دنیا میں بہت سے لوگ تاریخ لکھتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تاریخ کو قلم سے نہیں بلکہ اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، خبریں پرانی ہو جاتی ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، حکومتیں تبدیل ہو جاتی ہیں، مگر ایک تصویر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی تصویر آنے والی نسلوں کو بتاتی ہے کہ کسی لمحے میں کیا ہوا تھا، کس نے قربانی دی تھی، کون سچ کے ساتھ کھڑا تھا اور کس نے حالات کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فوٹو جرنلسٹ محض تصویر کھینچنے والا نہیں بلکہ تاریخ کا امین ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فوٹو جرنلسٹ کی خدمات کو وہ مقام کبھی نہیں ملا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ رپورٹر خبر لکھتا ہے تو اس کا نام نمایاں ہوتا ہے، اینکر خبر سناتا ہے تو اسے شہرت ملتی ہے، تجزیہ نگار رائے دیتا ہے تو اس کے چرچے ہوتے ہیں، لیکن وہ شخص جو جان ہتھیلی پر رکھ کر ہر خطرناک مقام پر سب سے پہلے پہنچتا ہے، دھوپ، بارش، گولی، دھماکے، احتجاج، سیلاب، زلزلے اور حادثات کے درمیان کھڑے ہو کر سچ کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرتا ہے، اکثر وہی سب سے زیادہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایک رپورٹر خبر سناتا ہے، مگر فوٹو جرنلسٹ اس خبر میں جان ڈالتا ہے۔ اس کی ایک تصویر ہزاروں الفاظ پر بھاری ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی کردار اکثر معاشرے کی توجہ سے محروم رہتا ہے۔ بہت سے لوگ رپورٹر کو پہچان لیتے ہیں، اس سے مصافحہ کرتے ہیں، اس کے ساتھ تصویر بنواتے ہیں مگر کیمرہ اٹھائے کھڑے شخص کو محض ایک فوٹو کھینچنے والا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ صرف افسوسناک ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کی قربانیوں سے ناانصافی بھی ہے، جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر سچ کی تصویری گواہی دنیا تک پہنچاتے ہیں۔
پاکستان میں صحافت کبھی بھی آسان پیشہ نہیں رہی۔ یہاں سچ لکھنا بھی مشکل ہے اور سچ دکھانا اس سے کہیں زیادہ دشوار۔ فوٹو جرنلسٹ کو صرف پیشہ ورانہ خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ معاشی مشکلات، جدید آلات کی بھاری قیمت، محدود آمدنی، طویل اوقاتِ کار، سماجی بے اعتنائی اور بعض اوقات ہتک آمیز رویوں کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ افسوس کہ کئی مواقع پر انہیں صرف ایک کیمرہ اٹھائے ہوئے شخص سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے بغیر صحافت کا منظر نامہ ادھورا ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود کچھ لوگ اپنے عزم، کردار اور پیشہ ورانہ دیانت داری سے ایسی مثال قائم کرتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ انہی باوقار ناموں میں ایک روشن نام جاوید عنایت کا ہے۔
جاوید عنایت نے پاکستان میں اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ایسے دور میں کیا جب وسائل کم اور مشکلات زیادہ تھیں۔ محدود سہولتوں کے باوجود انہوں نے کبھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے صرف تصویریں نہیں بنائیں بلکہ تاریخ کے بے شمار اہم لمحات کو محفوظ کیا۔ انہوں نے ایسے مناظر دنیا کے سامنے رکھے جنہیں الفاظ مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے تھے۔ یہی ایک کامیاب فوٹو جرنلسٹ کی اصل پہچان ہوتی ہے۔
