پھر میں نے پوچھا۔۔۔ ماں کا ایثار کیا ہے؟ اس نے کہا: کیا تم نے ماں کی آنکھیں دیکھی ہیں؟ نیند کا غلبہ طاری ہوتا ہے، ساری دنیا سو جاتی ہے، مگر میری ماں کی آنکھیں جاگتی رہتی ہیں۔ کیا تم نے ماں کا چہرہ دیکھا ہے؟ درد و غم کا عالم ہوتا ہے، مگر میری ماں کا چہرہ پھر بھی مسکراتا رہتا ہے۔ کیا تم نے ماں کے ہاتھوں کو دیکھا ہے؟ جس شاہکار نے ان ہاتھوں کو تخلیق کیا ہے، بس وہی ان میں چھپی محبت، شفقت اور دعا کی حرارت کو جانتا ہے۔ کیا تم نے ماں کے پیروں کو دیکھا ہے؟ وہ آبلہ پا ہوتے ہیں، مگر پھر بھی تھکتے نہیں۔ ہر قدم اپنی اولاد کی راحت کے لیے اٹھتا ہے۔ کیا تم نے سارا عالم دیکھا ہے؟ اگر دیکھا ہے تو جان لو کہ ماں کے ایثار کا ایک لمحہ بھی دنیا کی ہر نعمت پر بھاری ہے۔ کیا تم نے آہیں ابھرتی دیکھی ہیں؟ کیا درد کو مچلتے دیکھا ہے؟ کیا دل کو تڑپتے دیکھا ہے؟ کیا خون کو بہتے دیکھا ہے؟ کیا آگ کو پانی بنتے دیکھا ہے؟ کیا خوابوں کو آنکھوں میں پلتے دیکھا ہے؟ کیا صبر کی مثالیں سنی ہیں؟ کیا ایثار کا پیکر دیکھا ہے؟ کیا بے غرض محبت دیکھی ہے؟ اگر دیکھا ہے، تو جان لو کہ یہ سب ایک ماں کے وجود میں سمٹ آیا ہے۔ ماں اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنی اولاد سے بے غرض محبت کرتی ہے۔ وہ اپنے آرام، اپنی خواہشوں اور اپنی خوشیوں کو قربان کر کے بچوں کی زندگی میں سکون، امید اور خوشیاں بکھیرتی ہے۔ یہی ماں کا ایثار ہے، یہی اس کی عظمت ہے، اور یہی اس کی بے مثال محبت
پھر میں نے سر جھکا لیا
اب مجھے سمجھ آ گیا کہ ایثار کیا ہے احساس کی سب سے خو بصورت تفسیر اگر کسی وجود میں ملتی ہے تو وہ صرف "ماں" ہے |