ایڈیلیڈ تیری گلیوں میں سناٹا سا چھایا رہتا ہے!! از قلم: سیدہ ایف گیلانی--آسٹریلیا
(Syeda F Gilani, Adelaide)
|
ایڈیلیڈ تیری گلیوں میں سناٹا سا چھایا رہتا ہے!! از قلم: سیدہ ایف گیلانی--آسٹریلیا آسٹر یلیا چھے ریاستوں (کوئینز لینڈ، نیو سائوتھ ویلز، وکٹوریہ، تسمانیہ، ویسٹرن آسٹریلیا ،سائوتھ آسٹریلیا) اور دو ٹیریٹریز (نارتھرن ٹیریٹری، آسٹریلین کیپیٹل ٹیریٹری) پر مشتمل نہ صرف دنیا کا چھٹا بڑا ملک بلکہ براعظم بھی ہے جو خشکی سے دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ جڑا ہو ا نہیں ۔ ماہرِ ارضیات کا کہنا ہے کہ کئی میلینز سال قبل زمین کا یہ ٹکڑا زمین کے دوسرے حصوں کے ساتھ منسلک تھا؛ لیکن زمین کے اندر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں اور فطری عمل کے تقاضوں کے آگے سر بسجود ہو کر رفتہ رفتہ خشکی کے دوسرے حصوں سے دائمی جدائی کا شکار ہو گیا۔ آسٹریلیا کی ریاست سائوتھ آسٹریلیا جو اب میرے خاندان کا مسکن ہے ، یہ رقبے ( 983482 مربع میٹر) کے اعتبار سے آسٹریلیا کی چوتھی جبکہ آبادی (1.771ملین) کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست ہے؛ گویا رقبے کے اعتبار سے یہ ریاست پاکستان سے بھی بڑی ہے جب کہ آبادی پاکستان کے چھوٹے چھوٹے شہروں سے بھی کم ہے۔ایڈیلیڈ سائوتھ آسٹریلیا کا دارالحکومت ہے۔اس شہر کا نام شہزادی ایڈیلیڈ کے نام پر رکھا گیا تھا اور اسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد آباد کیا گیا اور اس کا سہرا کرنل ولیم لائیٹ کے سر جاتا ہے ؛جو جنوبی آسٹریلیا کا پہلا سرویئر جنرل تھا۔یہ ریاست یہاں کے مقامی باشندوں گارنا پیپل کی وراثت ہے۔ان لوگوں پر انگریزوں نے اپنی آباد کاری کے وقت بہت ظلم وستم ڈھائے۔اس شہر کی بنیاد 1836ئ میں رکھی گئی ۔ اس شہر کی خاص انفرادیت یہ ہے کہ آسٹریلیا کے دیگر بڑے شہروں (سڈنی، بریزبن، میلبورن) کی طرح اسے برطانیہ سے لائے گئے سزا یافتہ افراد سے نہیں بسایا گیا بلکہ اسے یورپ سے آئے آزاد باشندوں نے آباد کیا۔ولیم لائیٹ نے اس کا نقشہ بڑی دانشمندی اور سوجھ بوجھ سے بنایا۔شہر کو دریائے ٹورنز کے کنارے ڈیزائن کیا اور اس کے دو حصے بنائے دریا کے ایک طرف ایڈیلیڈ اوردوسری طرف نارتھ ایڈیلیڈ ہے۔ ایڈیلیڈکے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے چاروں طرف کشادہ اور کھلے علاقے چھوڑ دیے جنہیں بعد میں سر سبز و شاداب باغات اور پارکس میں تبدیل کر دیا گیا۔ان میں سال بھر میلوں ٹھیلوں کے علاوہ دیگر سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ہرے بھرے اشجار اور پھولوں کی سجاوٹ نے شہر کوفطری ماحول سے مالامال کر دیا ہے۔ یہی نہیں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں ایک خاص ترتیب سے پانچ اسکوائرزبنائے گئے ہیں۔ شہر کے وسط میں وکٹوریہ اسکوائیر اور اطراف میں ہائینڈ مارش اسکوائیر ، لائیٹ اسکوائیر، ہرٹل اسکوائیراور وٹمور اسکوائیر ہے جب کہ نارتھ ایڈیلیڈ کے وسط میں ولنگڈن اسکوائیر ہے۔یہ اسکوائر فطری ماحول کوزندہ رکھنے میں بہت ممد و معاون ہیں ۔اسی طرح آباد کاروں کی سہولت کے لیے شہر کے وسط میں سنٹرل مارکیٹ بنائی ہے۔ایڈیلیڈ اور نارتھ ایڈیلیڈ کو تقسیم کرتا ہوا ٹارنز ریورخراماں خراماں بہتا ہوا کسی شور شرابے کے بغیر خاموشی سے سمندر کی آغوش میں پناہ لیتا ہے۔