پاکستان چین تعلقات کے 75 برس اور تعاون کے نئے امکانات
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
پاکستان چین تعلقات کے 75 برس اور تعاون کے نئے امکانات تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ
چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے پچھتر برس مکمل ہونے پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات تیزی سے ابھر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آزمودہ دوستی اور باہمی اعتماد پر استوار تعلقات اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں توجہ صرف بنیادی ڈھانچے اور روایتی اقتصادی تعاون تک محدود نہیں بلکہ سبز ترقی، جدید ٹیکنالوجی، اختراعات، زراعت، صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے شعبوں تک پھیل چکی ہے۔ پاک چین تعلقات کا یہ نیا مرحلہ نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا بلکہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے باہمی تعاون کی ایک کامیاب مثال بھی بن سکتا ہے۔
اس شراکت داری کا ایک نمایاں مظہر چین پاکستان اقتصادی راہداری ہے، جو اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سی پیک نے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا جبکہ اب توجہ صنعتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، زرعی ترقی اور عوامی روابط پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ سی پیک 2.0 مشترکہ مستقبل کے حامل پاک چین معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنائے گی۔
زرعی شعبہ بھی تعاون کے ایک نئے محور کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف زرعی منصوبوں کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بعض منصوبوں میں کسانوں کی آمدنی روایتی فصلوں کے مقابلے میں دو سے تین گنا تک بڑھی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ پاک چین تعاون اب صرف بڑے ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیہی ترقی، زرعی پیداوار اور عوامی بہبود تک بھی پھیل چکا ہے۔
چین کو پاکستان کی بڑی برآمدات میں زرعی مصنوعات کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے پاکستان کو قابل ذکر تجارتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کا مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سبز ترقی اور ماحول دوست معیشت بھی مستقبل کے تعاون کا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے۔ قابل تجدید توانائی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحولیاتی استحکام کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو سی پیک کے اگلے مرحلے میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا جا سکے اور فوسل ایندھن پر انحصار کم ہو۔
تحقیقی حلقوں کے مطابق پاکستان کے توانائی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ملک گیر شمسی توانائی کے نیٹ ورک کو فروغ دینے میں چین کا تجربہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز کو ماحول دوست صنعتی پارکس میں تبدیل کرنے کی تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں تاکہ صنعتی ترقی کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں بھی تعاون کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ فائیو جی، مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کی مہارت پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو جدید ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے جبکہ مقامی اسٹارٹ اپس کو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے مختلف مشترکہ اقدامات جاری ہیں۔
اسی طرح خلائی تحقیق، جدید مینوفیکچرنگ اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبے مستقبل کے تعاون کے نئے میدان بن رہے ہیں۔ رواں سال پاکستان کے خلا باز کی چینی خلائی اسٹیشن پروگرام میں شمولیت کے اعلان کو دونوں ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاک چین تعلقات اب روایتی اقتصادی تعاون سے آگے بڑھ کر جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں تک پہنچ چکے ہیں۔
صنعتی تعاون کے حوالے سے بھی نئی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے صنعتی پیداوار، الیکٹرانکس، شمسی توانائی کے آلات، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں اور صارفین کی ضروریات سے متعلق مصنوعات کی تیاری میں تعاون بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سے پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اقتصادی اور صنعتی تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تعلیمی اور عوامی روابط بھی مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ تعلیم، انسانی وسائل کی ترقی، ثقافتی تبادلوں اور مشترکہ تخلیقی منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہے ہیں۔ اسی طرح علاقائی اور عالمی امور میں بھی دونوں ممالک کا تعاون مضبوط ہو رہا ہے، جس سے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔
پاک چین سفارتی تعلقات کے پچھتر برس اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے ہیں۔ سی پیک 2.0 اور تعاون کے نئے شعبے اس دوستی کو ایک نئی جہت دے رہے ہیں۔ سبز ترقی، جدید ٹیکنالوجی، صنعتی تعاون اور عوامی روابط پر مبنی یہ شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کی ایک کامیاب اور پائیدار مثال بھی قائم کرے گی۔ |
|