چھوٹے کاروبار، چین کی معیشت کا بڑا سہارا

چھوٹے کاروبار، چین کی معیشت کا بڑا سہارا
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کسی بھی معیشت کی طاقت صرف بڑی صنعتوں، معروف کمپنیوں یا بڑے منصوبوں سے نہیں بنتی۔ روزمرہ زندگی میں نظر آنے والی بے شمار معاشی سرگرمیوں کے پیچھے ایسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے روزگار پیدا کرتے، نئی مصنوعات تیار کرتے اور مقامی منڈیوں کو متحرک رکھتے ہیں۔ چین میں بھی یہی کاروباری ادارے معیشت، روزگار اور ٹیکنالوجی میں جدت کے اہم ستون بن چکے ہیں۔ اب بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور تکنیکی ماحول میں ان کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ پانچ برسوں کی حکمت عملی سامنے لائی گئی ہے۔

چین نے 2026 سے 2030 کے عرصے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی اعلیٰ معیار کی ترقی کا منصوبہ جاری کیا ہے۔ اس میں کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے، نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے، تحقیق اور جدت بڑھانے، مالی سہولتیں بہتر بنانے اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ چھوٹے کاروبار صرف تعداد میں نہ بڑھیں بلکہ زیادہ مضبوط، جدید اور مسابقتی بھی بنیں۔

چین کی معاشی زندگی میں ان اداروں کا حجم اس بات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ 2025 کے اختتام تک ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی تعداد 63 ملین سے تجاوز کر چکی تھی۔ یہ تعداد ملک کے تمام کاروباری اداروں کا 95 فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔ اس وسیع نیٹ ورک میں مختلف شعبوں سے وابستہ کاروبار شامل ہیں، جو پیداوار، خدمات، تجارت اور ٹیکنالوجی سمیت معیشت کے کئی حصوں کو متحرک رکھتے ہیں۔

ان اداروں کی اہمیت صرف ان کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کے معاشی کردار میں بھی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق چین کی تقریباً 70 فیصد تکنیکی جدت، مجموعی ملکی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد اور شہری روزگار کا تقریباً 80 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں سے وابستہ ہے۔ اس طرح یہ ادارے چین کی حقیقی معیشت میں ایک ایسی قوت بن چکے ہیں جس کے بغیر روزگار، پیداوار اور جدت کے موجودہ نظام کا تصور مشکل ہے۔

نئے منصوبے میں اسی بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہدف یہ ہے کہ 2030 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیار اور حجم، دونوں اعتبار سے آگے بڑھیں۔ بڑے صنعتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کی فی کس کاروباری آمدنی میں پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 15 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ان کاروباروں کو درکار وسائل تک رسائی آسان بنانے اور ان کے لیے بہتر خدمات فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

آج کاروبار کی کامیابی کا تعلق صرف سرمایہ اور پیداوار سے نہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار سے بھی ہے۔ اسی لیے تحقیق اور جدت کو منصوبے میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔ بڑے صنعتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے تحقیق و ترقی کے اخراجات میں سالانہ اوسطاً آٹھ فیصد سے زیادہ اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مزید کاروبار نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے، موجودہ مصنوعات بہتر بنانے اور بدلتی ہوئی منڈی کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل ہو سکیں گے۔

اس سلسلے میں ’’لٹل جائنٹ‘‘ اداروں کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ہیں جو کسی مخصوص شعبے میں مہارت رکھتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں اور منفرد مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ 2030 تک ایسے اداروں کی تعداد 22 ہزار تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان کاروباروں کو مستقبل کی صنعتی مسابقت میں اہم کردار ادا کرنے والی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تبدیلی بھی چھوٹے کاروباروں کے لیے ضروری بنتی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نظام اور جدید پیداواری طریقوں نے کاروبار چلانے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ نئے منصوبے میں چھوٹے اداروں کو ڈیجیٹل، ذہین اور ماحول دوست ترقی کی طرف لے جانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ وہ بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی رفتار سے پیچھے نہ رہیں۔

مالی وسائل تک آسان رسائی بھی اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے مختلف ذرائع سے سرمایہ حاصل کرنے کے مواقع بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ ساتھ ہی چھوٹے اداروں کو واجب الادا رقوم کی بروقت ادائیگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک مستقل نظام بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ قومی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے ترقیاتی فنڈ کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی اسی مقصد سے جڑی کوششوں میں شامل ہے۔

کاروباری اداروں کو اپنی مصنوعات اور خدمات کی شناخت بہتر بنانے میں بھی مدد دی جائے گی۔ برانڈ بنانے، مصنوعات کی تشہیر اور اپنی شناخت کو مضبوط کرنے کی صلاحیت چھوٹے کاروباروں کے لیے ملکی اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ اس کے ساتھ چینی اور غیر ملکی چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے مخصوص تعاون کے علاقوں کی تعداد 2030 تک 50 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ تمام اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی تیزی سے صنعت اور کاروبار کو تبدیل کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی تبدیلی نے کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن عالمی مسابقت بھی پہلے سے زیادہ سخت ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں چھوٹے کاروباروں کے لیے اپنی جگہ برقرار رکھنے کا راستہ نئی ٹیکنالوجی، بہتر انتظام، تحقیق اور مسلسل جدت سے ہو کر گزرتا ہے۔

اسی تناظر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے 2026 سے 2030 کی اہم ترجیحات میں شامل کی گئی ہے۔ اس میں خصوصی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے منفرد مصنوعات تیار کرنے والے کاروباروں کی حوصلہ افزائی، چھوٹے اداروں کے لیے کمپیوٹنگ کی لاگت کم کرنے اور ان کی ڈیجیٹل و ذہین تبدیلی میں مدد دینے والی خدمات کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ رواں سال کی حکومتی ورک رپورٹ میں بھی ایسے کاروباروں کے لیے مزید معاونت کا وعدہ کیا گیا ہے۔

نئے منصوبے میں مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کو مستحکم رکھنے، بہتر کاروباری ادارے تیار کرنے، ڈیجیٹل اور سبز ترقی تیز کرنے، اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے، ضروری وسائل تک رسائی آسان بنانے، خدمات کا نظام بہتر کرنے اور قانونی و پالیسی معاونت مضبوط بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔

چین کی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کا بڑھتا ہوا کردار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشی ترقی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ لاکھوں چھوٹے کاروباروں کی مجموعی سرگرمی سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ آئندہ پانچ برسوں کی حکمت عملی ان کاروباروں کو صرف زندہ رکھنے کے بجائے انہیں زیادہ جدید، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کی کوشش ہے۔ اگر یہ اہداف کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو چھوٹے کاروبار نہ صرف روزگار اور پیداوار میں اپنا کردار مزید بڑھا سکتے ہیں بلکہ چین کی نئی صنعتی اور تکنیکی معیشت کی ترقی میں بھی زیادہ اہم قوت بن سکتے ہیں۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1972 Articles with 1161446 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More