شہر کی بیشتراہم عمارتیں اس دریا کے کنارے واقع ہیں۔ ان عمارتوں میں آسٹریلیا کی معروف یونیورسٹی ایڈیلیڈ ، ڈینٹل ہسپتال، اسٹیٹ لائبریری، آرٹ سنٹر، گورنر ہائوس، پارلیمنٹ ہائوس، ریلوے اسٹیشن، ایڈیلیڈ میوزیم، کنونشن سنٹر، یونیورسٹی سائوتھ آسٹریلیا اور فلنڈرز یونیورسٹی کے کیمپس بھی اسی دریا کے کنارے بنائے گئے ہیں۔ ایڈیلیڈ کا چڑیا گھربھی یہیںہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ آسٹریلیا کا واحد چڑیا گھر ہے جس میں چین سے منگوائے گئے دو پینڈا بھی ہیں جن کی دیکھ بھال پر ایک خطیر رقم خرچ آتی ہے لیکن یہ بچوں کے لیے تفریح کا زبردست ذریعہ ہے ۔اسکولوں کے طلبہ کو ان کا مشاہدہ کرانے کے لایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں ریسرچ سنٹرجو2016میں مکمل ہوا۔اس کا شمار دنیا کے جدید ترین ریسرچ سنٹرز میں ہوتا ہے اور رائل ایڈیلیڈ ہسپتال جو1940 ئ میں تعمیر ہوا تھا ، گزشتہ سالوں میں اسے اسی نام سے دریائے ٹارنز کے کنارے لیکن نئی جگہ پر تعمیر کیا گیااور اس کی تکمیل 2017ئ میں ہوئی ۔ یہ ہسپتال اخراجات کے اعتبار سے اس وقت تک دنیا کا مہنگا ترین ہسپتال ہے جس پر 2.44بلین ڈالرز لاگت آئی۔ مذکورہ دریاکے دوسرے کنارے نارتھ ایڈیلیڈ ہے اور اس حصے میں رائل ایڈیلیڈ ہسپتال برائے اطفال ومستورات واقع ہے اور اس سے بجانبِ مغرب دنیا کا مشہور ترین کرکٹ گرائونڈ دی اوول ہے۔ شہر کے مغرب میں ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے اور پر کشش نیز صاف ستھری بیچز کا طویل سلسلہ ہے جو میلوں تک پھیلا ہوا ہے جو نہ صرف اس کے قدرتی ماحول کو اوربھی پر کشش بنادیتا ہے بلکہ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ایڈ یلیڈ میں کوئی بہت زیادہ بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ دس بیس سال پہلے تو محض دو چار بلند عمارتیں ہی تھیں لیکن پچھلے پانچ چھے سالوں میں کچھ نئی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں جس سے شہر کی رونق اور خو ب صورتی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔یہ بہت ہی پر سکون، پر امن اور صاف ستھرا شہر ہے۔یہاں کے بچے، بوڑھے اور جوان سبھی اس شہر کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ 2021کے سروے کے مطابق اس شہر کا دنیا کے صاف ترین شہروں میں چوتھا نمبر ہے۔ شہر کے وسط سے شمال کی جانب یہاں کا قدیمی رنڈل مال ہے جو عام بازاروں کے مقابلے میں کافی کشادہ ہے۔یہ شاپنگ کے لیے بہترین جگہ ہی نہیں بلکہ اس میں مختلف کلچرز سے تعلق رکھنے والے لوگ سارا سال کسی نہ کسی کھیل تماشے سے صارفین کو محظوظ کرتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں شہر کے اندر چلنے والی ٹرام نا صرف مقامی باشندوںبلکہ سیاحوں کو بھی مفت سفری سہولت مہیا کرتی ہے۔ایڈیلیڈ کے اطراف میں کوئی پچاس کلومیٹر کے رداس میں پھیلی ہوئی مضافاتی بستیاں بھی اس شہر کے حسن کو چاند لگاتی ہیں۔ ایڈیلیڈ کے باسی ایک کثیر الثقافتی نظام میں بڑی مضبوطی سے جکڑے ہوئے ہیں۔ ریسزم کے واقعات و سانحات شاید دنیا کے کسی بھی خطے سے کم ہیں۔کووڈ 19 میں بھی نہ صرف یہ شہر بلکہ پوری ریاست اس موذی وبا سے بہت حد تک محفوظ رہے۔