کراچی کے محنت کش اور کوٹہ سسٹم کے ستائے شہری کب تک نظر انداز ہوتے رہیں گے؟
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
کراچی پاکستان کا معاشی مرکز، ریونیو پیدا کرنے والا سب سے بڑا شہر اور لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مسکن ہے۔ لیکن افسوس کہ یہی شہر دہائیوں سے کوٹہ سسٹم اور معاشی ناانصافیوں کا شکار ہے۔ کراچی کے نوجوان ایک طرف سرکاری ملازمتوں میں محدود مواقع کی وجہ سے محروم رہتے ہیں، تو دوسری طرف نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی ان کا جائز حق نہیں ملتا۔
کوٹہ سسٹم کے باعث کراچی کے بے شمار قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان سرکاری ملازمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ میرٹ پر مقابلہ کرنے والے ہزاروں نوجوان صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کے حصے کی نشستیں محدود کر دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً کراچی کی اکثریت نجی شعبے میں ملازمت کرنے پر مجبور ہے۔
دوسری جانب ہر سال بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف تنخواہوں میں اضافہ ملتا ہے بلکہ یہ اضافہ بقایا جات (Arrears) کے ساتھ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ لیکن نجی شعبے کے ملازمین، خصوصاً کراچی کے محنت کش طبقے، اس حق سے اکثر محروم رہتے ہیں۔ کئی نجی اداروں میں دو دو سال گزر جاتے ہیں مگر بجٹ کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔
آج بھی کراچی میں ہزاروں لوگ 30 سے 35 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں، جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بجلی، گیس، پانی، کرایوں، تعلیم اور علاج کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف چند سو روپے کا اضافہ کسی مذاق سے کم نہیں۔ حالیہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے معمولی اضافہ اس احساس محرومی کو مزید بڑھاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جو شہر ملکی معیشت کو سہارا دیتا ہے، اس کے شہریوں کو ان کا حق کب ملے گا؟ کب کراچی کے نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر برابر مواقع دیے جائیں گے؟ کب نجی شعبے کے ملازمین کے لیے ایسے قوانین بنیں گے جو انہیں بجٹ کے مطابق تنخواہوں میں اضافے اور دیگر سہولیات کی ضمانت دیں؟
وقت آ گیا ہے کہ حکومت کراچی کے محنت کش طبقے، نجی ملازمین اور کوٹہ سسٹم سے متاثرہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھے۔ معاشی انصاف اور مساوی مواقع ہی ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
کراچی کے شہری کسی رعایت کے نہیں، اپنے جائز حق کے طلبگار ہیں۔ |