پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی ادبی ظہرانہ بھارت ور پاکستان سے آئے ممتاز شعرأ و ادبأ کے اعزاز میں شاندار تقریب، ادب کو امن، محبت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا تحریر: سیدہ ایف گیلانی---آسٹریلیا
(Syeda F Gilani, Adelaide)
پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی ادبی ظہرانہ بھارت ور پاکستان سے آئے ممتاز شعرأ و ادبأ کے اعزاز میں شاندار تقریب، ادب کو امن، محبت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا تحریر: سیدہ ایف گیلانی---آسٹریلیا ایڈیلیڈ (آسٹریلیا:پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ کے زیرِ اہتمام پاکستان سے تشریف لانے والے ممتاز شاعر و ادیب اور صحافی جناب انور ندیم علوی اور بھارت سے آئے معروف صحافی، شاعر، محقق اور دانشور ڈاکٹر محمد زاہد کے اعزاز میں ایک پُروقار ظہرانے اور بین الاقوامی ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس باوقار تقریب میں آسٹریلیا میں مقیم ادبائ، شعرائ، ماہرینِ تعلیم، ، سماجی شخصیات اور ادب دوست احباب نے خصوصی شرکت کی اور مہمانانِ گرامی کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ تقریب کی صدارت معروف محقق، شاعر، ماہرِ تعلیم اور مستند اقبال شناس ڈاکٹر محمد افضل رضوی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعراورمزاح نگار ڈاکٹر محسن علی آرزونے اپنی مخصوص شائستگی، برجستگی اور دل آویز اسلوب میں انجام دیے۔ ان کی رواں اور پراثر نظامت نے تقریب کو ابتدا سے اختتام تک علمی وقار، ادبی لطافت اور خوشگوار ماحول سے آراستہ رکھا۔ تقریب کا آغاز ہی اس احساس کے ساتھ ہوا کہ ادب زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی سب سے مؤثر قوت ہے۔ پاکستان، بھارت اور آسٹریلیا سے وابستہ اہلِ قلم کی ایک ہی چھت تلے موجودگی اس حقیقت کی روشن علامت تھی کہ زبانیں اگرچہ مختلف معاشروں میں پروان چڑھتی ہیں، مگر ادب ہمیشہ انسانیت کی مشترکہ میراث رہتا ہے۔ محفل کا ماحول علم و ادب کی خوشبو، تہذیبی شائستگی، باہمی احترام اور محبت کے جذبات سے معطر تھا۔ ناظمِ تقریب محسن علی آرزوؔ نے اپنے اشعار سے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے درج ذیل اشعار نذرِ حاضرین کیے۔ چاہ غب غب میں گرا ہے دل وحشی میرا دیکھ پاتال سے کب کون نکل پا یا ہے اور تیرے ابرو کی کمانی سے جو نکلے ناوک تیرے عشاق کے سینوں میں ہوا ہو جائے چشمَِ قاتل کافسوں ہے کہ محبت کی سزا جو تجھے دیکھ لے پتھر کا وہیں ہو جائے شیخ کو ہو جو میسر کبھی تیری محفل اپنے ایمان کی دولت کو وہیں کھو جائے تقریب کا ایک اہم اور یادگار پہلو بھارت سے شائع ہونے والے موقر سہ ماہی ادبی جریدے ’’انتخاب انٹرنیشنل‘‘کے خصوصی شمارے ’’ڈاکٹر افضل رضوی نمبر‘‘کی باوقار تقریبِ رونمائی تھی۔ اس موقع پر شرکائ نے خصوصی اشاعت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بیرونِ ملک اردو تحقیق، اقبالیات اور ادبی خدمات کے اعتراف کی ایک اہم دستاویز قرار دیا۔ جریدے کی مجلسِ ادارت نے اپنے اداریے میں ڈاکٹر محمد افضل رضوی ؔکی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ: ’’یہ خصوصی شمارہ لاہور سے تعلق رکھنے والے اور آسٹریلیا میں مقیم ممتاز اردو محقق، نقاد، شاعر اور ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر محمد افضل رضویؔ کے نام منسوب ہے۔ انہوں نے دیارِ غیر میں اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے مسلسل ادبی و علمی سرگرمیوں کا انعقاد کر کے اردو کے سفیر کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اردو زبان کی خوش قسمتی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے مخلص اہلِ قلم موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اس کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ اردو کے ایسے دیوانوں کو ہمارا سلام۔‘‘ شرکائے محفل نے اس خصوصی شمارے کی اشاعت کو ڈاکٹر افضل رضوی کی علمی، تحقیقی اور ادبی خدمات کے عالمی اعتراف سے تعبیر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی کاوشیں بیرونِ ملک اردو زبان و ادب کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گی۔ اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد افضل رضوی نے کہا کہ ادب انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے، تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور عالمی سطح پر امن، احترام اور مکالمے کو فروغ دینے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی یادداشت، فکری روایت اور مشترکہ ثقافتی شعور کی امین زبان ہے۔ بیرونِ وطن منعقد ہونے والی ایسی ادبی تقریبات نہ صرف اردو زبان کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنی تہذیبی شناخت، ادبی سرمایہ اور فکری ورثے سے جوڑے رکھنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب اختلاف کو تصادم نہیں بلکہ مکالمے میں تبدیل کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی سماجی اور تہذیبی قوت ہے۔انہوں نے حاضرین کی فرمائش پردرج ذیل اشعار پر خوب داد وصول کی۔ میں ابنِ آدم ہوں، یہ زمانہ مری دسترس میں ہے معرکۂ جبر و قدر میں، زمانہ خس و ہوس میں ہے
