جب CIA نے 1980 میں خبردار کیا: افغان جنگ پاکستان تک پہنچ سکتی ہے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
جنوری 1980۔ سوویت فوج افغانستان میں داخل ہو چکی تھی۔ افغان مزاحمت شروع ہو چکی تھی، لاکھوں افغان اپنے گھر چھوڑ کر پاکستان کی طرف آ رہے تھے، اور اسلام آباد ایک ایسی جنگ کے سائے میں کھڑا تھا جو بظاہر اس کی اپنی جنگ نہیں تھی۔لیکن واشنگٹن میں امریکی انٹیلی جنس ایک انتہائی اہم سوال پر غور کر رہی تھی:اگر افغان جنگ پاکستان کی سرحد تک پہنچ گئی تو کیا ہوگا؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ اگر افغان مزاحمت کاروں کو پاکستانی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہ مل گئی تو کیا سوویت فوج ان کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے؟یہ آج کی قیاس آرائی نہیں۔ جنوری 1980 میں CIA نے خود اس امکان کا جائزہ لیا تھا۔
ایک ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز، جس کا عنوان تھا “The Afghan Insurgents and Pakistan: Problems for Islamabad and Moscow”، افغانستان کی جنگ، پاکستان کے کردار اور سوویت ردعمل کا جائزہ لیتی ہے۔یہ دستاویز ایک دلچسپ تصویر پیش کرتی ہے۔ 1980 کے آغاز میں افغان مزاحمت ابھی پاکستان پر اس حد تک منحصر نہیں ہوئی تھی جس طرح آنے والے برسوں میں ہوئی۔ زیادہ تر کارروائیاں افغانستان کے اندر ہو رہی تھیں۔ بعض جنگجو پاکستان سے ہتھیار حاصل کر رہے تھے اور سرحدی علاقوں سے مدد مل رہی تھی، لیکن CIA کے مطابق اس وقت مزاحمت کاروں کو پاکستان میں بڑے مستقل فوجی اڈوں کی ضرورت نہیں تھی۔یہ نکتہ اہم ہے۔کیونکہ بعد کی افغان جنگ کی تاریخ میں پشاور، قبائلی علاقے اور پاکستان کی سرحدی پٹی افغان مزاحمت کے اہم مراکز بن گئے۔ مگر جنوری 1980 میں یہ صورتحال ابھی تشکیل پا رہی تھی۔CIA اصل میں یہ دیکھ رہی تھی کہ جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ **پاکستان کا کردار کس حد تک بڑھ سکتا ہے۔**
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کا بڑا حصہ دشوار گزار پہاڑوں، دروں اور قبائلی علاقوں پر مشتمل تھا۔ دونوں جانب آباد قبائل کے لیے یہ سرحد ہمیشہ ایک مکمل رکاوٹ نہیں رہی تھی۔ اسلام آباد کے لیے اسے مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں تھا۔ اگر پاکستان افغان مزاحمت کاروں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحد پر مزید فوج تعینات کرتا تو اس کے اپنے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ افغان جنگجووں کے ساتھ جھڑپوں کا خطرہ تھا اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں حکومت کی زیادہ مداخلت بھی مزاحمت پیدا کر سکتی تھی۔ یعنی پاکستان کے سامنے صرف سوویت یونین کا مسئلہ نہیں تھا۔ افغانستان، سوویت فوج، سرحدی قبائل، مہاجرین اور پاکستان کی داخلی سلامتی ایک ہی strategic equation کا حصہ بن رہے تھے۔
سال 1980 میں افغان مہاجرین تیزی سے پاکستان پہنچ رہے تھے۔سوویت اور افغان حکومت پاکستان پر الزام لگا رہی تھیں کہ مہاجرین کی آڑ میں جنگجو پاکستانی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن CIA نے اس دعوے کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق مہاجرین کی بڑی تعداد خواتین، بچوں اور بزرگوں پر مشتمل تھی۔ یعنی زیادہ تر مہاجرین جنگجو نہیں تھے۔ وہ جنگ سے بچنے کے لیے افغانستان چھوڑ رہے تھے۔ لیکن سٹریٹجک مسئلہ یہ تھا کہ مہاجرین کی موجودگی نے پاکستان کو افغان جنگ سے الگ رہنے کی گنجائش مزید کم کر دی۔ پاکستان میں موجود افغان خاندانوں اور سرحدی علاقوں نے مزاحمت کاروں کے لیے ایک ممکنہ سیف ھیون پیدا کر دیا تھا۔ جنگ میں سیف ہیون صرف پناہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک strategic asset بھی بن سکتا ہے۔
