انڈونیشیا: امن, سلامتی اور ترقی کا 81 سالہ سفر حصہ اول


پاکستان کا انتہائی قریبی دوست اور برادر ملک انڈونیشیا کا 81وا یوم ازادی 17 اگست 2026 کو منایا گیا۔ ہم اپنے برادر ملک کی عوام اور قیادت کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انڈونیشیا دنیا کی سب سے زیادہ ابادی والا مسلم ملک ہے جس کی ابادی 29 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ انڈونیشیا نے 1945 میں ازادی حاصل کی۔ 81 سالہ امن سلامتی اور ترقی کا شاندار سفر طے کیا۔ ازادی کے بعد 1945 میں انڈونیشیا نے اپنی کمزور معیشت کو سہارا دیا ،استعماری نظام کی خرابیوں کو دور کیا اور اج انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کا اہم ملک ،جی 20 کا قابل فخر رکن برکس اور اسیان بلاک کا اہم اور فعال رکن ہے، انڈونیشیا کے قدرتی ذخائر اہم تزویراتی، بحری جائے وقوع اس کی جمہوریت سے وابستگی نے اسے دنیا میں ایک اہم اور باوقار مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے اتحاد و یکجہتی کو بھی برقرار رکھا ہے
1945 سے 1966 کا دور ملک کو مستحکم کرنے کا دور تھا ۔صدر سوئیکار نو نے قومی شناخت کو غیر ملکی استعماری شناخت پر ترجیح دینے پر زور دیا اور ملک کے ہزاروں جزیروں کو اپنے تنوع حیثیت کے باوجود متحد رکھا۔ 1986 سے 1998 کا دور معاشی استحکام کے حصول کے لیے وقف کیا گیا اور صدر سہارتو نے معاشی نمواور زرعی ترقی پر توجہ دی۔ 1998 سے 2014 کا دور اصلاحات کا دور تھا، جمہوری روایات کو مستحکم کیا گیا اور معاشی ترقی کی جامع منصوبہ بندی کی گئی، جمہوریت کی جڑیں مستحکم ہوئیں اور انڈونیشیا نے علاقائی امن و استحکام میں اہم کردار ادا کیا ۔2014 سے 2026 تک بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر انڈونیشیا کے نمایاں اور باوقار کردار پر توجہ دی گئی۔ بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی گئی۔

انڈونیشیا کی معاشی ترقی حیرت انگیز ہے۔ ازادی کے بعد ایک معمولی معاشی حیثیت سے اس نے ہزایہ ڈالر کی جی ڈی پی کا شاندار سفر کیا اور ایشیا کے تیز ترین معاشی ترقی کرنے والے چند ممالک میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
انڈونیشیا اسیان بلاک کا اہم متحرک اور فعال رکن ملک ہے اور اس نے عالمی طاقتوں سے تعلق میں بڑی کامیابی سے توازن برقرار رکھا اور عالمی چشمک سے اپنے اپ کو بڑی حکمت عملی سے محفوظ رکھا۔ ہزاروں جزیروں کی متنوع ابادی میں اس نے اپنے سماجی اتحاد کو برقرار رکھا سینکڑوں زبانوں، مختلف لسانی اکائیوں اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم اہنگی برار برقرار رکھنے کی کامیاب پالیسی پر عمل درامد کیا اور بینکا ٹنگا لیکا یعنی متنوع میں اتحاد کے نعرے کو عملی شکل دی

انڈونیشیا دنیا کی چھٹی بڑی معاشی قوت ہے اور اس کی جی ڈی پی جو 1967 میں محض 5.7 ارب ڈالر تھی 2025 میں 1500 ارب ڈالر تک جا پہنچی جو ایک بہت بڑی اور نمایاں کامیابی ہے۔ اس نے بڑی کامیابی سے پانچ سے چھ فیصد اوسط معاشی نمو کو برقرار رکھا۔ انڈونیشیا اپنے عوام تک معاشی ثمرات پہنچانے اور ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے کوشاں ہے ۔انڈونیشیا کی معاشی پالیسی میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ انڈونیشیا کی معاشی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ صرف ایک فیصد معاشی شرع نمو میں اضافے سے نو لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ۔سال 2026 کے لیے انڈونیشیا بے 'دولت عادل دان مکمر" کا نظریہ پیش کیا ہے جس کا مطلب ہے خود مختار, انصاف پسند اور خوشحال انڈونیشیا جو اس امر کا اظہار ہے کہ ترقی کے ثمرات مساویانہ طور پر معاشرے کے ہر حصے اور جغرافیائ طور پر ہر جگہ پہنچنے چاہیے۔ انڈونیشیا گوٹونگ ریونگ کے فلسفے پر کاربند ہے جس کا مطلب ہے باہمی تعاون اور قومی ہم اہنگی۔
انڈونیشیا کی قیادت اور عوام جشن ازادی کو نہایت دھوم دھام سے مناتے ہیں اور اس سلسلے کی تقریبات صرف ایک دن تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس کا سلسلہ یکم اگست کو قومی ذکر اور بین الاقوامی دعاؤں کے اغاز سے ہوتا ہے اور جکارتا قومی یادگار یعنی سوناس میں ایک لاکھ سے زائد لوگ انڈونیشیا کے عظیم مذہبی تنوع کے ذریعے یکجہتی ،یگا نگت اور ہم اہنگی کا اظہار کرتے ہیں اور مسلم، ہندو، سکھ، بدمت ،کنفیوشس کے ماننے والے اپنے ملک کی سلامتی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیں مانگتے ہیں
ازادی کی تقریبات کے موقع پر ملک کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو میڈلز اور اعزاز دیے جاتے ہیں ان اعزاز اور میڈل وصول کرنے والوں میں اہل علم و ادب ،فنکار، مذہبی قیادت ،مسلح افواج میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے افراد شامل ہوتے ہیں
انڈونیشیا کے صدر پروبو بسیانتوہ نے 14 اگست کو پارلیمنٹ سے اہم خطاب کیا اور انڈونیشیا کی نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور 2027 کے بجٹ کے متعلق اپنی ترجیحات سے قوم کو اگاہ کیا
17 اگست کو میر دیکھا محل جکارتا میں اہم تقریب ہوئی ہے جہاں صدر پرابو بسیانتوہ نے پرچم کشائی کی ایک کثیر تعداد میں لوگ اس خوشگوار منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے اس دن کھیلوں کے مقابلے بھی ہوئے اور ایک بڑی عوامی دوڑکا انعقاد بھی کیا گیا (جاری)
ض

 

Dr Mehboob Syed
About the Author: Dr Mehboob Syed Read More Articles by Dr Mehboob Syed: 301 Articles with 156485 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.