یہ یہاں کی حکومت کی بہترین حکمتِ عملی اور کچھ خدا کی خاص رحمت کا نتیجہ معلوم ہو تا ہے اگرچہ یہ دعو ٰی نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں کے لوگ سو فی صد محفوظ ہیں کیونکہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ شہر نہ صرف مختلف تہذیبوں اور کلچرز کے خوبصورت رشتوں سے منسلک ہے بلکہ سوچ کے اعتبار سے بھی اگر اسے آسٹریلیا کا ایڈوانس شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ یہ اس ملک کا پہلا شہر ہے جس نے سب سے پہلے عورت کو ووٹ دینے کا حق دیا۔ریاست سائوتھ آسٹریلیا کی وجہ شہرت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس ریاست کا ایک شہر کوبر پیڈی دنیا کااوپل کیپیٹل مانا جاتا ہے۔ گزشتہ دہائی کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایڈیلیڈ کا شمار دنیا کے دس بہترین رہنے کے قابل شہروں میں اس کا ہمیشہ شمار رہاہے۔مثلاً 2013ع سے 2017ع تک دنیا کےسب سے زیادہ قابلِ رہائش شہروں میں مسلسل اس کی پانچویں پوزیشن رہی ؛ جب کہ 2021ع میں یہ آسٹریلیا کا سر فہرست اور دنیا کا چوتھے نمبر پر آنے والا شہر ہے۔ یا در ہے یہ سروے دی اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ ہر سال کر تا ہے۔یہ سروے کسی شہر کی ثقافت، حفظانِ صحت ، پائیداری، تعلیم اور ماحول کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ایڈیلیڈ کی وجہ ¿ شہرت من جملہ دیگر خصوصیات کے دو بڑے خصائص اس کے گرجا گھر اور اس کے میلے ہیں؛ گویا یہ شہر میلوں اور گرجاگھروں کی آماجگاہ ہے۔اس شہر کا سب سے پرانا میلہ دی رائل ایڈیلیڈ شوہرسال ایڈیلیڈ شو گرائونڈز میں ماہ ستمبر میں لگتا ہے اور دس دن تک جاری رہتا ہے اور یہ ایک زرعی جشن بھی ہے جس میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایڈیلیڈ فرنج جو ایک مہینہ جاری رہتا ہے۔ یہ جنوبی نصف کرہ کا سب سے بڑا اور دنیا کا دوسرے نمبر پر بڑا آرٹ میلہ ہے۔ اس میلے کا آغاز 1960ع میں ہوا اور یہ تب سے ہر سال بڑی دھوم دھام سے سجتا ہے جس میں بے شمار افراد شرکت کرتے ہیں۔یہی نہیں ایڈیلیڈ میں اور بھی مختلف کلچرز اور مذاہب کے کئی ملے سارا سال یہاں کے مکینوں کو لطفِ طبع کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ دوسرے بہت سے میلوں کی طرح مسلمانوں کا بھی ایک بڑا میلہ عید الفطر کے بعد لگایا جاتا ہے جو ہر سال شہر کے چاروں طرف پھیلے باغات و پارکس میں سے کسی ایک لگتا ہے لیکن2021ع میں یہ میلہ ایڈیلیڈ شو گرائونڈز میں لگا اور دو دن جاری رہا۔اس میلے میں پہلی مرتبہ بہت سے مسلمان ملکوں کے آسٹریلینز نے اپنے اپنے آبائی ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے لوگوں کی معلومات کے لیے اسٹال لگائے۔ پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک دوسری مقامی تنظیم پاسا کے اشتراک سے ایک اسٹال لگایا جسے دیگر نمائشی اشیائ کے علاوہ پاکستانی مصنفین اور شعرائ کی تصانیف وتالیفات سے سجایا گیا اور کتب بینی کا شوق رکھنے والے بہت سے لوگوں کو جو اردو زبان کی سمجھ بوجھ رکھتے تھے بہت سی کتابیں تحفۃً دی گئیں۔یہ ایڈیلیڈ بیس سال پہلے اتنا خاموش تھا کہ مجھے کہنا پڑا تھا: ایڈیلیڈ تیری گلیوں میں سناٹا سا چھایا رہتا ہے خاموش فضا کے پس منظر میں اک خوف سمایا رہتا ہے لیکن گزشتہ دو عشروں کی تیز روی نے اب اس شہر کو اتنا خاموش نہیں رہنے دیا۔ |
|