صحت کا تحفظ، زندگیاں بچانے اور تمباکو سے پاک مستقبل کی جانب ایک قدم
(Atta ur Rehman Qureashi, Islamabad)
صحت کا تحفظ، زندگیاں بچانے اور تمباکو سے پاک مستقبل کی جانب ایک قدم
عالمی یومِ انسدادِ تمباکو ہر سال 31 مئی کو منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے صحت، معاشرے، ماحول اور معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے زیرِ اہتمام منایا جانے والا یہ دن حکومتوں، سماجی تنظیموں، طبی ماہرین اور عوام کو تمباکو کے استعمال میں کمی لانے اور انسانی صحت کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کی ترغیب دیتا ہے۔
تمباکو نوشی دنیا بھر میں قابلِ تدارک اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج اور سانس کی دائمی بیماریوں سمیت تمباکو سے وابستہ بیماریوں کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ صرف تمباکو استعمال کرنے والے افراد ہی نہیں بلکہ دوسرے افراد بھی، جو تمباکو کے دھوئیں کی زد میں آتے ہیں، سنگین صحتی خطرات کا شکار ہو جاتے ہیں، خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگ۔
پاکستان میں تمباکو کا استعمال ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ سگریٹ نوشی، نسوار، گٹکا اور دیگر تمباکو مصنوعات نوجوانوں اور بڑوں دونوں میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ نوجوان نسل میں تمباکو کے بڑھتے ہوئے رجحان نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ تمباکو صنعت مختلف طریقوں سے نوجوانوں کو اپنی مصنوعات کی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
تمباکو کے نقصانات صرف انسانی صحت تک محدود نہیں۔ تمباکو کی کاشت جنگلات کی کٹائی، زمین کی زرخیزی میں کمی، پانی کے بے دریغ استعمال اور کیمیائی آلودگی کا باعث بنتی ہے۔ سگریٹ کے فلٹر اور ٹکڑے دنیا بھر میں کچرے کی سب سے عام اقسام میں شمار ہوتے ہیں جو ماحول اور آبی وسائل کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
عالمی یومِ انسدادِ تمباکو اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمباکو کے خلاف مؤثر قوانین، تمباکو مصنوعات پر زیادہ ٹیکس، اشتہارات پر پابندی، عوامی مقامات کو دھواں سے پاک بنانا، پیکنگ پر نمایاں صحتی انتباہات اور عوامی آگاہی مہمات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیمیں بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تمباکو سے پاک معاشرے کا قیام حکومت، سول سوسائٹی، والدین، اساتذہ اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جو افراد تمباکو نوشی ترک کرتے ہیں وہ نہ صرف اپنی صحت بہتر بناتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانا ایک صحت مند اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
عالمی یومِ انسدادِ تمباکو کے موقع پر ہمیں اس عزم کی تجدید کرنی چاہیے کہ ہم تمباکو کے استعمال کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے، صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، صحت مند اور تمباکو سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔ |
|
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.