میں اپنے عہد کے فرعون سے ٹکرانے نکلا ہوں مری صدا ابھی مظلوم کے لبِ جرس میں ہے اس کے بعد منعقدہ شعری نشست نے محفل کو ایک نئی روح بخش دی۔ سنجیدہ فکر، کلاسیکی روایت، عصری شعور اور لطیف احساسات سے مزین شاعری نے حاضرین کو اپنے سحر میں لے لیا۔ محبت، وطن، انسان دوستی، تہذیبی اقدار اور انسانی رشتوں کے موضوعات پر پیش کیے گئے اشعار نے سامعین کے دلوں کو مسحور کر دیا اور ہر عمدہ شعر پر بھرپور داد و تحسین کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ ڈاکٹر محمد زاہد نے اپنی غزل پیش کی تو ہر طرف سے داد و تحسین کی صدائیں بلند ہوئیں۔ ان کے کلام سے ایک دو اشعار یہاں درج کیے جارہے ہیں: یہاں زندگی کے سہارے بہت ہیں جو ہے اک بھنور تو کنارے بہت ہیں یہ مانا کہ تم ہو سکے نہ کسی کے! مگر اس جہاں میں تمہارے بہت ہیں اور ہمارے خیالوں میں شبنم کے موتی حقیقت میں زاہدؔشرارے بہت ہیں جناب انور ندیم علوی نے غزل سرا ہوتے ہوئے جب اپنا کلام نذرِ سامعین کیا تو انہیں بھی خوب داد ملی۔ان کے چند اشعار یہاں شامل کیے جارہے ہیں۔ یہ فسانہ نہیں حقیقت ہے عشق ہے اور بلا ضرورت ہے عمر بھر کی یہی ریاضت ہے ابنِ آدم سے کی محبت ہے اور لوگ پتھر اُٹھائے پھرتے ہیں میں نے اتنا کہا ’’محبت‘‘ہے ادبی نشست میں آسٹریلیا کے ممتاز شعرائ نبیل حیدر، بشارت سمیع، بابر ضمیر اور ڈاکٹر افضل محمود نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔ڈاکٹر افضل محمود جو نہ صرف اچھے شاعر بلکہ ایک معتبر ڈرامہ نویس بھی ہیںانہوں نے درج ذیل اشعار نذرِ محفل کرکے خوب داد وصول کی۔ تمہی اک نہیں ہو تنہا کوئی اور بھی دکھی ہے میں یہ شہر چھوڑ جاتا کہ کسی نے یہ صدا دی اور میں شکایتوں کی خاطر ابھی حرف چن رہا تھا میری چشم تر نے سب کو میری داستاں سنا دی نبیل حیدر کے کلام سے ایک دو اشعار نذرِ قارئین: ہم کو اس کا بھی غم بھلانا ہے جو محبت کبھی ہوئی ہی نہیں اور سنا تھا عشق نہیں ہوتا عقل والوں کو مگر یہ دکھ کہ ہمیں عقل دیر سے آئی بشارت سمیع کا ایک قطعہ بھی نذر ِ قارئین کیا جارہا ہے۔ ہاتھوں میں لئے جام دروازہ کھلا رکھا ہے ہم نے تیرے آنے پہ ماحول بنا رکھا ہے تم تو ناراض ہو بس روٹھے ہو کہاں جان وفا ہم نے روٹھوں کو بھی سو بار منا رکھا ہے بابر ضمیر ایڈیلیڈ کے ابھرتے ہوئے شاعر ہیں ان کے کللام سے چند اشعار نذرِ قارئین: دیکھ کیا ہے حال تجھے دیکھنے کے بعد بدلی ہوئی ہے چال تجھے دیکھنے کے بعد اور خاموش سب سوال تجھے دیکھنے کے بعد ایسا ہوا کمال تجھے دیکھنے کے بعد اپنے تاثرات میں جناب انور ندیم علوی اور ڈاکٹر محمد زاہد نے پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ کی مسلسل ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیارِ غیر میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اس نوعیت کی تقریبات نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ آسٹریلیا میں اردو کے فروغ کے لیے نہایت سنجیدگی، اخلاص اور تسلسل کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے، جو پوری اردو دنیا کے لیے باعثِ افتخار ہے۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ گزشتہ کئی برسوں سے آسٹریلیا میں اردو زبان و ادب، اقبالیات، علمی و تحقیقی سرگرمیوں اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ فورم نے نہ صرف آسٹریلیا میں اردو ادب کو ایک مضبوط شناخت عطا کی ہے بلکہ مختلف ممالک کے اہلِ قلم کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم پر جمع کر کے عالمی ادبی روابط کو بھی استحکام بخشا ہے۔ تقریب کے اختتام پر شرکائے محفل نے مہمانانِ گرامی کی آمد پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ کی اس کامیاب ادبی کاوش کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل میں بھی اسی جذبہ اخلاص کے ساتھ ایسی بین الاقوامی ادبی تقریبات کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ ادب، ثقافت، انسان دوستی اور عالمی مکالمے کی یہ روشن روایت مزید فروغ پا سکے۔ یہ باوقار تقریب اپنے علمی وقار، ادبی لطافت، تہذیبی شائستگی اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے دل آویز پیغام کے باعث شرکائ کے لیے ایک ناقابلِ فراموش یاد بن گئی۔ اس محفل نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ ادب وہ مشترکہ زبان ہے جو قوموں کے درمیان فاصلے کم کرتی، دلوں کو قریب لاتی اور انسانیت کے آفاقی رشتے کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ یہی وہ پیغام تھا جو اس شام کی روح بن کر ہر شریکِ محفل کے دل میں دیر تک گونجتا رہا۔ |
|