توں ساڈے لئی کیتا ای کی اے؟
(رعنا تبسم پاشا, Dallas, USA)
چاہے کوئی آرمی کا سپاہی ہو یا سمندر پار بسا پردیسی، گھر سے دور رہ کر کمانے والے اور اپنے گھرانے کے واحد کفیل سے لڑکی کی شادی تنہائیوں جدائیوں اور محرومیوں کا سفر ہوتی ہے جس میں کوئی نا محرم تو اس کے آس پاس ہوتا ہے اس کی دلجوئی کے لئے، مگر وہ نہیں جس کے وہ نکاح میں آتی ہے ۔ یہ ہے ہمارا بر صغیری مشترکہ خاندانی نظام جس میں ایک تہجد گزار باپ، بیٹے کے ساتھ ساتھ اپنے داماد کو بھی یہ بھاشن نہیں دیتا کہ بیٹا! بیویاں تو بہت مل جاتی ہیں ماں باپ بہن بھائی پھر نہیں ملتے ۔ جنت اپنی جوتیوں تلے لیے پھرنے والی ماں دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرتی ہے اور اپنی بات منواتی ہے ۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ کسی ماں نے اپنی بیٹی کو بھی دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دی ہو ۔ سو فیصد مردوں کو چار شادیوں والی رعایت کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ حدیث بھی رٹی ہوئی ہے کہ شوہر بلائے اور بیوی انکار کر دے تو فرشتے ساری رات اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ بیوی بلائے اور شوہر نہ آئے بلکہ کئی کئی سال تک اسے اپنی شکل بھی نہ دکھائے تو تب فرشتے کیا کرتے ہیں؟ اس کا جواب کوئی نہیں دیتا ۔ حدیث تو عورت کو دیور سے موت کی طرح ڈرنے اور موت کی طرح اس سے بچنے کی تاکید کے بارے میں بھی ہے اس کی کسی کو کوئی پروا ہوتی تو کوئی جوان جہان بہو اپنے خاوند کے بغیر نا محرم رشتوں کے درمیان پرائیویسی سے محروم اور ان سب کی سیوا کرنے پر مجبور نہ ہوتی ۔ دن رات مصلوں پر پڑے ہوئے اور تسبیح پھرولنے والے نابغے یہی سمجھتے ہیں کہ ہم سے صرف نماز اور روزے ہی کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ خیر ایک فوجی کی بلحاظ رینک سالانہ ایک سے دو ماہ تک کی چھٹیاں ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنی سہولت کے مطابق سال بھر کے دوران تھوڑی تھوڑی کر کے بھی لے سکتا ہے ۔ گھر پر کوئی ایمرجنسی ہو جائے تو بھی فوری چھٹی مل جاتی ہے ناسازگار سرحدی حالات میں بھی ایک سپاہی کئی ماہ تو اپنے گھر سے دور رہ سکتا ہے مگر یہ عرصہ کبھی بھی کئی سالوں پر محیط نہیں ہوتا ۔ مگر اکثر ہی پردیسی اپنی سالانہ چھٹی کے باوجود کئی کئی سال تک گھر نہیں آتے ۔ طرح طرح کے حیلوں ہتھکنڈوں سے انہیں واپس آنے سے روکا جاتا ہے ۔ ذمہ داریوں کے نام پر فرمائشوں اور مطالبات کا طوق ان کے گلے میں پہنا کر اُنہیں وہیں رُکے رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ ایک چھوٹی سی مثال ۔۔۔ کسی پردیسی کی پاکستان میں بہن کی شادی تھی جس کا سارا خرچہ اسی قربانی کے بکرے کی ذمہ داری تھی سب کچھ اس نے کر کے دیا پھر شادی میں شریک ہونے کے لئے اپنا ٹکٹ بھی کرا لیا ۔ بہن کی کال آ گئی کہ اسے مزید کوئی جیولری سیٹ پسند آ گیا تھا اور وہ خریدنے کے لئے اور پیسے مانگ رہی تھی ۔ بھائی نے کہا کہ اب میرے پاس بالکل کوئی پیسے نہیں ہیں کیونکہ میں نے ٹکٹ کرا لیا ہے ۔ بہن نے کہا ٹکٹ واپس کر کے پیسے مجھے بھیج دو شادی تم میری وڈیو میں دیکھ لینا میں بھیج دوں گی ۔ اور پھر اس بیچارے نے ایسا ہی کیا ٹکٹ واپس کر کے پیسے اپنی اس خود غرض اور لالچی بہن کو بھیج دیئے ۔ گھر والوں کو اتنا بے غیرت اور بے حس بنانے میں ہاتھ بھی اِن ہی احمق پردیسی بکروں کا ہوتا ہے اُن کی ڈیمانڈیں پوری کر کر کے اُنہیں بھکاری ہی بنا دیتے ہیں کہ پھر وہ صرف پیسے ہی مانگتے رہتے ہیں ۔ اگلا کیسے مر مر کے جی رہا ہے اس سے اُنہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ جن اوور سیز پر اپنے گھرانے کی بنیادی معاشی ضروریات کے ساتھ ساتھ تعیشات و آسائشات بھی فراہم کرنے کا اتنا بوجھ ہے کہ وہ اپنے نکاح میں آنے والی نیک بخت کے بنیادی حقوق ادا کرنے سے قاصر ہی رہیں گے تو انہیں چاہیے کہ شادی نہ کریں ۔ لیکن اگر کر ہی لی ہے تو اپنی منکوحہ کو آنکھ بند کر کے اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں اور اسے اپنے والدین کا محتاج نہیں بنا کر رکھیں ۔ اس کا الگ سے اکاؤنٹ کھلوا کر اسے ڈائریکٹ پیسے بھیجا کریں کچھ معقول رقم ۔ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ آپ کے بغیر رہ کر آپ کے پورے خاندان کی خدمت کرے اور اسے الگ سے عزت سے کوئی خرچ تک نہ ملے ۔ اور کبھی بھی گھر پر اپنی پوری کمائی نہیں بھیجیں تھوڑی بہت اپنے لئے بھی سنبھال کر رکھیں ۔ اپنے آڑے وقتوں اور بڑھاپے کو محفوظ بنانے کی تدبیر کریں ۔ اپنے سگے خون کے رشتوں پر اندھا اعتبار کرنے والا اور اپنی خون پسینے کی کُل کمائی ان پر لُٹا دینے والا ہر اوور سیز آج نشانِ عبرت بنا ہوا ہے آپ بھی کچھ سبق حاصل کریں ۔ اور پورے قبیلے کی اندھا دھند کفالت کے خبط سے باہر آنے کی کوشش کریں کوئی تمغہ نہیں ملنے والا ورنہ تیس چالیس سال بعد آپ بھی یہی سنیں گے کہ توں ساڈے لئی کیتا ای کی اے؟
✍🏻 رعنا تبسم پاشا |
|