چین کی ٹھنڈی دنیا، سیاحت کا نیا رنگ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی ٹھنڈی دنیا، سیاحت کا نیا رنگ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
یورپ میں گرمی کی لہریں شدت اختیار کر رہی ہوں اور درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہو تو ایسے میں دنیا بھر کے سیاح موسم سے بچنے کے لیے نئی منزلیں تلاش کر رہے ہیں۔ چین بھی اب ان مسافروں کے لیے صرف تاریخی مقامات، ثقافت اور قدرتی مناظر کی وجہ سے ہی پرکشش نہیں رہا بلکہ یہاں گرمی سے راحت دینے والی جدید سہولیات، سرسبز توانائی، تیز رفتار سفری نظام اور جدید ٹیکنالوجی بھی سیاحت کا نیا تجربہ پیش کر رہی ہیں۔
روایتی خیموں اور وسیع سبز میدانوں سے لے کر بڑے شہروں کے جدید ان ڈور برفانی مراکز تک، چین میں گرمی سے بچنے کے لیے قدرتی اور مصنوعی دونوں طرح کے انتظامات دستیاب ہیں۔ بعض مقامات پر روایتی رہائش گاہوں میں بھی جدید ایئر کنڈیشننگ کی سہولت موجود ہے، جبکہ بڑے شہری مراکز میں مصنوعی برف اور منفی درجہ حرارت کے ماحول میں گرمی کے موسم کے دوران بھی اسکیئنگ اور برفانی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ تجربہ اب انفرادی واقعہ نہیں رہا۔ یورپ اور دنیا کے دوسرے گرم علاقوں سے آنے والے بہت سے غیر ملکی سیاح چین میں موسم گرما گزارنے کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں قدرتی طور پر موسم نسبتاً ٹھنڈا ہو یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گرمی سے بچاؤ کا انتظام کیا گیا ہو۔
چین کے بڑے شہروں میں بھی گرمی سے راحت کے ایسے منفرد طریقے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض غیر ملکی سیاحوں نے شدید گرمی کے دوران ان ڈور برفانی مراکز اور اسکی ریزورٹس کا رخ کیا، جہاں باہر درجہ حرارت 30 ڈگری سے زیادہ ہو تو اندر مصنوعی موسم سرما قائم کیا جاتا ہے۔ ایک بڑے ان ڈور اسکی مرکز میں تقریباً ایک لاکھ مربع میٹر کے برفانی رقبے پر درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس رکھا جاتا ہے، جبکہ برفانی ڈھلوان کی بلندی بھی خاصی نمایاں ہے۔
یہاں آنے والے سیاح گرمی کے عین موسم میں برف پر اسکیئنگ اور موسم سرما کی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایسے مراکز نے موسم گرما کی سیاحت کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے، جہاں شدید گرمی سے چند گھنٹوں کے لیے مصنوعی سرد ماحول میں منتقل ہونا ممکن ہو گیا ہے۔
تاہم اس ٹھنڈک کے پیچھے صرف بجلی کا زیادہ استعمال نہیں بلکہ توانائی بچانے والی جدید ٹیکنالوجی بھی کام کر رہی ہے۔ بڑے ان ڈور برفانی مراکز میں شمسی توانائی، بہتر حرارتی موصلیت، کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مبنی ریفریجریشن، ضائع ہونے والی حرارت کی دوبارہ بازیافت، برفانی توانائی ذخیرہ کرنے اور نمی کو کنٹرول کرنے جیسے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں بجلی کہاں سے آتی ہے؟ چین میں موسم گرما کے دوران ایئر کنڈیشننگ، ٹھنڈک اور تفریحی سہولیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود بجلی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور پیداوار کے نظام کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے۔
چین کے مغربی اور شمالی حصوں میں ہوا اور شمسی توانائی کے وسیع وسائل موجود ہیں، جبکہ بجلی کی طلب کا بڑا حصہ ملک کے مشرقی اور مرکزی علاقوں میں ہے۔ انتہائی بلند وولٹیج کی ترسیلی لائنوں کے ذریعے قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی طویل فاصلے تک ان علاقوں تک پہنچائی جا رہی ہے جہاں گرمیوں میں طلب بہت بڑھ جاتی ہے۔یوں کسی دور دراز علاقے کے ٹھنڈے خیمے میں نصب ایئر کنڈیشنر سے لے کر بڑے شہری برفانی مرکز تک، گرمی سے راحت کا یہ پورا تجربہ ایک وسیع توانائی کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔
کچھ بڑے شہروں میں رواں سال سبز بجلی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موسم گرما میں اضافی بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے حاصل کی جانے والی نئی بجلی کا ایک بڑا حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس سے ایک طرف بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری ہو رہی ہے تو دوسری طرف توانائی کی سبز منتقلی کو بھی تقویت مل رہی ہے۔
چین کی موسم گرما کی سیاحت کو نئی وسعت دینے میں صرف بجلی اور ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ ملک کا وسیع سفری نظام بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تیز رفتار ریل گاڑیوں اور فضائی رابطوں کے وسیع نیٹ ورک نے ایسے مقامات تک پہنچنا آسان بنا دیا ہے جو اپنے نسبتاً معتدل موسم، پہاڑوں، جھیلوں اور قدرتی مناظر کی وجہ سے موسم گرما میں خاص کشش رکھتے ہیں۔
اب غیر ملکی سیاح بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چین کے مختلف ٹھنڈے اور قدرتی حسن سے مالا مال علاقوں کا رخ بھی کر رہے ہیں۔ کچھ مقامات اپنے پہاڑی موسم کی وجہ سے مقبول ہیں، کچھ نسبتاً خشک اور معتدل آب و ہوا کی وجہ سے جبکہ بعض ساحلی علاقوں میں گرمی سے بچنے کے لیے منفرد تفریحی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
چین کا تیز رفتار ریلوے نظام اس تبدیلی میں خاص کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا کے مجموعی تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ چین میں موجود ہے، جس کی وجہ سے ایک ہی دن میں مختلف موسموں اور جغرافیائی ماحول کا تجربہ کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔یوں صبح کسی گرم شہر میں روایتی کھانے سے لطف اندوز ہونے والا مسافر چند گھنٹوں بعد پہاڑوں کے دامن میں ٹھنڈی ہوا محسوس کر سکتا ہے۔ یہی سہولت چین کی جدید نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کی ایک نمایاں خصوصیت بن رہی ہے۔
چین میں موسم گرما کی یہ نئی سیاحت محض گرمی سے بچنے کا ایک عارضی رجحان نہیں۔ اس میں ملک کی جدید ترقی کے کئی پہلو ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ سبز بجلی، جدید توانائی کا نظام، مصنوعی برفانی مراکز، روایتی ماحول میں جدید سہولیات اور تیز رفتار سفری نیٹ ورک مل کر سیاحوں کے لیے ایک ایسا تجربہ بنا رہے ہیں جس میں روایت اور جدیدیت، قدرت اور ٹیکنالوجی، سفر اور سہولت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
غیر ملکی سیاح جب چین کے ان مختلف پہلوؤں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ان کے لیے ملک کی ترقی محض اعداد و شمار نہیں رہتی بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک حقیقی تجربے میں بدل جاتی ہے۔ یہی تجربہ چین اور دنیا کے درمیان عوامی اور ثقافتی رابطوں کو مزید قریب لانے کا ایک قدرتی ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ |
|