جرنیل ضیا الحق کا گیارہ سالہ دور حکومت جس کو بھی یاد ہے وہ جانتا ہوگا کہ پاکستان کی اگلی پچھلی تاریخ میں ایسا بدترین وقت پاکستان کے عوام پر با لعموم اور سندھ کے عوام پر بالخصوص نہیں آیا . کھیتوں میں ملتی سیاسی کارکنوں کی تشدد زدہ لاشیں ، رہنماؤں کی پھانسیاں ، جلاوطنیاں ، لمبی جیلیں ، عوام پر فوجی ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ ، جلتے گاؤں اور قتل کیے جاتے دیہاتی عوام . ان دنوں پیپلزپارٹی کےغیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ووٹرز اور سپورٹرز کی ہی فوجی حکومت کے ہاتھوں شامت نہیں آتی تھی بلکہ سندھی بولنے والے ڈاکٹروں ، وکلاء ، فنکاروں اوراستادوں پر بھی ریاستی تشدد جاری تھا اس سب کےباوجو بھی جرنیل ضیا اور اس کے کاسہ لیس سندھ کو بقیہ پاکستان کی نظر میں مطعون نہ کرسکے
اگر اس وقت جرنیل ضیا کو پتہ ہوتا کہ سندھ کسی فوج کشی اور غداری کے بیانیے کے ذریعے بدنام نہیں ہوگا بلکہ ریاستی چھپر چھاؤں میں بننے والے نیوز میڈیا چینلز اور ان پر بیٹھے متعصب دماغوں کی شیطانیت سے صرف پاکستان ہی نہیں ساری دنیا میں لعن طعن کا شکار ہوجاۓ گا، تو وہ فوجی آمر یقینن یہ بھی کر گزرتا
امر واقعہ یہ ہے کہ ایک اور فوجی آمرمشرف نے الیکٹرانک نیوز میڈیا چینلز کا اجراء اسی ایجنڈے کے ساتھ کیا تھا کہ ادارہ جہاں چاہے اور جب چاہے اپنا بیانیہ بیچے .ان تمام چینلز کا تعلق نہ خبروں سے ہے نہ معلومات کی فراہمی سے اور نہ ہی عوامی فلاح و بہبود کے کسی منصوبے سے ، ان دکانوں پر صرف اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ بیچا جاتا ہے جس میں چینلز کے مفاد پرست مالکان اور اینکرز کی کرسیوں پر بیٹھے "دولے شاہ کے چوہے " اپنے لسانی ، سیاسی تعصب اور لفافے کے حجم کے مطابق حصہ ڈالتے ہیں. جو باقی کسررہ گئی تھی وہ سوشل میڈیا کی آمد نے پوری کردی .اب یہی شاہ دولے کے چھوٹے چھوٹے سروں والے نیوز ریڈرز اور"سئینر تجزیہ کار" چینلز دیکھنے والےہجوم کو اپنا "فالوور " بناتے ہیں اورانکو اپنے سوشل میڈیا پیج پر مزید بے راہروی کا شکار بناتے ہیں اور یوں نفرت کے یہ بیوپاری اپنا مال بیچتے ہیں
دوہزارآٹھ سے شرو ع ہونے والے جمہوریت کے سفر نے، نام نہاد آزاد میڈیا کا اصل چہرہ ہمیں دیکھادیا تھا اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آمرانہ ایجنڈا پرچلتے چینلزایکسپوز ہوتے چلے گیے دو ہزار نو سے انکا خاص تخت مشق سندھ رہا ، کراچی ان دنوں اسٹیبلشمنٹ کے کاسہ لیسوں کی آماجگاہ تھا سو یہ نوحے اکثر وفاق کی "نااہلی " اور سندھ کی بدحالی تک رہے . اس تمام عرصے میں صوبہ پنجاب ، پختونخواہ حتی کہ بلوچستان بھی اس میڈیا کے شاہ دولوں کو" جنت نظیر" دیکھائی دیتا رہا
نواز لیگ کا وفاق میں آنا تھا کہ پنجاب اور کراچی کے عمر رسیدہ صحافییوں اور شدید سینئیر تجزیہ کاروں کی طرف سے " قبول ہے قبول ہے " کی آوازیں آنے لگیں اب چینلز کوسندھ پر توپیں داغنے کا مکمل لائسنس ملنے والا تھا مگر اچانک سے محترم نیازی المعروف عمران خان صاحب نے ڈی چوک میں دھرنا بیٹھا دیا اور میڈیا کوحوا لداروں نے آرڈر دیا کہ اپنے "مال مویشی " دھرنے کی مشہوری میں جوت دو.... ..... سو غلام میڈیا نے سندھ کو ایک سو چھبیس دن کے لیے "سانس " "لینے کی آزادی دے دی
وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان اور ان کو وزیراعظم سلیکٹ کروانے والوں نے ایک بار پھر میڈیا کے تنخواہ داروں کو سندھ اور اسکے دارالحکومت کراچی پر " چھوڑ " دیا اور سوشل میڈیا پر موجود انسانی اور غیر انسانی روبوٹس کو بھی یہی آرڈرز ملے . ایک طوفان بدتمیزی تھا جو سندھ اور اسکی عوام کو " نسلی غلام " نسل پرست ، جاہل ، ذہنی غلام ، زندہ لاشیں جیسے القابات سے نوازتا تھا اور کیونکہ عمران خان صاحب کو وزیراعظم کے پیکج میں"صحافییوں " کی بھی ایک کھیپ ملی تھی لہذا جعلی تصاویر ، جھوٹی خبروں اور رائی کے پہا ڑ بنانے اور انکو پوسٹ کرنے ، ریٹویٹ کرنے والوں کا ایک جم غفیر تھا جس میں ایک عنصر پاکستان سے باہر رھنے والے افراد کا بھی تھا جن کی اکثریت تو پنجابی ہے نہ انکو سندھ کا حال پتہ تھا نہ احوال مگر مکھی پر مکھی مارنا گوروں نے سیکھا دیا تھا سو وطن سے جان چھڑ ا کر جانے والے بھی سندھ کے خلاف " محاز " کھولنے کے کار خیر میں شامل رہے
یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور جیسے کہ تمام قومی سازشوں کی پہلے سے آبیاری کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان میں نئے صوبوں کا شوشہ بھی چھوڑنے سے پہلے صوبہ سندھ ، اسکی حکومت ، شہروں اور خاص کر صوبائی دارا لحکومت کو بدنام کیا گیا اور مسلسل کیا جارہا ہے اسکی کچھ " بہترین مثالیں" قارین کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہوں
موسمیاتی تبدیلیوں نے گزشتہ کچھ سالوں میں ممبئی ، نیویارک سٹی ، دبئی اور ریاض و جدہ جیسے اربن علاقوں کو ڈبو ڈالا کراچی کس کھیت کی مولی تھا ؟ یہاں تو موسمیاتی تبدیلیوں کی اونچی اڑان سے پہلے بھی برا حال رہا خاص طور پر جرنیل مشرف کے زمانے میں جب ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے ایک دن میں دوسو ہلاکتیں کراچی کی بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ہوئیں اس دور میں پی ٹی وی نہیں بلکو یہ تمام نجی چینل موجود تھے مگر "خاموش "تھے کیونکہ "اوپر سے آرڈرز " نہیں ملے تھے اور اینکر نامی مخلوق تعصب کیسے کر تی ؟ بھلا اپنوں سے تعصب کون کرتا ہے ؟ ؟
پھر سن دو ہزارتئیس میں پیپلزپارٹی کے میئر مرتضی وہاب کا منتخب ہونا میڈیا والوں کے لیے سوہاں روح بن گیا. اب تو ایسا لگتا ہے کہ کراچی میں بوندا باندی ہونا بھی ایسا عذاب ہے جو نہ کہیں آیا تھا نہ آے گا. آج بھی لاہور، فیصل آباد ڈوبتا ہے ، اسلام آباد نالہ لیئ بن جاتا ہے ،سوات ، مردان ، پشاور ہرسال ڈوبتے ہیں ، بلوچستان تو صرف ڈوبتا نہیں بلکہ بیشمار ہلاکتیں بھی ہوتی رہیں مگرصحافیوں کو کبھی اس قسم کی ٹویٹ مسلم لیگ نون ، میم ، ش اور تحریک انصاف ع ، پ ، ایف کے لیے کرنے کی توفیق نہ ہوئی کہ " کراچی والو ! کسی کو بھی ووٹ دے دینا سواۓ پی پی پی کے " ایک اور نامی گرامی صحافی فرماتے ہیں "ایک چیز ہوتی ہے دماغ اورایک چیز ہوتی ہے ڈرینج سسٹم دونوں میں سے زندگی میں ایک چیزآپ کے پاس ضرور ہونی چاہیے " لیکن پھر جب اسلام آباد ، راولپنڈی ، لاہور اور پشاور ڈوبے تو موصوف کو یہ "جگت " بھول گئی