CIA نے افغان exile groups کا بھی جائزہ لیا۔یہ گروہ پاکستان میں اپنے مراکز قائم کر رہے تھے اور ان کے درمیان اختلافات بھی موجود تھے۔ ابتدائی مرحلے میں CIA انہیں افغان insurgency کا مکمل طور پر مو¿ثر operational حصہ نہیں سمجھتی تھی۔لیکن ایک تبدیلی نظر آ رہی تھی۔ یہ گروہ زیادہ مستقل اتحاد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ CIA نے یہاں تک امکان ظاہر کیا کہ مستقبل میں ایک افغان حکومتِ جلاوطن قائم ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان صرف افغان مہاجرین کی پناہ گاہ نہیں رہتا بلکہ افغان مزاحمت کا سیاسی مرکز بھی بن سکتا تھا۔ ماسکو کے لیے یہ ایک انتہائی حساس صورتحال تھی، کیونکہ ایسی حکومت کابل میں سوویت حمایت یافتہ حکومت کی legitimacy کو چیلنج کر سکتی تھی۔
CIA کے مطابق سوویت قیادت کو خدشہ تھا کہ امریکہ اور چین پاکستان کے ذریعے افغان مزاحمت کاروں کو مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی intelligence خود یہ سمجھتی تھی کہ ماسکو شاید پاکستان سے ملنے والی مدد کو اس کی اصل سطح سے زیادہ بڑا سمجھ رہا تھا۔لیکن ایک بنیادی خطرہ حقیقی تھا: **اگر پاکستان افغان insurgents کے لیے مستقل safe haven بن گیا تو افغانستان میں سوویت جنگ مزید مشکل ہو سکتی تھی۔**اسی لیے ماسکو پاکستان پر دباو¿ ڈال رہا تھا کہ سرحد بند کی جائے، افغان مہاجرین کے کیمپ سرحد سے دور کیے جائیں اور افغان مزاحمت کاروں کو پاکستانی territory استعمال کرنے سے روکا جائے۔لیکن اس کے ساتھ ایک اور پیغام بھی موجود تھا۔اگر ضروری ہوا تو سوویت فریق پاکستان میں موجود افغان مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔یہی وہ مقام تھا جہاں CIA کو خطرہ زیادہ سنگین نظر آیا۔
CIA نے صرف خطرے کی نشاندہی نہیں کی بلکہ سوویت یونین کے ممکنہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ ایک امکان تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو seal کرنے کی کوشش کی جائے۔ مگر یہ انتہائی مشکل تھا، کیونکہ سرحد طویل اور دشوار گزار تھی اور متعدد چھوٹے راستے موجود تھے۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ سوویت فوج افغان مزاحمت کاروں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی territory میں داخل ہو۔ اس صورت میں پاکستانی فوج کے ساتھ براہ راست confrontation کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ ایک اور امکان پاکستانی سرزمین پر افغان insurgent camps کے خلاف air یا ground raids تھا۔ اور سب سے خطرناک امکان؟ پاکستانی facilities پر حملہ۔** CIA نے سرحدی علاقوں میں موجود arms factories اور حتیٰ کہ پاکستانی military installations کو بھی ممکنہ خطرات کے تناظر میں دیکھا۔ اگر سوویت فوج پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملہ کرتی تو اسلام آباد کے لیے اسے محض ایک معمولی border incident سمجھنا مشکل ہوتا۔یہ جنگ کی طرف جانے والا قدم بن سکتا تھا۔
