غم نہ داری بز بشر اگر اپ کے پاس کوئی غم نہیں ہے تو اپ امتیاز سپر سٹور سے کوئی بھی چیز خرید کے دیکھ لیں

سوا لاکھ کا ریفریجریٹر اور چند روپے کی کسٹمر سروس
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
میرے ایک دوست اکثر کہا کرتے تھے کہ کسی بھی کمپنی کی اصل پہچان اس کی اشتہاری مہم، بلند و بالا عمارتیں یا چمکتے ہوئے شوروم نہیں ہوتے بلکہ اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کی مصنوعات میں خرابی پیدا ہو جائے اور ایک پریشان گاہک اس کے دروازے پر دستک دے۔ اگر اس وقت کمپنی گاہک کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو وہ ادارہ کامیاب ہے، اور اگر گاہک کو دروازے دروازے دھکے کھانے پڑیں تو سمجھ لیجیے کہ کمپنی کی تمام چمک دمک محض ایک پردہ ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے میرا ذاتی تجربہ بھی کچھ ایسا ہی رہا ہے جس نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ میرے بیٹے نے، جو بیرون ملک مقیم ہے، پاکستان آنے سے قبل اپنے والدین کی سہولت کے لیے اسلام آباد کے ایک معروف سپر اسٹور سے ایک معروف برانڈ کا ریفریجریٹر خریدا۔ قیمت کوئی معمولی نہیں تھی، تقریباً سوا لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم ادا کی گئی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ گھر میں ایک معیاری چیز آئے اور والدین کو سہولت ملے۔
لیکن جب ریفریجریٹر گھر پہنچا تو اس کی باڈی پر ڈینٹ موجود تھا۔ ہم نے سوچا کہ نقل و حمل کے دوران کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے، اس لیے اس خامی کو نظر انداز کر دیا۔ مگر اصل حیرت اس وقت ہوئی جب مشین کو چلایا گیا۔ اوپر والا حصہ کسی حد تک کام کر رہا تھا لیکن نیچے والا حصہ مکمل طور پر ناکارہ تھا۔ گویا ایک بالکل نئی مشین اپنے بنیادی مقصد کو پورا کرنے سے قاصر تھی۔
اب ایک عام آدمی کیا کرتا؟ وہ کمپنی سے رابطہ کرتا ہے، شکایت درج کرواتا ہے اور امید کرتا ہے کہ مسئلہ فوری حل ہو جائے گا۔ ہم نے بھی یہی کیا۔ لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہمارے ملک میں کسٹمر سروس کے مجموعی معیار کی ایک افسوسناک تصویر پیش کرتا ہے۔
تین دن تک مختلف لوگ آتے رہے۔ کوئی تصاویر بناتا رہا، کوئی مشین کو دیکھتا رہا، کوئی رپورٹ تیار کرتا رہا اور کوئی یہ یقین دہانی کرواتا رہا کہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مگر مسئلہ حل نہ ہوا۔ میں سوچتا رہا کہ آخر یہ سب لوگ کس لیے آ رہے ہیں؟ اگر مشین واقعی خراب ہے تو اسے واپس لے جائیں اور نئی دے دیں، اور اگر خراب نہیں ہے تو واضح طور پر بتا دیں۔ لیکن درمیان کی کیفیت سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔
اس دوران ایک عجیب منطق بھی سننے کو ملی۔ کہا گیا کہ اگر ریفریجریٹر کا گتے والا ڈبہ موجود ہوتا تو شاید تبدیلی آسان ہو جاتی۔ میں نے عرض کیا کہ حضور! گتے کے ڈبے نے ریفریجریٹر کو ٹھنڈا کرنا تھا یا مشین نے؟ اگر مشین خراب ہے تو اس کا ڈبہ کس طرح اسے درست ثابت کر سکتا ہے؟ اور اگر مشین درست ہے تو پھر خرابی کہاں سے آ گئی؟
یہ وہ سوال ہے جو شاید لاکھوں پاکستانی صارفین کے ذہن میں بھی آتا ہوگا۔ ہمارے ہاں بعض اوقات اصل مسئلے کو چھوڑ کر ایسی تکنیکی باتوں میں الجھا دیا جاتا ہے جن کا خرابی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گاہک خود کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔
مجھے اپنی عملی زندگی یاد آ گئی۔ میں نے کئی دہائیاں جنرل موٹرز، آڈی، ووکس ویگن، ہونڈا اور ہنڈائی جیسے اداروں میں کام کرتے ہوئے گزاری ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کسٹمر سروس کے نظام کو قریب سے دیکھا ہے۔ وہاں اصول بہت سادہ ہے۔ اگر نئی مصنوعات میں فیکٹری فالٹ نکل آئے تو سب سے پہلے گاہک کو ریلیف دیا جاتا ہے۔ بعد میں کمپنی اپنی اندرونی تحقیقات کرتی رہے، وہ اس کا مسئلہ ہے۔ گاہک کو کبھی اس عمل کا یرغمال نہیں بنایا جاتا۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں معاملہ الٹا نظر آتا ہے۔ یہاں بعض ادارے پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خرابی گاہک کی وجہ سے ہوئی ہے، پھر اگر گاہک ثابت قدم رہے تو کہیں جا کر اس کی بات سنی جاتی ہے۔
