صحت کا شعبہ یا انتظامی تباہی - سرکاری اسپتالوں میں زندگی سستی

(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)

*از قلم : محمد ارسلان شیخ*

کراچی کے ایک سرکاری ادارے کے زیرِ انتظام چلنے والے اسپتال سے سامنے آنے والا مبینہ HIV اسکینڈل پورے ملک کے لیے لمحۂ فکریہ بن چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد معصوم بچے HIV سے متاثر ہوئے، جبکہ اس سانحے کی وجوہات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ یہ معاملہ صرف ایک اسپتال یا چند افراد کی غفلت کا نہیں، بلکہ اس پورے نظامِ صحت پر سوال اٹھاتا ہے جس پر کروڑوں شہری اپنی زندگی کا بھروسا کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر آج سندھ کے کسی بھی ضلعی سرکاری اسپتال کا اچانک دورہ کیا جائے تو عوام کی اکثریت ایک ہی شکایت کرتی نظر آئے گی: ڈاکٹر کم، مریض زیادہ؛ ادویات محدود؛ مشینیں خراب؛ اور علاج کے بجائے ریفر کرنے کا سلسلہ عام۔

کراچی جیسے شہر میں، جہاں کروڑوں افراد بستے ہیں، متعدد ضلعی اسپتال رات کے اوقات میں صرف رسمی ایمرجنسی مراکز بن کر رہ جاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رات بارہ بجے کے بعد سینئر ڈاکٹرز شاذ و نادر ہی دستیاب ہوتے ہیں، نرسنگ اسٹاف بھی محدود رہ جاتا ہے، اور اکثر مریض کو بغیر مؤثر علاج کے جناح اسپتال، NICVD یا کسی دوسرے بڑے اسپتال بھیج دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہر ضلعی اسپتال کا انجام صرف "ریفر سینٹر" بننا ہے تو پھر ہر سال صحت کے نام پر مختص اربوں روپے آخر کہاں خرچ ہوتے ہیں؟

سرکاری اسپتالوں میں ایک اور افسوسناک منظر بھی عام ہے۔ کہیں ایکسرے مشین خراب ہے، کہیں الٹراساؤنڈ کئی ماہ سے بند ہے، کہیں لیبارٹری کے آلات ناکارہ پڑے ہیں، تو کہیں ای سی جی اور دیگر ضروری مشینیں ناکافی یا غیر فعال ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریب آدمی، جو سرکاری اسپتال میں امید لے کر آتا ہے، آخرکار نجی اسپتال یا مہنگی لیبارٹریوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض اسپتالوں میں شفافیت کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عوام شکایت کرتے ہیں کہ مسائل حل کرنے کے بجائے اکثر انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر نظام مضبوط ہو، سہولیات معیاری ہوں اور عملہ اپنی ذمہ داری پوری کرے تو نہ احتجاج کی ضرورت پڑے اور نہ ہی کسی کو ثبوت اکٹھے کرنے کی فکر ہو۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ صوبائی سرکاری اسپتال حکومتِ سندھ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ لہٰذا ان کی کارکردگی، سہولیات اور انتظامی خامیوں کی بنیادی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ وفاق اگر معاونت کرے تو یہ خوش آئند ہے، لیکن انتظامی جوابدہی سے کوئی بھی حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔

صحت کسی حکومت کا احسان نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ عوام کو علاج، محفوظ ماحول، فعال مشینیں، حاضر ڈاکٹر اور باوقار رویہ درکار ہے، بیانات نہیں۔

اگر آج بھی حکومت نے اس شعبے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل کوئی اور خاندان اسی درد سے گزرے گا جس کی چیخ شاید پھر کسی عدالت، کسی اخبار یا کسی ٹی وی اسکرین تک پہنچے، مگر ایک معصوم کی زندگی واپس نہیں آ سکے گی۔ 

 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 49 Articles with 13947 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.