کروڑوں کی کرکٹ، فائلوں کے کھلاڑی اور یتیم کھیل

پاکستان میں کھیلوں کی دو الگ دنیائیں آباد ہیں۔ایک دنیا وہ ہے جہاں ایک اعلان ہوتا ہے تو اربوں روپے کا بجٹ بڑھ جاتا ہے، میچ فیس تین گنا نہیں بلکہ کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کھلاڑیوں کی مراعات میں اضافہ ہوتا ہے، گراونڈ اسٹاف کی تنخواہیں بہتر ہو جاتی ہیں اور مستقبل کے منصوبوں پر کام شروع ہو جاتا ہے۔دوسری دنیا وہ ہے جہاں قومی کھلاڑی اپنا سامان خود خریدتے ہیں، کوچ اپنی جیب سے سفر کرتے ہیں، فیڈریشنز دفتر کا کرایہ ادا کرنے کے لیے پریشان رہتی ہیں اور سپورٹس ایسوسی ایشنز سالہا سال گرانٹ کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ کا بجٹ 3 ارب سے بڑھا کر 4 ارب روپے کر دیا۔ قائداعظم ٹرافی کی فی میچ فیس 30 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی۔ قومی کرکٹرز کی میچ فیسوں میں اضافہ ہوا اور گراونڈ اسٹاف کی کم از کم تنخواہ بھی بہتر بنا دی گئی۔یہ ایک مثبت قدم ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کرکٹ کو کیوں ملا۔اصل سوال یہ ہے کہ باقی کھیلوں کو کیا ملا؟ صرف ڈومیسٹک کرکٹ پر خرچ ہونے والے چار ارب روپے کا موازنہ اگر پاکستان سپورٹس بورڈ یا کسی صوبائی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے بجٹ سے کریں تو ایک عجیب تصویر سامنے آتی ہے۔

ایک طرف صرف ایک کھیل۔ دوسری طرف ہاکی، سکواش، باکسنگ، ایتھلیٹکس، ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ، جوڈو، تائیکوانڈو، جمناسٹکس، تیراکی، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، آرچری، سائیکلنگ اور درجنوں دوسرے کھیل۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قومی کھیلوں کی فیملی میں ایک بچہ بیرون ملک پڑھ رہا ہو، نئی گاڑی چلا رہا ہو اور بہترین سہولتیں لے رہا ہو، جبکہ باقی بہن بھائی اسکول کی فیس اور کتابوں کے لیے رشتہ داروں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہوں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے "قومی سپورٹس پالیسی" کے بجائے "قومی کرکٹ پالیسی" بنا لی ہے؟

خیبر پختونخوا کی صورتحال اس سے بھی زیادہ سوالات پیدا کرتی ہے۔صوبے کی متعدد رجسٹرڈ سپورٹس ایسوسی ایشنز کا مو¿قف ہے کہ انہیں 2020 کے بعد سے گرانٹ اِن ایڈ نہیں ملی۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو سوال بنتا ہے کہ ان سالوں میں یہ ایسوسی ایشنز اپنے قومی مقابلے، ضلعی سرگرمیاں، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، کوچنگ کیمپس اور کھلاڑیوں کی تیاری کیسے کرتی رہیں؟ کیا سرکاری پالیسی یہ بن چکی ہے کہ کھیل بھی اب "سیلف فنانس" پر چلیں؟اگر کسی اسکول کو پانچ سال فنڈ نہ ملے تو وہ بند ہو جائے گا۔

اگر کسی اسپتال کو پانچ سال بجٹ نہ ملے تو وہ بحران کا شکار ہوگا۔پھر یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ سپورٹس ایسوسی ایشنز بغیر وسائل کے قومی چیمپئن پیدا کرتی رہیں؟ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کوئی پاکستانی کھلاڑی اپنی ذاتی کوششوں سے بین الاقوامی سطح پر میڈل جیت لیتا ہے تو اچانک ہر محکمہ اس کامیابی کا حصہ دار بن جاتا ہے۔تصاویر بنتی ہیں۔ تعریفی بیانات آتے ہیں۔ شیلڈز تقسیم ہوتی ہیں۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ یہی کھلاڑی مقابلے سے پہلے کس سے قرض لے رہا تھا، کس دوست نے ہوائی ٹکٹ خرید کر دیا تھا، کس کوچ نے بغیر معاوضے کے تربیت دی تھی اور کس فیڈریشن نے اپنی جیب سے اخراجات پورے کیے تھے۔

پاکستان میں کھیلوں کی کامیابی کا ایک غیر اعلانیہ فارمولا بن چکا ہے۔ سرمایہ کھلاڑی لگائے، محنت کوچ کرے، اخراجات فیڈریشن برداشت کرے اور کریڈٹ حکومت لے جائے۔اس سے بہتر ماڈل شاید دنیا میں کہیں نہ ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی آمدنی خود پیدا کرتا ہے۔ براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپس، پاکستان سپر لیگ، میڈیا رائٹس اور بین الاقوامی کرکٹ اس کے مالی وسائل ہیں۔ اسی لیے PCB کے پاس بجٹ بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

لیکن سوال PCB سے نہیں۔سوال وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ہے۔ اگر ملک واقعی اولمپکس، ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں کامیابی چاہتا ہے تو کیا اس کا کوئی مالی روڈ میپ بھی موجود ہے؟ کیا کسی نے حساب لگایا ہے کہ ایک اولمپک میڈل کی تیاری پر کتنی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے؟ یا ہم آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ میڈل صرف دعاوں، تصاویر اور اخباری بیانات سے آ جاتے ہیں؟ پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ نوجوان کھیلوں سے دور ہو رہے ہیں۔ شاید نوجوان کھیلوں سے دور نہیں ہوئے۔ شاید بجٹ کھیلوں سے دور ہو گیا ہے۔اور جب بجٹ دور چلا جائے تو میدان خاموش ہو جاتے ہیں، کوچ بے بس ہو جاتے ہیں، فیڈریشنز فائلوں میں گم ہو جاتی ہیں اور کھلاڑی روزگار اور خوابوں کے درمیان ایک مشکل انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔آخر میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے۔

اگر ایک کھیل پر اربوں روپے خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو کیا باقی کھیل صرف قومی دنوں کی تقریبات، یادگاری تصاویر اور سرکاری تقاریر کے لیے رہ گئے ہیں؟ اگر جواب "نہیں" ہے تو پھر بجٹ بھی اسی جواب کی عکاسی کرنا چاہیے۔ ورنہ پاکستان میں "کھیلوں کی ترقی" ایک نعرہ رہے گی، حقیقت نہیں۔
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1015 Articles with 784801 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More