ابسیلوٹلی ناٹ سے لندن تک

(Syed Azar, Karachi)

اڈیالہ سے لندن تک

*ابسیلوٹلی ناٹ سے لندن تک!*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان 5 اگست 2023 سے مسلسل قید کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں ابتدائی طور پر اٹک جیل منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں ستمبر 2023 میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس طویل قید نے نہ صرف عمران خان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ملکی سیاست کے پورے منظرنامے کو بھی تبدیل کر دیا۔ جیل جانے سے پہلے ان کے بیانیے کو شاید اتنی مقبولیت نہ ملی تھی جتنی قید کے بعد حاصل ہوئی۔ "کپتان ڈٹ کے کھڑا ہے" کا نعرہ عوام کے دلوں میں گہری جگہ بنا چکا ۔ یہ بیانیہ استقامت، اصولوں پر ڈٹ جانے اور سمجھوتے سے انکار کی علامت بن گیا، جس کا سب سے واضح مظاہرہ 2024 کے عام انتخابات میں دیکھنے کو ملا۔
انتخابات میں تحریک انصاف نے، حالانکہ بغیر الیکشن نشان کے اور بے شمار رکاوٹوں کے باوجود، حیران کن کارکردگی دکھائی۔ عوام نے ووٹ دے کر یہ پیغام دیا کہ وہ عمران خان کے بیانیے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ مقبولیت اقتدار تک رسائی کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکی۔ کیونکہ سیاست میں مقبولیت کے ساتھ ساتھ "قبولیت" بھی ضروری ہے۔ طاقت کے مراکز میں قبولیت نہ ہونے کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت کے باوجود اقتدار ان کے حصے میں نہیں آیا۔ یہ حقیقت اب سب کے سامنے ہے کہ صرف عوامی حمایت ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ نظام کے اندر موجود طاقت کے توازن کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ تحریک انصاف کی نومولود قیادت اپنے بانی کو رہا کرانے میں ناکام رہی۔ کئی کوششیں، احتجاج اور قانونی لڑائیاں ہوئیں، مگر نتیجہ صفر رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اب عمران خان کو بھی دیوار پر لکھا صاف نظر آ رہا ہے۔ ملکی سیاست میں عملی جگہ بنانے کے لیے لچک دکھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ یہ مقبولیت اب تک انہیں کون سا ریلیف دے سکی ہے؟ جیل کی سلاخیں اب بھی وہیں ہیں، مقدمات ختم نہیں ہوئے اور سیاسی منظرنامہ اب بھی پیچیدہ ہے۔
اس پس منظر میں دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو نئے میثاق جمہوریت کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ کچھ ماہ سے بیک ڈور رابطوں کی خبریں زوروں پر تھیں۔ یہ رابطے تحریک انصاف کے لیے کچھ گنجائش نکالنے میں کامیاب نظر آ رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کا حکم دے دیا اور بلے کا انتخابی نشان بھی واپس مل گیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی سطح پر کچھ نہ کچھ نرم رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کے لیے فضا سازگار ہو رہی ہے یا عمران خان کو خود یہ سمجھ آ گئی ہے کہ لچک دکھائے بغیر رہائی یا کوئی بڑا ریلیف ممکن نہیں؟ باخبر حلقوں سے جو اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، ان کے مطابق آنے والے وقت میں عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے لندن بھیجے جانے کا امکان ہے۔ یہ ریلیف عدالت کے ذریعے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے بدلے میں تحریک انصاف کو کچھ سیاسی یقین دہانیاں دینی ہوں گی۔ مثلاً 2027 کے بجٹ کے پیش کیے جانے کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان اور لیول پلیئنگ فیلڈ کی ضمانت۔
یہ ممکنہ سمجھوتہ "ابسیلوٹلی ناٹ" کے سخت بیانیے سے "لندن" تک کا سفر دکھاتا ہے۔ جہاں ایک طرف عمران خان نے قید میں رہتے ہوئے کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا واضح پیغام دیا تھا، وہیں اب عملی سیاست کے تقاضوں نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا لگتا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ حالات کے جبر کا نتیجہ ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ خالص مقبولیت کے بل پر طویل مدت تک جیل کی دیواروں سے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔
اس مفاہمت کی راہ میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ عمران خان کا بیانیہ اب تک "اصولوں پر ڈٹ جانے" پر مبنی رہا ہے۔ اگر لچک دکھائی گئی تو کیا یہ بیانیہ متاثر ہو گا؟ عوام کیسا ردعمل دیں گے؟ دوسری طرف اگر لچک نہ دکھائی گئی تو کیا قید کا سلسلہ جاری رہے گا؟ یہ دونوں انتہائیں خطرناک ہیں۔ ایک طرف سیاسی موت کا خطرہ تو دوسری طرف بیانیے کی موت کا۔
حالیہ پیش رفتیں بتاتی ہیں کہ تحریک انصاف اب صرف احتجاج اور عدالتوں پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ بیک ڈور اور سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ آزاد کشمیر کا فیصلہ اسی کا حصہ لگتا ہے۔ اگر لندن والا آپشن حقیقت بنتا ہے تو یہ نہ صرف عمران خان کی صحت کے لیے اہم ہو گا بلکہ تحریک انصاف کے لیے سیاسی طور پر بھی ایک بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے تحریک انصاف کو واضح یقین دہانیاں دینی ہوں گی کہ وہ مستقبل میں نظام کے ساتھ مکمل تعاون کریں گی اور کوئی غیر آئینی راستہ اختیار نہیں کریں گی۔
آنے والے دنوں میں مفاہمت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ سب کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو کیا یہ مستقل ہو گا یا صرف عارضی ریلیف؟ کیا تحریک انصاف اس سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ منظم ہو پائے گی؟ یا پھر یہ محض وقت خریدنے کی کوشش ہو گی؟
ملکی سیاست میں یہ مرحلہ بہت نازک ہے۔ عمران خان کی مقبولیت اب بھی اپنی جگہ ہے، مگر اسے استعمال کرنے کا طریقہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سخت بیانیہ عوام کو متاثر کرتا ہے مگر اقتدار تک پہنچنے کے لیے لچک اور مصالحت بھی ضروری ہے۔ "ابسیلوٹلی ناٹ" سے "لندن" تک کا یہ سفر تحریک انصاف کے لیے ایک نئی حقیقت کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سفر احتیاط سے طے کیا گیا تو نہ صرف بانی تحریک انصاف کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ پارٹی بھی ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی قیادت اس نازک موڑ پر کس حکمت عملی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کیا وہ اصولوں سے ہٹ کر بھی قومی مفاد میں فیصلہ کر سکتے ہیں؟ یا پھر وہی پرانا بیانیہ جاری رکھیں گے؟ وقت ہی بتائے گا کہ مفاہمت کا یہ اونٹ کس طرف جھکتا ہے اور تحریک انصاف کی سیاست کو کس نئی راہ پر لے جاتا ہے۔

 

Syed Azar
About the Author: Syed Azar Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.