وقت نے انہیں برطانیہ پہنچایا، مگر وطن سے محبت، صحافت سے وابستگی اور پیشہ ورانہ دیانت داری پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی گئی۔ مانچسٹر اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں بھی جاوید عنایت نے اپنی محنت، اخلاق، پیشہ ورانہ مہارت اور کمیونٹی سے وابستگی کے ذریعے وہ مقام حاصل کیا جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ صلاحیتیں سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ کردار اور محنت انسان کو دنیا بھر میں پہچان دلاتے ہیں۔
یہ لمحہ یقیناً خوشی، فخر اور اطمینان کا باعث ہے کہ مانچسٹر میں پریس کلب آف پاکستان یوکے نے راچڈیل کونسل کے تعاون سے ممتاز صحافی محمود ہاشمی کے نام سے منسوب سالانہ تیسرے ایوارڈز کی تقریب میں جاوید عنایت کی صحافتی خدمات، پیشہ ورانہ دیانت داری اور کمیونٹی کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعزاز سے نوازا۔ یہ صرف ایک ایوارڈ نہیں بلکہ اس خاموش جدوجہد، ثابت قدمی اور انتھک محنت کا اعتراف ہے جو انہوں نے کئی دہائیوں تک جاری رکھی۔
اس موقع پر پریس کلب آف پاکستان یوکے خصوصی خراجِ تحسین کا مستحق ہے، جس نے صحافت کے ان خاموش ہیروز کو یاد رکھنے اور ان کی خدمات کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنے کی خوبصورت روایت قائم کی ہے۔ اسی طرح راچڈیل کونسل بھی مبارکباد کی مستحق ہے جس نے اس باوقار تقریب میں تعاون کرتے ہوئے صحافت اور کمیونٹی کی خدمت کرنے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی کی۔ ایسے اقدامات نہ صرف صحافیوں کا حوصلہ بلند کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں دیانت دار صحافت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ صحافت صرف قلم، مائیکروفون یا کیمرے کا نام نہیں بلکہ یہ سچائی، دیانت اور عوامی خدمت کا مقدس عہد ہے۔ اس عہد کو نبھانے والے ہر صحافی کا احترام ضروری ہے، مگر فوٹو جرنلسٹ اس لیے زیادہ احترام کے مستحق ہیں کہ وہ اکثر اپنی شناخت سے زیادہ دوسروں کی کہانیاں محفوظ کرنے میں زندگی گزار دیتے ہیں۔
جاوید عنایت ان ہی گمنام مگر عظیم سپاہیوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے کبھی شہرت کا راستہ نہیں چنا بلکہ خدمت کا راستہ اپنایا۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی مشکلات، سماجی بے اعتنائی اور پیشہ ورانہ رکاوٹیں صرف اسی شخص کو شکست دیتی ہیں جس کے ارادے کمزور ہوں۔ مضبوط کردار رکھنے والے لوگ ہر آزمائش کو اپنی کامیابی میں بدل دیتے ہیں۔
جب جاوید عنایت کے اعزاز کی خبر سامنے آئی تو یوں محسوس ہوا جیسے دراصل ہر اس فوٹو جرنلسٹ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہو جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ سچ کی تصویر دنیا تک پہنچا رہا ہے۔ ایسے لوگ قوموں کا سرمایہ ہوتے ہیں، اور ان کی عزت کرنا دراصل صحافت، سچائی اور تاریخ کا احترام کرنا ہے۔
جاوید عنایت جیسے لوگ دراصل صحافت کا وہ روشن چہرہ ہیں، جن کی خدمات کو صرف ایک ایوارڈ میں نہیں سمویا جا سکتا۔ وہ اس اعتراف سے کہیں زیادہ بڑے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال سچ کو محفوظ کرنے، تاریخ کو تصویر دینے اور آنے والی نسلوں کے لیے حقیقت کا ریکارڈ مرتب کرنے میں صرف کیے ہیں۔ ایسے باوقار اور باکردار فوٹو جرنلسٹس پوری صحافتی برادری کا سرمایہ ہیں، اور ان کی خدمات ہمیشہ احترام، محبت اور فخر کے ساتھ یاد رکھی جائیں گی۔
جاوید عنایت صاحب کو یہ اعزاز مبارک ہو۔ دعا ہے کہ ان کا سفر اسی طرح کامیابیوں، عزتوں اور نئی منزلوں سے روشن رہے، اور وہ آنے والی نسل کے فوٹو جرنلسٹس کے لیے ہمیشہ حوصلے، دیانت اور پیشہ ورانہ عظمت کی ایک روشن مثال بنے رہیں۔ |