CIA کا اندازہ تھا کہ اگر سوویت فوج پاکستان کے اندر کارروائی کرتی تو اسلام آباد تقریباً یقینی طور پر امریکہ اور چین سے مدد طلب کر سکتا تھا۔ اس وقت منظرنامہ انتہائی خطرناک تھا: افغانستان میں سوویت فوج۔پاکستان میں افغان مزاحمت۔ پاکستانی اور سوویت افواج کے درمیان ممکنہ confrontation۔ اور پھر امریکہ اور چین کا ممکنہ ردعمل۔ ایک علاقائی جنگ بہت تیزی سے سرد جنگ سے براہ راست جنگ میں میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ افغانستان کے سوویت قبضے کے بعد پاکستان واشنگٹن کے لیے محض ایک پڑوسی ملک نہیں رہا۔ وہ عالمی طاقتوں کی strategic equation کا اہم حصہ بننے لگا۔
رپورٹ کا سب سے دلچسپ پہلو ایک strategic paradox ہے۔ اگر سوویت فوج افغانستان میں کامیاب ہوتی تو مزید افغان مزاحمت کار مشرقی افغانستان سے نکل کر پاکستان آ سکتے تھے۔ اس سے پاکستان پر افغان مزاحمت کا انحصار بڑھتا۔ اور اگر سوویت فوج افغانستان میں ناکام ہوتی تو جنگ طویل ہو سکتی تھی، اخراجات بڑھ سکتے تھے اور ماسکو پر پاکستان کے خلاف زیادہ aggressive کارروائی کا دباو بڑھ سکتا تھا۔ یعنی اسلام آباد کے لیے دونوں صورتیں آسان نہیں تھیں۔ **سوویت کامیابی بھی پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی، اور سوویت ناکامی بھی۔** یہی 1980 کی اس intelligence assessment کا بنیادی strategic dilemma تھا۔
لیکن ایک فرق سمجھنا ضروری ہے اس دستاویز سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ CIA نے افغان جہاد شروع کیا۔ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ 1980 میں پاکستان ایک مکمل centralized covert operation چلا رہا تھا۔ یہ ایک انٹیلی جینس اسسٹمنٹ تھی، جس میں ممکنہ حالات، خطرات اور سوویت ردعمل کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ ڈاکومنٹ ایک اہم حقیقت ضرور دکھاتا ہے:جنوری 1980 میں، سوویت حملے کے فوراً بعد، امریکی انٹیلی جینس سمجھ چکی تھی کہ افغانستان کی جنگ پاکستان تک پھیل سکتی ہے۔ بعد کے برسوں نے اس خدشے کو مزید واضح کر دیا۔ پشاور افغان مزاحمت کا اہم مرکز بنا۔ سرحدی علاقے جنگی سرگرمیوں کے لیے اہم ہوئے۔ لاکھوں افغان پاکستان میں مقیم ہوئے۔ افغان resistance کو پاکستانی territory سے support اور sanctuary ملا۔ اور پاکستان خود امریکہ کے لیے ایک اہم سرد جنگ کا اتحادی بن گیا۔
لیکن یہاں سے ایک اور زیادہ پیچیدہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ 1980 کے بعد افغانستان میں پاکستان کی strategic اہمیت بڑھ رہی تھی، جبکہ اسی عرصے میں پاکستان کا nuclear programme بھی امریکی تشویش کا باعث بن رہا تھا۔ تو پھر واشنگٹن نے کیا ترجیح دی؟ کیا افغان جنگ نے امریکہ کو پاکستان کے ساتھ ایسا strategic arrangement قبول کرنے پر مجبور کیا جس میں بعض دوسرے اختلافات کو وقتی طور پر برداشت کرنا ضروری سمجھا گیا؟اور پاکستان کے nuclear programme، افغان جنگ اور امریکی امداد کے درمیان اصل تعلق کیا تھا؟اس سوال کا جواب شاید اگلی declassified CIA دستاویز میں موجود ہے۔**
# #CIA #AfghanistanWar #Pakistan #SovietAfghanistan #ColdWar #DeclassifiedDocuments #CIAArchives #AfghanResistance #AfghanRefugees #Peshawar #USPakistanRelations #PakistanHistory #AfghanistanHistory #IntelligenceFiles #InvestigativeJournalism
|