اسنو وائٹ
(Unaiza Ghazali, Karachi)
انیسویں صدی میں برادرز گرِم نے ایک جرمن فیری ٹیل اسنو وائٹ کے نام سے شائع کی۔ اس کے ساتھ کچھ اور بھی کہانیاں چھپیں اور یہ سب کہانیاں بہت مقبول ہوئیں۔ ان پر مبنی کتاب ایک وقت میں دوسری سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن گئی اور یہ بھی کہا جانے لگا کہ ہر بچے کی بک کلیکشن میں یہ کتاب ہونی چاہیے۔ بعد آنے والوں میں بھی ان کہانیوں نے بہت شہرت پائی اور آج بھی بچے اسنو وائٹ کو جانتے ہیں۔ بچپن سے جب بھی یہ کہانی سننے یا پڑھنے میں آئی، سچی بات ہے کہ اس نے کبھی متاثر نہیں کیا۔ ان کہانیوں نے یہ ظاہر کیا کہ فضول شہزادیاں پستی رہتی ہیں، اس وقت تک جب تک کہ کوئی شہزادہ آ کر انھیں نہ بچائے۔ انسان کو اپنے لیے خود کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ دوسروں کے انتظار میں بیٹھا رہے کہ وہ آ کر بچائیں گے۔ حال ہی میں اسنو وائٹ کا وہ ورژن سمجھنے کا اتفاق ہوا جو برادرز گرِم نے شائع کیا تھا اور جس کے کئی ایڈیشنز ہیں۔ پہلا ایڈیشن 1812 ء اور آخری 1857 ء میں نکالا گیا اور دونوں میں بہت فرق تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد سوچ میں کچھ تبدیلی آئی اور محسوس ہوا کہ یہ فیری ٹیلز بھی کہیں نہ کہیں کچھ سکھانے کے لیے لکھی گئی تھیں۔ یہ بات یقیناً حیران کن ہے کہ اسنو وائٹ جب پہلی بار بطور کہانی چھپی تھی تو اس کی کوئی سوتیلی ماں نہیں تھی۔ بلکہ وہ اس کی اصل ماں تھی جو اس کی خوبصورتی سے حسد کرنے لگی تھی اور بالآخر اس کی برداشت ختم ہو گئی تھی تب اس نے انتہائی قدم اٹھا کر اسنو وائٹ پر ظلم کیا تھا۔ لیکن بعد آنے والے ایڈیشنز میں سوتیلی ماں داخل کر دی گئی کیوں کہ سگی ماں والی کہانی بہت حد تک معاشرے میں نا قابل ہضم تھی اور اس سے نکلنے والا نتیجہ اس سے بھی کہیں زیادہ تلخ تھا۔ 1812 ء میں منظر عام پر آنے والی اسنو وائٹ میں شہزادہ اپنے ملازمین سے کہتا ہے کہ اسنو وائٹ جس ڈبے میں ہے، اسے اٹھا اٹھا کر گھومو تاکہ میں جہاں بھی جاؤں، وہ میری نظر کے سامنے رہے۔ ظاہر ہے یہ انتہائی فضول سی بات ہے اس لیے اسے بعد میں تبدیل کر دیا گیا۔ لیکن اس ورژن میں آگے جا کر یہ ہوا کہ جو ملازمین ڈبا اٹھائے لیے پھرتے تھے، ان میں سے ایک ملازم ایک روز اکتا گیا اور اس نے ڈبا کھول کر کچھ ایسا کیا کہ سیب باہر آ گیا اور اسنو وائٹ جاگ گئی۔ اگر اس پہلے ایڈیشن کے یہ دونوں واقعات دیکھیں تو ان میں سبق ہے۔ پہلے واقعے میں جب کہ اسنو وائٹ کی سگی ماں ہی ملکہ بد ہوتی ہے اور اپنی خوبصورتی کے آگے وہ اس کا مقام تسلیم نہیں کر پاتی ہے، اس میں یہ حقیقت پنہاں ہے کہ بعض اوقات نہایت قابلِ احترام تعلقات بھی باعث شر بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے گھر میں سب کو پڑھاتا ہے لیکن اگر کوئی اس سے آگے بڑھنے لگے تو وہ برداشت نہیں کر پاتا اور اپنے رویے سے اس بات کا ثبوت دینے لگتا ہے۔ اسی طرح استاد اپنے شاگرد کو سکھاتا ہے مگر جب وہ استاد کے مقام تک آنے لگے تو بعض دفعہ استاد خود کو غیر محفوظ تصور کر کے شاگرد کا مرتبہ گرا دیتا ہے۔ کڑوے ہی صحیح، مگر یہ ایسے حقائق ہیں جن سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ دوسرے واقعے میں جب شہزادہ ملازمین کو ڈبا اٹھا کر گھومنے کا حکم جاری کرتا ہے اور بالآخر ایک نوکر اکتا جاتا ہے، اس میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ کبھی بھی لوگوں کو ایسی چیز کے ساتھ نہیں باندھنا چاہیے جو بے مقصد ہو۔ کیوں کہ اگر وہ کسی مجبوری کے باعث اظہار نہ بھی کریں تو ایک وقت آتا ہے کہ وہ ضبط کھو دیتے ہیں۔ سوچ سمجھ کر ذمہ داریاں دینی چاہییں اور اپنی خواہشات کے پیچھے خود سے جڑے یا اپنے ماتحت لوگوں کو آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ ہمیشہ اسنو وائٹ سے یہی بات سکھائی جاتی ہے کہ حسد کا انجام برا ہوتا ہے۔ اگر حقیقی ورژن دیکھیں تو اور بھی اسباق موجود ہیں۔ بشرط یہ کہ ہم پرنس پرنسس فینٹسیز سے نکل کر سوچنے والے ہوں۔ |
|