میں نے پوچھا۔۔۔ خاموش کیوں ہو۔۔۔؟ میں نے پوچھا: "خاموش کیوں ہو۔۔۔؟" تیرے لبوں کی جنبش دل کو قرار دیتی ہے۔ تنہائی میں سُر بن کر سریلے گیت سناتی ہے۔ جذبوں کی صدا بن کر سنگِ دل کو موم کر جاتی ہے۔ درد و غم کی آہ بن کر احساس جگاتی ہے۔ ظلم و قہر کی آگ کو گلزار بنا دیتی ہے۔ ابر و گل کی خوشبو بن کر ہر سو بکھر جاتی ہے۔ محبت کی زبان بن کر دلوں کا حال بیان کر جاتی ہے۔ بولو! خاموش کیوں ہو۔۔۔؟ تیرے لبوں کی جنبش دل کے مرض کی دوا بن کر شفا دیتی ہے۔ لفظوں کی صورت حالِ دل بیان کر جاتی ہے۔ سمندر کی موج بن کر قلب میں اک شور اٹھاتی ہے۔ نغمہ و ساز بن کر تنہائی کو آواز دیتی ہے۔ بے بسی اور غلامی کی زنجیریں توڑ دیتی ہے۔ امن کا پیام بن کر بہارِ نو کے خزانے لٹا دیتی ہے۔ خدا کے لیے! بولو، خاموش کیوں ہو۔۔۔؟ تیرے لبوں کی جنبش غموں کی ڈھال بن کر خوشیوں کی نوید لاتی ہے۔ مصنف کے قلم کو زندگی بخشتی ہے۔ معلم کے علم کی صورت ذہنوں میں اتر جاتی ہے۔ قاری کے لیے قرار بن کر خدا کا کلام سناتی ہے۔ علم کی تلوار بن کر جہالت کا سر قلم کر جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ... تیرے لبوں کی جنبش اثر آفریں ہو جاتی ہے۔ خدا کی قسم! وہ رونے لگا، پھر گویا ہوا: "تیرے ہونٹوں سے جھڑنے والے موتی، زندگی نامی حسین دلہن کا زیور ہیں، اور میری خاموشی اسی زیور کا حسن ہے۔ تم سمندر کے کنارے جاؤ اور اس سے پوچھو کہ یہ شور کیسا ہے؟ تب معلوم ہوگا کہ شور تو لہریں کرتی ہیں، سمندر تو خاموش رہتا ہے۔ اگر پھر بھی نہ سمجھ سکو تو سیاہ رات کی تاریکی سے پوچھو کہ یہ سناٹا کیسا ہے؟ تب جان جاؤ گی کہ یہی رات کی جوانی کا حسن ہے۔ چاند اور تاروں سے پوچھو۔ کلیوں اور گلابوں سے پوچھو۔ ہمت ہو تو آفتاب سے نظریں ملا کر پوچھو کہ وہ خاموش رہ کر بھی کائنات کو روشنی کیوں دیتا ہے۔ اس دھرتی سے پوچھو کہ وہ ظالموں کا بوجھ اٹھا کر بھی خاموش کیوں رہتی ہے۔ اگر پھر بھی نہ سمجھ سکو تو عبادت گاہوں میں جاؤ، عبادت گزاروں سے پوچھو کہ عبادت میں خاموشی کی کیا حقیقت ہے۔ بکھرے ہوؤں سے پوچھو۔ بچھڑے ہوؤں سے پوچھو۔ سہمے ہوؤں سے پوچھو۔ سمٹے ہوؤں سے پوچھو۔ عشق والوں سے پوچھو کہ عشق کی سزا کیا ہے۔ محبت کے ماروں سے پوچھو کہ محبت کی دوا کیا ہے۔ غلاموں سے پوچھو کہ غلامی کی زبان کیا ہے۔ اگر پھر بھی نہ جان سکو تو قبروں میں بسنے والوں سے پوچھو۔ اصحابِ کہف کے رازدانوں سے پوچھو۔ میری مدہوش سانسوں سے پوچھو۔ اس بے روح بدن سے پوچھو۔ اے پوچھنے والی! سب سے بڑھ کر عرش والے سے پوچھو... کیونکہ خاموشی بھی اُس کی ایک صفت ہے۔ |