دل کی شدید کمزوری کے شکار مریضوں کے لیے نئی امید

دل کی شدید کمزوری کے شکار مریضوں کے لیے نئی امید
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

شدید قلبی کمزوری کے شکار مریضوں کے لیے علاج کی دنیا میں ایک نئی امید سامنے آئی ہے۔ چین میں محققین نے ایسی جدید خلیاتی تھراپی تیار کی ہے جس کے ذریعے دل کے تباہ شدہ پٹھوں کی مرمت اور دل کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ابتدائی طویل مدتی نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ یہ طریقہ صرف خون کی بند شریانیں کھولنے تک محدود نہیں بلکہ دل کے ان حصوں کی بحالی میں بھی مدد دے سکتا ہے جو بیماری کے باعث ناکارہ ہو چکے ہوں۔

اس نئی تھراپی میں تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے دل کے خلیے استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں متاثرہ دل کے پٹھوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مردہ یا ناکارہ قلبی بافتوں کی جگہ نئے خلیے لے سکیں اور دل کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آ سکے۔ اس طریقے کو چین میں تیار کیا گیا اور اس کے طویل مدتی طبی مطالعے کے نتائج معروف طبی جریدے ’’نیچر میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

شدید قلبی کمزوری میں دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ موجودہ علاج میں بعض مریضوں کے لیے بائی پاس سرجری خون کی روانی بحال کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس سے وہ دل کا پٹھا دوبارہ نہیں بن پاتا جو پہلے ہی مر چکا ہو۔ نئی خلیاتی تھراپی اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس تحقیق کی بنیاد اس خیال پر رکھی گئی کہ اگر متاثرہ دل میں نئے اور صحت مند قلبی خلیے براہ راست پہنچائے جائیں تو وہ ناکارہ بافتوں کی جگہ لے کر دل کے پٹھوں کی بحالی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یوں خون کی فراہمی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دل کی ساخت اور کارکردگی کو بھی بحال کرنے کا راستہ پیدا ہو سکتا ہے۔

طبی مطالعے میں شامل مریضوں کی 12 ماہ تک نگرانی کی گئی۔ نتائج کے مطابق خلیاتی تھراپی حاصل کرنے والے 90 فیصد مریض ایک ایسی فعال حالت تک پہنچ گئے جسے نیویارک ہارٹ ایسوسی ایشن کی درجہ بندی میں کلاس ٹو قرار دیا جاتا ہے۔ ان مریضوں میں روزمرہ سرگرمیوں کے دوران سانس پھولنے اور سینے میں جکڑن جیسی علامات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اس کے مقابلے میں صرف بائی پاس علاج حاصل کرنے والے گروپ میں یہ شرح 60 فیصد رہی۔

مریضوں کی جسمانی سرگرمی کی صلاحیت میں بھی واضح بہتری سامنے آئی۔ چھ منٹ تک پیدل چلنے کے ٹیسٹ میں خلیاتی تھراپی حاصل کرنے والے مریضوں کی اوسط مسافت میں 168.8 میٹر کا اضافہ ہوا، جو بائی پاس والے گروپ کی بہتری سے تقریباً دو گنا تھا۔

دل کی پمپنگ صلاحیت میں بھی دونوں گروپوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔ خلیاتی تھراپی حاصل کرنے والے مریضوں میں دل کے ہر دھڑکن کے ساتھ باہر جانے والے خون کی مقدار میں اضافہ ہوا، جبکہ صرف بائی پاس والے گروپ میں یہ مقدار کم ہوئی۔ یہ نتیجہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ نئے خلیے دل کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے میں عملی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس تحقیق کا ایک اہم پہلو اس تھراپی کی حفاظت سے متعلق نتائج تھے۔ ایک سالہ نگرانی کے دوران کسی مریض میں رسولی یا مستقل خطرناک بے قاعدہ دھڑکن پیدا نہیں ہوئی۔ مزید اہم بات یہ سامنے آئی کہ پیوند کیے گئے قلبی خلیے مریض کے اپنے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر حرکت کرتے رہے۔ طبی خلیاتی علاج میں یہ ہم آہنگی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ نئے خلیوں کا دل کے قدرتی برقی نظام کے ساتھ مطابقت رکھنا علاج کی حفاظت اور مؤثریت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

اس تھراپی میں استعمال ہونے والی خلیاتی مصنوعات کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہیں پہلے سے تیار کرکے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ مخصوص مریض کے لیے ہر بار نئے خلیے تیار کرنے کے بجائے اسے معیاری بیچوں میں تیار اور ذخیرہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس سے علاج شروع کرنے میں لگنے والا وقت کم ہو سکتا ہے۔

یہ خصوصیت ان مریضوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جو دل کی آخری درجے کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے مریضوں کے لیے دل کی پیوند کاری ایک مؤثر راستہ ہو سکتی ہے، لیکن عطیہ کیے گئے دلوں کی شدید کمی کے باعث ہر مریض کو یہ سہولت میسر نہیں آتی۔ اگر خلیاتی تھراپی بڑے پیمانے پر محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں مریض کے لیے موزوں خلیوں کی دستیابی کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے سے تیار خلیاتی مصنوعات فوری استعمال کے لیے دستیاب رکھی جا سکتی ہیں۔

تحقیق کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہونے کے باوجود اس طریقہ علاج کے سامنے ابھی مزید آزمائشوں کا مرحلہ باقی ہے۔ موجودہ مطالعے میں مریضوں کی تعداد محدود تھی، اس لیے بڑے پیمانے پر مزید طبی تجربات ضروری ہوں گے تاکہ مختلف عمر، بیماری کی شدت اور طبی حالات رکھنے والے مریضوں میں اس تھراپی کی طویل مدتی افادیت اور حفاظت کا زیادہ جامع جائزہ لیا جا سکے۔

تاہم اس مطالعے کا بے ترتیب اور کنٹرول شدہ طبی ڈیزائن اسے خاص اہمیت دیتا ہے۔ محدود تعداد کے باوجود تحقیق میں علاج اور موازنے والے گروپ کے درمیان باقاعدہ تقابل کیا گیا، جس سے خلیاتی تھراپی کے ممکنہ فوائد کا زیادہ مضبوط اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے۔

دل کی بحالی پر مبنی طب میں بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ صرف بیماری کی علامات کو قابو کرنے کے بجائے تباہ شدہ بافتوں کی اصل مرمت کی جائے۔ اگر ناکارہ دل کے پٹھوں میں نئے خلیے کامیابی سے شامل ہو جائیں اور وہ قدرتی دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ رہیں تو علاج کا مقصد صرف دل کو مزید نقصان سے بچانا نہیں بلکہ اس کی کھوئی ہوئی صلاحیت کو کسی حد تک واپس لانا بھی ہو سکتا ہے۔

یوں چین میں تیار کی جانے والی یہ خلیاتی تھراپی شدید قلبی کمزوری کے علاج میں ایک نئے راستے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ابھی اسے معمول کے علاج کا متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا، لیکن ابتدائی نتائج نے یہ ضرور دکھایا ہے کہ مستقبل میں دل کے مردہ پٹھوں کو صرف سہارا دینے کے بجائے انہیں نئے خلیوں کے ذریعے دوبارہ فعال کرنے کی کوشش ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر آنے والے بڑے طبی تجربات نے ان نتائج کی تصدیق کر دی تو یہ طریقہ شدید قلبی کمزوری کے لاکھوں مریضوں کے لیے علاج کی ایک نئی امید بن سکتا ہے۔ 

 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 2021 Articles with 1184351 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More