برطانیہ میں خاموش ہوتے گھر اور ٹوٹتے رشتے
(Mohammed Masood, Nottingham)
| برطانیہ میں جب نئی نسل نے اپنی روایات سے منہ موڑا، تو والدین نے شکوہ نہیں کیا بس خاموشی سے اپنی ہار مان لی۔ |
|
برطانیہ میں خاموش ہوتے گھر اور ٹوٹتے رشتے
تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم، برطانیہ
برطانیہ میں جب نئی نسل نے اپنی روایات سے منہ موڑا، تو والدین نے شکوہ نہیں کیا بس خاموشی سے اپنی ہار مان لی۔ عجیب گردش ایام ہے، جو کبھی والدین سے ڈرتے تھے، آج اپنی ہی اولاد سے ڈرتے ہیں ۔ اہل برطانیہ نے دنیا تو جیت لی، مگر آخر میں غم کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ برطانیہ میں اولاد کی ہر ضد اور ہر فیصلے پر بغاوت نے والدین کو زندہ لاشوں میں بدل دیا ہے ۔ برطانیہ میں ایک ہی گھر میں بوڑھے والدین اور جوان شادی شدہ رہتے ہوئے ایک دوسرے سے بالکل بات نہیں کرتے بیٹا بند کمرے میں اپنی بیوی کی باتیں سن کر غصہ اپنے ماں باپ پر نکالتا ہے والدین اپنے پوتے پوتیوں سے محبت کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پوتے پوتیوں سے دور نہیں ہونا چاہتے۔
یہ چند سطریں کسی کتاب کی نہیں، یہ آج کے برطانیہ کے ہر دوسرے گھر کی سچی تصویر ہے۔ میں محمد مسعود، نوٹنگھم میں پچھلے پچیس سالوں سے ٹیکسی چلاتا ہوں۔ پچھلے کئی سالوں سے ان سڑکوں پر پہیہ گھماتے ہوئے میں نے ہزاروں چہرے دیکھے ہیں۔ میری ٹیکسی میں ہر رنگ، ہر نسل، ہر مذہب کا انسان بیٹھتا ہے۔ کوئی ہسپتال جا رہا ہے، کوئی ہوائی اڈے سے آ رہا ہے، کوئی بچوں کو اسکول چھوڑ رہا ہے۔ لیکن جب سفر ذرا لمبا ہو جائے تو لوگ دل کی بات کہنے لگتے ہیں۔ اور یقین جانیے، میں نے اس شہر میں سب سے زیادہ جو دکھ سنا ہے وہ تنہا اور خاموش ہو جانے والے بوڑھے والدین کا ہے۔
ایک دن میں کلفٹن سے بل ویل کی طرف ایک بزرگ بابا جی کو لے کر جا رہا تھا۔ جن تعلق کشمیر سے ہی تھا عمر کوئی ستر سال کے قریب ہو گی۔ باتوں ہی باتوں میں کہنے لگے، پتر، ہم نے اپنے ماں باپ کے سامنے کبھی آنکھ اٹھا کر بات نہیں کی تھی۔ ان کا حکم پتھر پر لکیر ہوتا تھا۔ اور آج میں اپنے ہی بیٹے کے سامنے بات کرتے ہوئے دس بار سوچتا ہوں کہ کہیں اسے برا نہ لگ جائے، کہیں میری بہو ناراض نہ ہو جائے۔ اس بوڑھے کی آنکھوں میں نمی تھی اور آواز میں ایسی بے بسی تھی جس کا کوئی علاج میرے پاس نہیں تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے لگا کہ ہمارے گھر ٹوٹ نہیں رہے، ہمارے گھر خاموش ہو رہے ہیں۔
اہل برطانیہ نے دنیا تو جیت لی، ہر آسائش حاصل کر لی، مگر آخر میں غم کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ یہاں مکان ہیں، محل جیسے گھر ہیں، گاڑیاں ہیں، بینک میں پیسہ ہے، حکومت کی طرف سے ہر سہولت موجود ہے۔ لیکن جس گھر میں دل نہ ملیں، وہ گھر، گھر نہیں رہتا، وہ ایک ہوٹل بن جاتا ہے۔ برطانیہ میں اولاد کی ہر ضد اور ہر فیصلے پر بغاوت نے والدین کو زندہ لاشوں میں بدل دیا ہے۔ والدین چاہے الگ گھر میں رہتے ہوں یا اپنے بچوں کے ساتھ وہ گھر میں موجود تو ہیں، لیکن ان کی کوئی سنتا نہیں۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ نوٹنگھم شہر میں ایک ہی چھت کے نیچے دو نسلیں اجنبی بن کر رہ رہی ہیں۔ برطانیہ میں ایک ہی گھر میں بوڑھے والدین اور جوان شادی شدہ بیٹا رہتے ہوئے ایک دوسرے سے بالکل بات نہیں کرتے۔ باورچی خانہ الگ، فریج الگ، کپڑے دھونے والی مشین کا وقت الگ۔ بیٹا بند کمرے میں اپنی بیوی کی باتیں سن کر غصہ اپنے ماں باپ پر نکالتا ہے۔ ماں باپ بیچارے اپنے پوتے پوتیوں سے محبت کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پوتے پوتیوں سے دور نہیں ہونا چاہتے۔ یہ وہ زہر ہے جو روز تھوڑا تھوڑا پیا جا رہا ہے اور پورے خاندان کو ختم کر رہا ہے۔
یہاں کا نظام بھی کچھ ایسا بن گیا ہے کہ بچے کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ تم آزاد ہو۔ آزادی بہت اچھی چیز ہے، لیکن جب آزادی کا مطلب اپنی جڑوں سے کٹ جانا بن جائے تو وہ آزادی نہیں، بربادی ہوتی ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں بچہ کہتا ہے یہ میری زندگی ہے۔ والدین کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ وہ اپنی مرضی سے رشتے بناتا ہے، اپنی مرضی سے شادی کرتا ہے، اپنی مرضی سے دین اور روایت کو چھوڑ دیتا ہے۔ والدین دل پر پتھر رکھ کر کہتے ہیں خوش رہو۔ لیکن اندر ہی اندر وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔
مجھے ایک ماں نے بتایا، جو میں نے کوئینز ہسپتال سے جاب اٹھائی تھی۔ کہنے لگی، میرے بیٹے نے اپنی مرضی سے شادی کر لی۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔ میں نے کہا بیٹا خوش رہ۔ لیکن اب جب پوتا پیدا ہوا ہے تو وہ مجھے اسے گود میں بھی نہیں لینے دیتے، کہتے ہیں آپ کو بچے سنبھالنے کا طریقہ نہیں آتا۔ آپ سب بوڑھی ہو چکی ہیں کہیں بچہ آپ سے گر نا جائے اور میں اسی گھر میں ایک ملازمہ کی طرح رہتی ہوں، بس اس امید پر کہ کبھی تو میرا پوتا دوڑ کر میرے گلے لگے گا۔ بتائیے، میرا آرٹیکل پرھنے والوں آپ لوگوں سے میرا سوال ہے بتاؤ مجھے کہ اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی۔
یہ صرف ہم پاکستانیوں، کشمیریوں۔ ہندوستانیوں کا دکھ نہیں ہے۔ میری ٹیکسی میں بیٹھنے والا سفید فام انگریز بوڑھا بھی یہی کہانی سناتا ہے۔ اس کا دکھ بھی وہی ہے۔ اس کے بچے بڑے تہوار پر بھی اسے فون نہیں کرتے۔ وہ مجھے کہتا ہے میرے پاس سب کچھ ہے لیکن میرا کوئی بھی نہیں۔
اور اب آئیں میں آپ کو اس کہانی کے سب سے درد ناک حصے کی طرف لے کر چلتا ہوں، جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔ وہ ہیں ہمارے کیئر ہوم میں رہنے والے بزرگ والدین۔
میں اکثر نوٹنگھم کے کیئر ہومز میں سواریاں چھوڑنے اور اٹھانے جاتا ہوں۔ وہاں ہماری پاکستانی مائیں اور باپ بھی رہ رہے ہیں۔ یقین کریں، وہاں کا ہر کمرہ ایک زندہ قبر ہے۔ وہاں ایک چاچا محمد دین رہتے ہیں، جن کا تعلق گجرات سے ہے۔ ساری زندگی انہوں نے یہاں محنت کی، اپنے بچوں کو پڑھایا، کاروبار بنا کر دیا۔ آج وہ ایک کیئر ہوم کے ایک چھوٹے سے کمرے میں اکیلے ہیں۔ کہتے ہیں مسعود بیٹا، میرے تین بیٹے ہیں، تینوں نوٹنگھم میں ہی رہتے ہیں۔ لیکن کسی کے پاس میرے لیے وقت نہیں۔ وہ مہینے میں ایک بار آتے ہیں، دس منٹ کے لیے، جیسے کسی مجبوری کو نبھانے آئے ہوں۔ وہ کہتے ہیں ابا جی آپ یہاں خوش ہیں، آپ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ میں خوش کہاں ہوں، بیٹا مسعود میں تو اپنے پوتے پوتیوں کی آواز سننے کو ترس گیا ہوں۔ یاد رکھیں جب بھی کسی کیئر ہوم کی جاب مجھے ملتی ہے تو میں گاڑی باہر اسٹاپ کر کے اندر چلا جاتا ہوں۔ ریسپشن پر جا کر بات کرتا ہوں۔ کچھ کیئر ہوم ایسے ہیں جنہیں میں پچھلے 30 سال سے جانتا ہوں۔ وہاں مجھے اندر جانے کی اجازت بھی ہے۔ اور اگر اجازت نہ بھی ہو تو میں ریسپشن سے اجازت مانگ لیتا ہوں۔ پھر میں خود اندر جا کر بزرگوں کی مدد کرتا ہوں، ان کو سہارا دے کر باہر تک لاتا ہوں اور اپنی گاڑی میں بٹھاتا ہوں۔
کبھی کوئی بزرگ ٹھیک سے چل نہیں سکتا، کبھی وہ تیار نہیں ہوتے، اسی انتظار کے دوران آگے پیچھے دوسرے بزرگ بیٹھے ہوتے ہیں تو میں ان سے باتیں کرنے لگتا ہوں۔ وہ مجھے اپنے دکھ سناتے ہیں، اپنی جوانی کی کہانیاں سناتے ہیں۔ جب ایک ہی بزرگ سے دوسری، تیسری بار ملاقات ہوتی ہے تو وہ ملاقات دوستی میں بدل جاتی ہے۔
اسی لیے میں کیئر ہوم کے لوگوں کو بہت قریب سے جانتا ہوں۔ میں ان سے دل کی باتیں کرتا ہوں۔ وہ مجھے اپنا بیٹا سمجھ کر دعا دیتے ہیں۔ لیکن سچ پوچھیں تو جب میں واپس اپنی ٹیکسی میں بیٹھتا ہوں تو دل میں ایک عجیب سا خوف آتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ آج یہ بزرگ یہاں اکیلے ہیں، کیا کل میرا بھی ایسا ہی وقت آئے گا؟ کیا میں بھی ایک دن اسی طرح کھڑکی سے باہر اپنے بچوں کا انتظار کروں گا؟ اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو، لیکن یہ سوچ کر میری آنکھیں بھر آتی ہیں۔ یہی احساس مجھے مجبور کرتا ہے کہ کہ میں اپنے دل کی کیفیت لکھوں لوگ اسے پڑھیں سمجھیں اور شاید کے اتر جائے کسی کے دل میں میری بات اسی کیئر ہوم میں جس کی میں بات کر رہا ہوں ایک اماں جی ہیں، جو کافی بوڑھی ہو چکی ہیں دماغی صحت اتنی اچھی نہیں ہے کیئر ہوم جنہیں سب خالہ کہتے ہیں۔ وہ کراچی سے ہیں۔ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ کہتی ہیں کہ میری بیٹی نے کہا اماں آپ ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتیں، ہمارے گھر میں جگہ کم ہے اور بچوں کو آپ سے تکلیف ہوتی ہے۔ اب وہ اماں سارا دن کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی ہیں۔ جب بھی دیکھتیں ہیں ایک ہی سوال ہوتا ہے مجھے دیکھ کر کہتی ہیں، بیٹا تم ٹیکسی چلاتے ہو، تمہیں تو سارا شہر پتہ ہو گا، تمہیں میری بیٹی کا گھر پتہ ہے؟ میں بس دور سے ایک نظر دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں کیا جواب دوں۔
یہ کیئر ہوم کے بزرگ کسی عید، کسی بقرعید پر نئے کپڑے پہن کر سارا دن دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں کہ شاید آج میرا بیٹا آئے گا، شاید آج میری بیٹی مجھے لینے آئے گی۔ لیکن شام ہو جاتی ہے اور کوئی نہیں آتا۔ پھر وہی نرسیں ان کو کھانا دے کر چلی جاتی ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
