راکھن پاس ٹریک

راکھن پاس وادی خالترو / خلتارو حراموش اور وادی بگروٹ گلگت کے درمیان ایک بلند اور ٹیکنیکل درہ ہے۔ مضمون میں اس درے کے بارے میں اہم معلومات اور یہ درہ پار کرنے کا احوال مختصر طور پر بیان کیا گیا ہے۔

راکھن پاس

 

 

راکھن پاس ٹریک
ایک دشوار اور ٹیکنیکل درہ
سلسلہ کوہ قراقرم کے پہاڑوں میں بے شمار ایسے درے موجود ہیں جو اپنی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان میں سے بعض درے ایسے بھی ہیں جو جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک درہ راکھن پاس بھی ہے جو وادی خالترو حراموش اور وادی بگروٹ گلگت کو باہم ملاتا ہے۔ وادی خالترو بذات خود ایک نہایت دلکش وادی ہے۔
اس درے کے لیے وادی حراموش کی طرف سے جیپ پر ڈورچن گاؤں اور یہاں سے آگے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ وادی بگروٹ کے گاؤں گسونر تک ہر قسم کی گاڑی جاسکتی ہے جہاں سے آگے سارا سفر پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔ اس سفر کے لیے مہم جوئی کے مکمل سامان کی ضرورت ہوتی ہے جس میں خیمے، سلیپنگ بیگز، میٹرس، ہائیکنگ سٹکس، برساتی اور سٹوو شامل ہیں۔ یہ 02 سے 03 دن کا پیدل سفر ہوتا ہے جس پر حسین ترین قدرتی مناظر، فطری ماحول اور دلکش مقامات واقع ہیں۔
راکھن پاس شاہراہِ بلتستان پر واقع ایک مقام سسی سے کم و بیش 25 اور وادی بگروٹ کے گاؤں گسونر سے 14 کلومیٹر (یہ فاصلے معین نہیں ) کے فاصلے پر واقع ہے۔ راکھن پاس ایک دشوار اور ٹیکنیکل درہ ہے۔ اس درے کی دونوں وادیوں کی طرف سے چڑھائی اور اترائی کٹھن ہونے کے ساتھ ساتھ بعض مقامات پر خطرناک بھی ہے۔ اس درے کی سطح سمندر سے بلندی کم و بیش 15700 فٹ ہے۔
اس سفر کے لیے ہم مؤرخہ 15 جولائی کو براستہ بابوسر پاس گلگت شہر پہنچ گئے۔16 جولائی کو نصر بھٹی ، حاکم خان صاحب(سابق اسسٹنٹ کمشنر راوالپنڈی)، مصور ابراہیم، حمزہ ، طلحہٰ اور خاکسار ایک ویگن میں سوار ہو کر شاہراہِ بلتستان پر واقع ایک مقام شہٹوٹ پہنچے اور یہاں سے جیپ پر سفر کرتے ہوئے وادی خلتارو(خالترو) کے گاؤں ڈورچن پہنچے۔ یہ کم و بیش 16 کلومیٹر کا سفر ہے۔ ہمارا گائیڈ پامیری گاؤں سے تعلق رکھنے والا آصف تھا جو گلگت شہر سے ہی ہمراہ ہوگیا تھا۔
خلتارو گاؤں میں چند لمحات آرام کے بعد راکھن پاس ٹریک پر سفر کا آغاز کیا۔ آغاز سے ہی مسلسل چڑھائی کاسفر شروع ہوگیا جو قدم بہ قدم دشوار ہوتا گیا۔ کم و بیش 03 گھنٹے سفر کے بعد ہم اپنی اس دن کی کیمپ سائٹ پہنچے ۔ یہاں سامان چھوڑکر ’’کھن میڈوز‘‘ کی طرف روانگی ہوئی۔
کھن میڈوز پہاڑ وں کی چوٹیوں پر ایک نہایت خوبصورت اور سرسبز ڈھلوان دارمیدان ہے جس کی سطح سمندر سے بلندی کم و بیش 11200 فٹ ہے۔ بلند قامت درختوں اور اردگرد کے سحر انگیز نظاروں نے کھن میڈوز کو دلکش بنا دیا ہے ۔ یہاں سے پاکستان و دنیا کے چند بلند اور مشہور پہاڑ نظر آتے ہیں جن میں نانگا پربت(8126 میٹر)، حراموش اول(7409 میٹر) و دوم(6606 میٹر)، لیلیٰ چوٹی(6985 میٹر)، مالوبیٹنگ(7458 میٹر)، میار چش(6825 میٹر) اور بلچار ڈوبانی(6143 میٹر) نمایاں ہیں۔اڑھائی گھنٹے کھن میڈوز کی سیر وسیاحت کے بعد کیمپ سائٹ واپسی ہوئی اور رات خیموں میں قیام کیا۔
17 جولائی 2026ء کو علیٰ الصبح سفر کا آغاز کیا۔ راستہ پہلے تو مسلسل چڑھائی مائل تھا لیکن بعد میں قدرے ہموار ہوگیا۔ ہماری آج کی منزل پامیری گاؤں اور خالترو کی آبشاریں تھیں۔ 02 گھنٹے سفر کے بعد ہم پامیری گاؤں پہنچے۔ یہ سارا علاقہ نہایت خوبصورت ہے۔ علاقے کے لوگ مہمان نواز اور تعاون کرنے والے ہیں جنہوں نے روایتی دہی، مکھن اور چائے سے ہماری خاطر تواضع کی۔ پامیری گاؤں میں ہمارے گائیڈ آصف کا گھر واقع ہے جہاں سامان رکھ کر اور تازہ دم ہوہم خالتروں کی آبشاروں کی طرف روانہ ہوئے۔
