میٹرک کے بعد نوکری نہیں، کمائی: پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کی ضرورت

پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو برسوں تک ڈگریوں کے حصول میں مصروف رکھتا ہے، لیکن اکثر انہیں عملی زندگی اور کمائی کے قابل نہیں بناتا۔ نتیجتاً لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار کے منتظر رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو صرف ملازمت کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ خود انحصاری اور معاشی خودمختاری کا راستہ بنایا جائے۔

اگر ابتدائی تعلیم کے بعد طلبہ کو عملی اور فنی مہارتیں سکھائی جائیں اور میٹرک تک پہنچتے پہنچتے ہر نوجوان کسی نہ کسی ہنر میں ماہر ہو جائے، تو وہ فوراً کمانے کے قابل ہو سکتا ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ میٹرک کے ساتھ ہی نوجوان کی کمائی بھی شروع ہو جائے، تاکہ وہ عزتِ نفس، خود اعتمادی اور ذمہ داری کے ساتھ عملی زندگی میں قدم رکھے۔

ایک ایسا نظام جو نوجوانوں کو ڈگری کے ساتھ ہنر اور ہنر کے ساتھ آمدنی دے، نہ صرف بے روزگاری کم کرے گا بلکہ پاکستان کو ایک زیادہ مضبوط، خود کفیل اور خوشحال قوم بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔


پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے سب سے قیمتی اثاثے، یعنی نوجوان، بے پناہ صلاحیتیں رکھنے کے باوجود معاشی طور پر غیر فعال اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ عام طور پر بے روزگاری کو روزگار کے مواقع کی کمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف بے روزگاری نہیں، بلکہ ایسا تعلیمی نظام ہے جو نوجوانوں کو زندگی کے اہم ترین سالوں میں کمانے، پیدا کرنے اور معاشی طور پر خودمختار بننے کے بجائے صرف ڈگریاں جمع کرنے میں مصروف رکھتا ہے۔

ایک بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے، پھر کالج اور یونیورسٹی کے مراحل طے کرتا ہے، اور اکثر 22 سے 26 سال کی عمر تک پہنچ کر بھی معاشی طور پر اپنے والدین پر انحصار کر رہا ہوتا ہے۔ اس دوران اس نے درجنوں امتحانات پاس کیے ہوتے ہیں، سینکڑوں کتابیں پڑھی ہوتی ہیں اور کئی اسناد حاصل کر لی ہوتی ہیں، لیکن اکثر وہ کوئی ایسا عملی ہنر نہیں سیکھ پاتا جس کے ذریعے اپنی روزی کما سکے یا اپنے لیے کاروبار کا راستہ ہموار کر سکے۔ یوں ایک نوجوان اپنی زندگی کے سب سے متحرک اور تخلیقی سال انتظار میں گزار دیتا ہے—انتظار ایک ملازمت کا، جو شاید اسے ملے یا نہ ملے۔

یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا تعلیم کا مقصد صرف ملازمت کے امیدوار پیدا کرنا ہے، یا ایسے افراد تیار کرنا ہے جو اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کے لیے قدر پیدا کریں، معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور باعزت روزی کما سکیں؟

بدقسمتی سے ہمارا موجودہ تعلیمی نظام زیادہ تر نوجوانوں کو ملازمت کے متلاشی بناتا ہے، جبکہ جدید دنیا ان افراد کو اہمیت دے رہی ہے جو مسائل حل کر سکیں، مصنوعات تیار کر سکیں، خدمات فراہم کر سکیں اور خود اپنے لیے مواقع پیدا کر سکیں۔ آج دنیا کی کامیاب معیشتیں صرف یونیورسٹی ڈگریوں پر نہیں بلکہ فنی مہارت، ہنرمندی، چھوٹے کاروباروں اور تکنیکی تعلیم پر استوار ہیں۔

اس پس منظر میں پاکستان کو اپنے تعلیمی فلسفے پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ابتدائی پانچ سال بچوں کو بنیادی تعلیم، زبان، ریاضی، اخلاقیات، کردار سازی، نظم و ضبط، ذمہ داری اور شہری شعور سکھانے کے لیے وقف ہونے چاہئیں۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ایک ذمہ دار اور باشعور انسان کی شخصیت تعمیر ہوتی ہے۔