پھرانہی بارشوں کا حوالہ بمعہ تصویر دے کر ایک محترمہ نیوز ریڈرعرف ٹاک شواینکر صاحبہ فرماتی ہیں کہ "ایک اور منظر ذلیل و خوار ہوتی عوام کا " وہ ایک دو ٹویٹس نہیں بلکہ مسلسل طنزیہ ٹویٹس سے کراچی کی حالت کی صرف منفی رخ پیش کرتی رہیں اورجب انہی دنوں پنجاب کو سیلاب نے آلیا تو ٹویٹ دیتی ہیں " اللہ پاک پاکستان اور پاکستانیوں پر اس مشکل وقت میں رحم فرما ئے " اور پھر پنجاب کو ہیش ٹیگ کرتی ہیں . کیا یہ تعصب ذہنی بیماری کی حد تک نہیں بڑھ چکا کہ کراچی کی عوام تو اس بارش ، سیلاب سے " ذلیل و خوار " ہورہی ہے مگر پنجاب میں اس سیلاب پر ہماری نیک دل اینکر خاتون "پاکستانیوں "کے لیے اللہ سے رحم طلب کر رہی ہیں
اسی طرح سندھ کےایک علاقے میں آتش زدگی سے نو ہلاکتیں ہوتی ہیں اور اس اندوہناک حادثے کے کچھ عرصے پہلے کوہ مری میں برف کا طوفان اتا ہے اور ہزاروں سیاح چھتیس گھنٹے کے لیے اس طوفان میں پھنس جاتے ہیں اس افسوسناک واقعے میں بائیس مسافروں کی ہلاکت کی خبر آتی ہے اردو چینلزتو ہمیشہ کی طرح ان حادثات پر اپنی متعصبانہ سوچ کو ظاہر کر ہی رہے تھے تو دوسری طرف نامی گرامی صحافی صاحب کی ٹویٹس سے بھی امتیاز اور تفریق ابل ابل کر باہر آرہے تھے. سندھ میں آتش زدگی کے واقعے پر سندھ حکومت کے لیے"لعنت کو چھوٹا لفظ" قرار دیتے ہیں مگر کوہ مری کے طوفان میں عمران خان کی وفاقی اور صوبائی حکومت کی حد درجہ نااہلی کو کسی بھی قسم کی لعن طعن کا مستحق قرارنہیں دیتے فرماتے ہیں کہ مری کے افسوسناک واقعے سے حکومت اور ایڈمنسٹریشن کے اونچے دعوے "جھوٹے "نکلے ..... واہ جناب یہاں آپکو نیازی حکومت کے لیے "لعنت "چھوٹا لفظ نہیں لگتا؟ ؟
ایسے میں تعصب کی اس بہتی گنگا میں کرکٹر ، فنکار اور کامیڈینز بھی ہاتھ دھونے پہنچ جاتے ہیں ایک سابق کرکٹر صاحب کی عقل یہ ہے کہ بیٹھے لاہور میں ہیں ، تصویر بھارت کی ہے اور استہزاء کراچی کا !!! مزید ڈھیٹائی کیا ہوگی ؟ ؟ کراچی کی طوفانی بارشوں کا ٹھٹھہ اڑاتے ہوے لکھتے ہیں کہ " سندھ حکومت نے پورے کراچی کے لیے دودھ پتی چا ئے کا بندوبست کیا ہے "اب سوال یہ ہے کہ کہ قدرتی آفات ، حادثات کہاں نہیں ہوتے؟ مگر جس طرح تقسیم ، نفرت ، منفی سوچ اور ایجنڈا چلانے والے پاکستانی نیوز میڈیا نے قدرتی آفات اور حادثات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر سندھ اور پیپلزپارٹی کو اپنے لسانی اور سیاسی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ ناقابل فہم ہے یعنی حقارت ، نفرت اور نسل پرستی کا ایک ایسا سلسلہ شرو ع کر دیا گیا ہے جو آئیندہ بھی پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرتا رہے گا
نوٹ : ان تمام ٹویٹس کے اسکرین شاٹس محفوظ ہیں
جاری ہے ........ |