چین کی ٹھنڈی فضا، سیاحوں کی نئی منزل
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی ٹھنڈی فضا، سیاحوں کی نئی منزل تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا کے کئی حصوں میں شدید گرمی نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا تو ٹھنڈی ہوا، پہاڑوں اور قدرتی مناظر کی تلاش میں سیاحوں نے چین کا رخ کرنا شروع کردیا۔ بلند پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور نسبتاً معتدل موسم والے مقامات نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے چین کو صرف تاریخی اور ثقافتی سفر کی منزل کے بجائے گرمی سے بچنے کے ایک نئے مقام کے طور پر بھی نمایاں کردیا ہے۔
چین کے بعض علاقوں میں موسم گرما میں درجہ حرارت 22 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا، بلند پہاڑوں اور خوبصورت قدرتی مناظر کے باعث یہاں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ کئی یورپی ممالک میں شدید گرمی کے باعث لوگ نسبتاً ٹھنڈے مقامات کی تلاش میں چین کا رخ کر رہے ہیں۔
چین میں موسمِ گرما کے دوران ٹھنڈے مقامات کی مقبولیت صرف معروف سیاحتی مراکز تک محدود نہیں رہی۔ بعض نسبتاً چھوٹے اور کم معروف علاقوں نے بھی غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کردیا ہے۔ بعض دیہی اور پہاڑی علاقے، جو پہلے زیادہ تر مقامی سیاحوں کے مختصر تفریحی سفر کے لیے مشہور تھے، اب بین الاقوامی سیاحوں کے سفری منصوبوں میں بھی شامل ہونے لگے ہیں۔
ایسے مقامات پر سیاح صرف معروف تاریخی عمارتیں یا قدرتی مناظر دیکھنے کے بجائے مقامی زندگی کو قریب سے سمجھنے میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں قیام، مقامی کھانوں کا تجربہ، بازاروں کی سیر اور روزمرہ زندگی کا مشاہدہ اب غیر ملکی سیاحوں کے سفر کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلی چین میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے بدلتے رجحانات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ بڑے شہروں اور مشہور مقامات کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہر، دیہات، مقامی بازار اور قدرتی مقامات بھی ان کے لیے کشش کا باعث بن رہے ہیں۔ کئی سیاح چین کے عام شہری اور دیہی ماحول کو دیکھنے اور یہاں کی روزمرہ زندگی کو سمجھنے کے لیے زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔
چین کی تیز رفتار معاشی اور سماجی ترقی بھی غیر ملکی سیاحت کے رجحانات کو متاثر کر رہی ہے۔ اب بعض غیر ملکی سیاح تاریخی مقامات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، برقی گاڑیوں، روبوٹس اور جدید صنعتی مراکز میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ یوں چین کا سفر روایتی ثقافت اور قدرتی مناظر سے آگے بڑھ کر جدید صنعت اور ٹیکنالوجی کے تجربے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔
غیر ملکی سیاحوں کے لیے چین کی نسبتاً آسان سفری سہولتیں بھی اس رجحان کو تقویت دے رہی ہیں۔ اس وقت 50 ممالک کے شہریوں کو چین میں یک طرفہ ویزا فری داخلے کی سہولت حاصل ہے، جن میں بعض یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس سہولت نے مختصر مدت کے بجائے زیادہ لچکدار اور تفصیلی سفری منصوبوں کو آسان بنایا ہے۔
چین نے ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی کا دائرہ بھی وسیع کیا ہے۔ حالیہ توسیع کے بعد 240 گھنٹے کی ویزا فری ٹرانزٹ سہولت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کی تعداد 57 ہوگئی ہے۔ اس طرح غیر ملکی سیاحوں کے لیے چین میں داخل ہو کر مختلف شہروں اور علاقوں کا سفر کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔
تاہم غیر ملکی سیاحت میں اضافے کے ساتھ خدمات کے معیار کو بہتر بنانا بھی ضروری ہوگیا ہے۔ مختلف علاقوں میں سیاحتی ادارے غیر ملکی مہمانوں کے لیے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض مقامات پر غیر ملکی سیاحوں کے قیام اور ایک روزہ دوروں کا انتظام کرنے والی ٹریول ایجنسیوں کے لیے مراعات متعارف کرائی گئی ہیں، جبکہ غیر ملکی زبانیں جاننے والے گائیڈز کی تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
زبان اور معلومات تک آسان رسائی اب بھی ایک اہم ضرورت ہے۔ اسی لیے بعض شہروں میں نقل و حمل، رہائش، کھانے، خریداری اور سیاحتی مقامات کی معلومات کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس سیاحتی سہولت مراکز کے ذریعے مختلف زبانوں میں رہنمائی، فوری ترجمہ اور ذاتی نوعیت کی سفری تجاویز فراہم کی جا رہی ہیں۔
جدید سیاحتی نظام میں ہزاروں ٹکٹنگ اور خریداری کے لنکس، ریستورانوں اور ہوٹلوں کی معلومات دستیاب ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون سیاحوں کے لیے سفری منصوبہ بھی تیار کرتا ہے۔ غیر ملکی بینک کارڈز کے ذریعے ادائیگی کے لیے متعدد زبانوں اور درجنوں کرنسیوں کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
قدرتی مناظر کے لیے مشہور پہاڑی علاقوں میں بھی غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی زرمبادلہ آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ مقامی عملے کی زبان دانی اور خدمات کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ بعض سیاحتی علاقوں نے مقامی جامعات کے تعاون سے انگریزی، کوریائی اور دیگر غیر ملکی زبانوں کے تربیتی کتابچے تیار کیے ہیں اور سیاحتی کارکنوں کے لیے شام کی کلاسیں شروع کی ہیں۔
یوں چین کی موسمِ گرما کی سیاحت اب صرف ٹھنڈے پہاڑوں اور خوبصورت مناظر تک محدود نہیں رہی۔ آسان داخلہ پالیسی، تیز رفتار ٹرانسپورٹ، جدید ٹیکنالوجی، بہتر سیاحتی خدمات اور مختلف ثقافتی و قدرتی تجربات نے مل کر چین کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک نئی اور متنوع منزل بنا دیا ہے۔ شدید گرمی سے بچنے کے لیے شروع ہونے والا سفر اب چین کو قریب سے جاننے، مقامی زندگی محسوس کرنے اور جدید ترقی کا مشاہدہ کرنے کے ایک وسیع تجربے میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ |
|