اس کے بعد اگلے پانچ سالوں میں تعلیم کا مرکز صرف کتابی علم نہیں بلکہ عملی مہارتیں ہونی چاہئیں۔ ہر طالب علم کو اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق کم از کم ایک قابلِ فروخت ہنر سکھایا جائے۔ کوئی الیکٹریشن بنے، کوئی پلمبر، کوئی سولر ٹیکنیشن، کوئی ہارڈویئر یا موبائل ریپیئرنگ کا ماہر، کوئی درزی، کوئی ویلڈر، کوئی گرافک ڈیزائنر، کوئی ڈیجیٹل مارکیٹر، کوئی ایکسپورٹ کا ماہر، اور کوئی چھوٹی صنعتوں سے متعلق مصنوعات تیار کرنے کا ہنر سیکھے۔

اسی طرح نوجوانوں کو پلاسٹک کی مصنوعات، کاغذی اشیاء، سرف، شیمپو، صابن، صفائی کی مصنوعات، پیکنگ میٹریل، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ اور دیگر گھریلو و صنعتی اشیاء تیار کرنے کی عملی تربیت دی جا سکتی ہے۔ یہ وہ صنعتیں ہیں جن میں کم سرمایہ کاری کے ساتھ بھی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے اور جن کی مقامی و بین الاقوامی سطح پر مستقل طلب موجود رہتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ تربیت صرف نصابی کتابوں تک محدود نہ رہے۔ طلبہ کو عملی ورکشاپس، صنعتوں، فیکٹریوں، کاروباری مراکز اور تربیتی اداروں کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ انہیں حقیقی ماحول میں کام کرنے، مصنوعات بنانے، فروخت کرنے، گاہکوں سے رابطہ رکھنے اور منافع و نقصان کو سمجھنے کا موقع دیا جائے۔ تعلیم اور صنعت کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس نظام کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جیسے ہی ایک نوجوان میٹرک مکمل کرے، اس کی کمائی بھی شروع ہو جائے۔ میٹرک صرف ایک تعلیمی سند نہ ہو بلکہ معاشی خودمختاری کا نقطۂ آغاز ہو۔ نوجوان اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں ہی سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو، اپنے خاندان کا سہارا بن سکے اور عزتِ نفس کے ساتھ معاشرے میں اپنا مقام بنا سکے۔

جب ایک نوجوان اپنی محنت سے پہلی آمدنی حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر صرف پیسہ نہیں آتا، بلکہ خود اعتمادی، ذمہ داری، خود انحصاری اور مقصدیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے فیصلے خود کرنے لگتا ہے، اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے اور معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے اس کے لیے ایک مثبت قوت بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، طویل معاشی انحصار اکثر مایوسی، احساسِ محرومی اور بے یقینی کو جنم دیتا ہے۔

مزید تعلیم حاصل کرنا یقیناً اہم ہے، لیکن اسے روزگار کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان کام کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے جہاں ایک نوجوان دن میں کام کرے اور شام یا آن لائن اپنی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ اس طرح وہ بیک وقت علم بھی حاصل کرے گا، تجربہ بھی اور آمدنی بھی۔

اس تعلیمی ماڈل کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہوگا کہ نوجوانوں کی سوچ صرف سرکاری یا نجی ملازمت تک محدود نہیں رہے گی۔ وہ خود کاروبار شروع کرنے، دوسروں کو روزگار فراہم کرنے اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کے قابل ہوں گے۔ یوں ایک نوجوان صرف نوکری تلاش کرنے والا نہیں بلکہ معاشی سرگرمی پیدا کرنے والا فرد بن جائے گا۔

پاکستان کو آج صرف ڈگری ہولڈرز کی نہیں بلکہ ہنر مند، خود مختار، بااعتماد اور تخلیقی نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے تعلیمی نظام کو "ڈگری سے روزگار" کے بجائے "ہنر سے کمائی" کے اصول پر استوار کر دیا تو بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی، غربت کم ہوگی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار فروغ پائیں گے، درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور ملکی معیشت کو ایک نئی سمت ملے گی۔

یہ صرف تعلیمی اصلاحات کا معاملہ نہیں؛ یہ قومی بقا، معاشی خودمختاری اور نوجوان نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ صرف ڈگریاں نہ دے بلکہ نوجوانوں کو کمانے، پیدا کرنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بھی بنائے۔

کیونکہ ایک قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب اس کے نوجوان صرف تعلیم یافتہ نہیں، بلکہ باصلاحیت، ہنرمند اور معاشی طور پر خودمختار بھی ہوں۔

 

Sumaira Tabassum
About the Author: Sumaira Tabassum Read More Articles by Sumaira Tabassum: 4 Articles with 353 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.