اس سارے واقعے نے مجھے ایک اور اہم پہلو کی طرف متوجہ کیا۔ بیرون ملک پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں۔ یہی زرمبادلہ ہماری معیشت کا اہم ستون ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور عزیزوں کے لیے پاکستان میں اشیائے ضرورت خریدتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ معروف برانڈز اور بڑے ادارے ان کے اعتماد کا احترام کریں گے۔ لیکن جب انہیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کے دل میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کس پر اعتماد کریں؟
اصل مسئلہ سوا لاکھ روپے کے ایک ریفریجریٹر کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اعتماد کا ہے۔ اعتماد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا اور ایک لمحے میں ٹوٹ جاتا ہے۔ کسی ادارے کو اپنی ساکھ بنانے میں برسوں لگ جاتے ہیں لیکن ایک خراب تجربہ سینکڑوں اشتہارات پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ پہلے زمانے میں ایک ناراض گاہک اپنے چند دوستوں کو شکایت سناتا تھا۔ آج ایک ناراض صارف ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے دانشمند کمپنیاں شکایت کو بوجھ نہیں بلکہ بہتری کا موقع سمجھتی ہیں۔
میں یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس تحریر کا مقصد کسی فرد یا ادارے کی تضحیک نہیں۔ جہاں خامی ہو وہاں نشاندہی ہونی چاہیے اور جہاں اچھا رویہ ہو وہاں اس کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ بعض نمائندوں نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا، رابطے کیے اور مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی کوشش کی۔ لیکن آخرکار گاہک کو نتیجہ چاہیے ہوتا ہے، صرف تسلیاں نہیں۔
میرے نزدیک کسی بھی کمپنی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ شکایت کو دشمنی نہ سمجھے۔ شکایت دراصل وہ آئینہ ہے جس میں ادارہ اپنی کمزوریاں دیکھ سکتا ہے۔ جو کمپنیاں اس آئینے کو توڑ دیتی ہیں وہ اپنی اصلاح کا راستہ بند کر دیتی ہیں، اور جو کمپنیاں اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان میں صارفین کے حقوق کے حوالے سے بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب ایک صارف اپنی محنت کی کمائی خرچ کر کے نئی چیز خریدتا ہے تو اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر مصنوعات میں فیکٹری فالٹ نکل آیا تو اس کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اسے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے، اسے مختلف بہانوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور اسے اپنے حق کے لیے مہینوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
دنیا بھر میں کامیاب اداروں نے ایک اصول اپنا رکھا ہے: “کسٹمر کو کبھی نقصان نہ ہونے دو۔” اگر پاکستان میں بھی یہ اصول اپنایا جائے تو نہ صرف کمپنیاں مضبوط ہوں گی بلکہ صارفین کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
آخر میں میری گزارش صرف اتنی ہے کہ ہمارے بڑے ادارے یہ سمجھیں کہ گاہک ان پر احسان نہیں کرتا بلکہ ان کے وجود کا سبب بنتا ہے۔ ایک ناراض گاہک صرف ایک شکایت نہیں بلکہ ایک وارننگ ہوتا ہے۔ اگر اس کی آواز سن لی جائے تو ادارہ مضبوط ہوتا ہے، اور اگر اسے نظر انداز کر دیا جائے تو نقصان صرف ایک سیل کا نہیں بلکہ پوری ساکھ کا ہوتا ہے۔
سوا لاکھ روپے کے ایک ریفریجریٹر کا مسئلہ شاید چند دنوں میں حل ہو جائے، لیکن اس واقعے نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا پاکستان میں صارف واقعی بادشاہ ہے، یا صرف اشتہاروں میں بادشاہ دکھایا جاتا ہے؟
یہ سوال صرف ایک کمپنی کے لیے نہیں، ہم سب کے لیے ہے۔ کیونکہ جب تک صارف کا احترام نہیں ہوگا، اعتماد کا بحران ختم نہیں ہوگا، اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو بڑے سے بڑا برانڈ بھی صرف ایک نام بن کر رہ جاتا ہے۔
Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 421 Articles with 419903 views I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More