پامیری گاؤں سے خالترو کی 07آبشاریں صرف 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔یہ آبشاریں مستقل نہیں ۔ میار چش چوٹی سے اترنے والے برف زاروں کے پگھلنے سے وجود میں آتی ہیں۔ اس وقت 05 آبشاریں نظر آرہی تھی جبکہ بقیہ دو غائب تھیں۔ شام کو پامیری گاؤں واپسی ہوئی اور راکھن پاس پار کرنے کے بارے میں صلاح مشورہ ہوا۔
گروپ لیڈر نصر بھٹی نے فیصلہ کیا کہ راکھن پاس کی چڑھائی ہم سامان کے بغیر کریں گے اور سامان پورٹرز اٹھائیں گے۔ اس مقصد کے لیے 05 عدد پورٹر بھرتی کیے گئے جنہوں نے ٹاپ تک سامان پہنچا کر واپس آجانا تھا۔ یہ سب پورٹرز آصف کے قریبی رشتہ دار تھے۔
18 جولائی 2026ء کو ہم فجر سے بھی پہلے بیدار ہوگئے۔ ناشتہ کیا اور نماز ادا کرنے کے معًا بعد ہی ہم راکھن پاس کے لیے روانہ ہوگئے۔ چڑھائی قدم بہ قدم دشوار اور سخت ہوتی گئی۔ ڈیڑھ گھنٹہ سفر کے بعد چڑھائی عمودی ہونا شروع ہوگئی ۔ ہمارے سفر کے سخت ترین مرحلے کا آغاز ہوچکا تھا لیکن سبھی لڑکے بلند ہمت و حوصلہ کے ساتھ سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ پہلی عمودی چڑھائی چڑھ کر 15 منٹ کا وقفہ لیا گیا ۔ اس مختصر وقت میں ہم نا صرف تازہ دم ہوئے بلکہ ہر طرف کی عکس بندی بھی کی۔ بلندی سے ہر طرف کے مناظر نہایت دلکش نظر آرہے تھے۔ قدرتی حسن ہر چڑھتے قدم کے ساتھ عریاں ہوتا چلا جارہا تھا۔
راکھن پاس تاحال نظروں سے اوجھل تھا۔ 20 منٹ کا ہموار سفر کیا۔ یہ چڑھائی سے قبل آخری ہموار راستہ تھا۔ اس کے بعد جو عمودی چڑھائی شروع ہوئی تو راکھن پاس تک ختم نہ ہوئی۔ پتھروں سے آراستہ ایک مخدوش طویل ڈھلوان اور ایک طویل گلیشیئر چڑھنے کے بعد 10 بجے ہم راکھن پاس پر پہنچ گئے۔ الحمد للہ
راکھن پاس سے ہر طرف کے نظارے دلفریب تھے۔ حراموش کی طرف مالوبیٹنگ، حراموش اور میار چش کی چوٹیاں دعوت نظارہ دے رہی تھیں تو بگروٹ کی طرف راکاپوشی اور دیران چوٹی اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور خوبصورتی کے ساتھ جلوہ گر تھیں۔
خالترو کی طرف سے راکھن پاس کی چڑھائی تو عمودی تھی ہی لیکن بگروٹ کی طرف اترائی چڑھائی سے زیادہ عمودی تھی۔ کم و بیش 80 ڈگری کی یہ اترائی چڑھائی کی نسبت خطرناک اور بعض مقامات پر نہایت خطرناک تھی۔ راستہ انتہائی شکستہ اور مخدوش تھا۔ چھوٹے پڑے پتھر اور بجری پر نہایت احتیاط کے ساتھ قدم رکھنا پڑتا تھا ایک قدم نیچے اترتے تو 04 فٹ گھسٹتے ہوئے نیچے جاتے تھے۔ بمشکل تمام خود کو کئی خطرناک مقامات پر گرنے سے بچایا۔ میں برف پر سلائیڈ لے کر کم و بیش ڈیڑھ ہزار فٹ کی اترائی اتر گیا۔ پورٹرز ہمارا سامان 01 ہزار فٹ تک نیچے لے آئے جہاں سے ہم نے سامان اٹھا لیا۔
دوپہر اڑھائی بجے ہم گرگو میڈوز پہنچ گئے۔ہم نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور مزید 09 کلومیٹر کا سفر کرکے شام 05 بجے گسونر گاؤں پہنچے۔ 09 کلومیٹر کے اس سفر میں کم و بیش 06 کلومیٹر کا سفر بلچی گلیشیئر کے نوکیلے پتھروں اور چٹانوں پر تھا۔ نیز اس سارے سفر میں ہمیں پانی کا ایک بھی چشمہ نہ ملا۔ پیاس سے نڈھال ہم گسونر گاؤں کے قریب پہنچے تو بلچار گلیشیئر سے آنے والا گدلا پانی پی کر پیاس بجھائی۔ گسونر گاؤں داخل ہوئے تب ہمیں پانی کا ایک چشمہ ملا۔
گسونر گاؤں میں ایک ہوٹل سے ریفریشمنٹ کے بعد ہم ایک کیری ڈبہ میں سفر کرتے ہوئے واپس گلگت پہنچ گئے۔ الحمدللہ۔
Syed Zeeshan Iqbal
About the Author: Syed Zeeshan Iqbal Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.