کبھی کبھی ہمارے سامنے ایک ایسا نوجوان بیٹھا ہوتا ہے جو بظاہر بالکل ٹھیک نظر آتا ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ، باتوں میں ہنسی اور روزمرہ زندگی معمول کے مطابق… لیکن چند منٹ بات کرنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے بہت سا ذہنی دباؤ اور بے چینی چھپی ہوئی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران میرے پاس 21 سے 30 سال کی عمر کے کئی نوجوان مشاورت کے لیے آئے۔ ان کے مسائل بظاہر ایک دوسرے سے مختلف تھے، لیکن تفصیل سے بات کرنے پر ایک بات بار بار سامنے آئی: ذہنی دباؤ، تنہائی اور یہ احساس کہ گھر میں انہیں سمجھنے اور سننے والا کوئی نہیں۔
اصل مسئلہ صرف Stress نہیں تھا
کسی نوجوان کو پڑھائی کا دباؤ تھا، کوئی ملازمت اور مستقبل کی فکر میں مبتلا تھا، جبکہ کچھ اپنے کیریئر اور زندگی کے فیصلوں کو لے کر مسلسل پریشان تھے۔
کچھ نوجوان اپنی ذاتی اور جنسی زندگی سے متعلق مسائل کی وجہ سے بھی ذہنی الجھن اور دباؤ کا شکار تھے۔
لیکن جب ان سے پوچھا گیا:
“آپ اپنے دل کی بات گھر میں کس سے کرتے ہیں؟”
تو اکثر کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔
کسی نے کہا کہ گھر میں سب اپنے اپنے مسائل میں مصروف ہیں۔
کسی کا کہنا تھا کہ والدین اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
اور کسی نے بتایا کہ جب وہ اپنی پریشانی بیان کرتا ہے تو اسے فوراً یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے:
“اتنا مت سوچو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
ہم یہ جملہ خیرخواہی میں کہتے ہیں، لیکن بعض اوقات سامنے والا شخص فوری حل نہیں چاہتا۔ وہ صرف چاہتا ہے کہ کوئی اسے سکون سے سنے اور اس کے احساسات کو سمجھے۔
نوجوانوں کو ہمیشہ مشورہ نہیں، کبھی صرف توجہ چاہیے
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ نوجوان مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں زیادہ جذباتی سہارا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نوجوانی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں انسان بیک وقت تعلیم، کیریئر، روزگار، رشتوں، مستقبل اور اپنی شناخت جیسے کئی سوالات سے گزر رہا ہوتا ہے۔
اگر گھر میں اس کی بات سننے والا کوئی نہ ہو تو یہ ذہنی دباؤ اندر ہی اندر بڑھ سکتا ہے۔
پھر نوجوان اپنی پریشانی سے نمٹنے کے لیے مختلف راستے تلاش کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ دوستوں، موبائل، سوشل میڈیا یا دوسری سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
کچھ نوجوان جنسی سرگرمیوں یا بار بار مشت زنی کی طرف بھی زیادہ مائل ہو سکتے ہیں۔ تاہم صرف اس رویے کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش بھی ضروری ہے کہ اس کے پیچھے تنہائی، ذہنی دباؤ، بے چینی یا جذباتی خلا تو موجود نہیں۔
موبائل کے پیچھے چھپی تنہائی
آج نوجوان کے ہاتھ میں موبائل ہے، سوشل میڈیا پر سیکڑوں رابطے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اندر سے تنہا ہے۔
وہ اپنی زندگی کا دوسروں کی زندگی سے موازنہ کرتا ہے۔
کسی کی کامیابی دیکھ کر خود کو ناکام سمجھتا ہے۔
کسی کی نوکری، کسی کا کاروبار، کسی کا رشتہ اور کسی کی بظاہر خوبصورت زندگی دیکھ کر اسے لگتا ہے کہ شاید وہ زندگی میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔
یہ مسلسل موازنہ Stress، Anxiety، کم خود اعتمادی اور ذہنی تھکن کو بڑھا سکتا ہے۔
ہم اپنے بچوں سے اکثر پوچھتے ہیں:
“پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟” “نوکری کب ملے گی؟” “آگے کیا کرنا ہے؟”
لیکن شاید ہمیں ایک سوال اور پوچھنے کی ضرورت ہے:
“تم واقعی اندر سے ٹھیک ہو؟”
اور جب وہ جواب دینا شروع کرے تو فوراً فیصلہ سنانے، ڈانٹنے یا نصیحت کرنے کے بجائے کچھ دیر خاموشی سے اسے سننا چاہیے۔
کیونکہ ہر مسئلے کا پہلا حل دوا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان کو سب سے پہلے یہ یقین دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ:
“تمہاری بات اہم ہے، اور میں تمہیں سننے کے لیے موجود ہوں۔”
نوجوانوں کے ذہنی مسائل کو معمولی نہ سمجھیں
Stress ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن جب ذہنی دباؤ مسلسل رہنے لگے اور نیند، پڑھائی، کام، تعلقات یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اسی طرح اگر کوئی نوجوان مسلسل اداس، بے چین، تنہا، بے امید یا بے بس محسوس کر رہا ہو تو اس سے بات کرنا اور ضرورت پڑنے پر کسی ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات یا ذہنی صحت کے ماہر سے مدد لینا ضروری ہے۔
مدد طلب کرنا کمزوری نہیں۔ اپنے ذہنی سکون کے لیے قدم اٹھانا بھی اپنی صحت کا خیال رکھنے کا حصہ ہے۔
شاید ہمارے نوجوانوں کو سب سے پہلے “سنا” جانا چاہیے
میرے مشاہدے میں آنے والے ان نوجوانوں کے مسائل نے ایک اہم بات واضح کی:
ہر نوجوان کو صرف مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ بعض اوقات اسے صرف ایک ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو بغیر فیصلہ کیے اس کی بات سن سکے۔
ہم نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ مضبوط بنو، آگے بڑھو، کامیاب ہو جاؤ۔
لیکن کبھی کبھی ہمیں یہ بھی کہنا چاہیے:
“اگر تم تھک گئے ہو تو بات کرو۔ میں تمہیں سننے کے لیے موجود ہوں۔”
شاید ہمارے نوجوانوں کے بہت سے ذہنی مسائل کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ وہ اپنی پریشانی کے ساتھ تنہا رہ جاتے ہیں۔
اور شاید تبدیلی بھی وہیں سے شروع ہو سکتی ہے جہاں ہم انہیں نصیحت دینے سے پہلے، واقعی سننا شروع کر دیں۔
کیونکہ کبھی کبھی کسی کی زندگی میں سب سے قیمتی مدد یہ ہوتی ہے کہ کوئی اسے وقت دے، توجہ دے اور یہ احساس دلائے کہ: “تم اکیلے نہیں ہو۔” |