنگ میں کودنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں جس سے ان کی اپنی معیشت کو نقصان پہنچے۔ وہ اس انسانی المیے کو محض عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو اخلاقی طور پر کمزور کرنے کے لیے ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
​اسرائیل کی اس سرکشی کی ایک بڑی وجہ اس کی معاشی اور تکنیکی برتری بھی ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں اس نے سائبر سیکیورٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جدید ترین مہلک ہتھیاروں اور زرعی ٹیکنالوجی میں خود کو دنیا کے لیے ناگزیر بنا لیا ہے۔ دنیا کے کئی بااثر ممالک (بشمول بعض مسلم ممالک) اندرونی طور پر اسرائیل کے جاسوسی سافٹ ویئرز اور دفاعی سازوسامان پر انحصار کرتے ہیں۔ تاریخ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب آپ کسی کے تکنیکی اور معاشی طور پر محتاج ہو جائیں، تو آپ کی زبانیں خود بخود گنگ ہو جاتی ہیں۔
​موجودہ عالمی منظرنامہ اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ دنیا آج بھی جنگل کے اسی قانون پر چل رہی ہے جہاں "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کا اصول رائج ہے۔ انسانی حقوق، جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی نظمیں صرف کمزور، پسماندہ اور غریب ممالک کو سنانے کے لیے ہیں؛ بڑی طاقتوں کے لیے ان کی حیثیت ردی کے کاغذ سے زیادہ نہیں۔ دنیا میں طاقت کی کوئی کمی نہیں ہے، اگر صرف مسلم ممالک ہی سچائی کے ساتھ اپنے تیل، سرمائے اور اقتصادی بائیکاٹ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیں تو اسرائیل کو چند دنوں میں گھٹنوں پر لایا جا سکتا ہے۔ لہذا، دنیا بے بس یا کمزور نہیں ہے، بلکہ دنیا کے حکمران مفادات، خوف، مصلحت اور اندرونی منافقت کے اسیر ہیں۔ جب تک ضمیروں پر لگی یہ مصلحت کی گرہیں نہیں ٹوٹتیں، عالمی برادری کی یہ مجرمانہ خاموشی ایک ملی بھگت ہی دکھائی دیتی رہے گی اور انسانیت یوں ہی سسکتی رہے گی۔

 

akramsaqib
About the Author: akramsaqib Read More Articles by akramsaqib: 84 Articles with 90098 views I am a poet, writer and dramatist who writes for changing himself... View More