ہم نے اپنی اولاد کو کیا دیا؟ ہم نے دن رات ٹیکسی چلائی، فیکٹریوں میں لوہا کوٹا، ریسٹورنٹ میں برتن دھوئے، سردی میں صبح سویرے اخبار بانٹے۔ ہم نے سمجھا کہ ہم بچوں کو اچھا گھر دے دیں گے، اچھی گاڑی دے دیں گے، اچھا بینک میں پیسہ جمع کر دیں گے تو وہ خوش ہو جائیں گے۔ ہم نے انہیں سب کچھ دیا، سوائے وقت کے۔ ہم نے ان کے ساتھ بیٹھ کر بات نہیں کی، ان کو دین نہیں سکھایا، ان کو رشتوں کی قدر نہیں سکھائی۔ اور جب ہم بوڑھے ہوئے تو ہمارے پاس وقت ہی وقت ہے، لیکن ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں ہے۔
یہاں کی نئی نسلیں بہت تیز ہے، ہوشیار ہے، پڑھی لکھی ہے۔ لیکن وہ صبر کرنا بھول گئی ہے۔ وہ برداشت کا مطلب نہیں جانتی۔ ذرا سی بات پر کہتی ہے میری ذہنی صحت خراب ہو رہی ہے۔ والدین کا ذرا سا سمجھانا بھی انہیں زہر لگتا ہے۔ وہ فوراً گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، یا والدین کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔ اور پھر والدین کونسل کے چھوٹے فلیٹوں میں، کیئر ہومز میں تنہا مرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس سب میں قصور صرف اولاد کا بھی نہیں۔ ہم والدین نے بھی کہیں نہ کہیں غلطی کی ہے۔ ہم نے بچوں کو روک ٹوک کرنے کے بجائے، ان کی ہر غلط بات پر بھی جی بیٹا، ٹھیک ہے بیٹا کہا۔ ہم نے سوچا کہ اگر ہم سختی کریں گے تو بچے ہم سے دور ہو جائیں گے۔ ہم اسی ڈر سے خاموش ہوتے گئے۔ اور ہماری یہ خاموشی آج ہماری سب سے بڑی دشمن بن گئی ہے۔ ہم نے انہیں ڈر سے نہیں، پیار سے سمجھانا چھوڑ دیا۔
آج برطانیہ کے ہر شہر، برمنگھم، مانچسٹر، لوٹن، نوٹنگھم، ڈربی، بریڈفورڈ، لندن میں ایک ہی کہانی ہے۔ باپ بیٹے کے سامنے مجرم بنا کھڑا ہے، ماں بہو کے سامنے قیدی بنی بیٹھی ہے۔ گھر کے بزرگوں کی عزت اب ان کی ماہانہ آمدنی کی وجہ سے ہے، ان کی دعاؤں کی وجہ سے نہیں۔ جب تک وہ پیسہ دے رہے ہیں، گھر میں ہیں۔ جس دن انہیں خود سہارے کی ضرورت پڑی، وہ بوجھ بن جاتے ہیں۔
اس کا حل کیا ہے؟ یہ سوال ہر مسافر مجھ سے پوچھتا ہے اور میں ہر مسافر سے پوچھتا ہوں۔ کیونکہ میں بھی ایک باپ ہوں اور مجھے بھی یہی ڈر لگا رہتا ہے۔
میرے خیال میں حل صرف ایک ہے، لیکن ہے اب بہت مشکل واپس اپنی روایات کی طرف لوٹنا۔ اسلام نے ہمیں جو خاندانی نظام دیا تھا، اس سے خوبصورت نظام دنیا میں کوئی نہیں۔ جس میں ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے۔ جس میں اولاد کو حکم ہے کہ والدین کے سامنے اف تک نہ کہو۔
ہمیں اپنے بچوں سے ڈرنا نہیں، انہیں پیار سے سمجھانا ہے۔ اور بچوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ جس آزادی کے پیچھے وہ بھاگ رہے ہیں، وہ آزادی انہیں ایک دن بالکل اکیلا کر دے گی۔ آج تم اپنے ماں باپ کو چھوڑو گے، کل تمہاری اولاد تمہیں چھوڑے گی۔ یہ دنیا کا اصول ہے۔ یہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
میں نوٹنگھم کی ان سڑکوں پر روز یہ دیکھتا ہوں کہ ہر آدمی اپنی جگہ بہت مجبور اور پریشان ہے۔ بوڑھا باپ بھی مجبور ہے کہ وہ کیسے اپنے جوان بیٹے سے بات کرے، اور جوان بیٹا بھی مجبور ہے کہ وہ کیسے اپنی بیوی اور اپنے ماں باپ میں توازن رکھے۔ اس مجبوری نے ہمارے گھروں سے برکت ختم کر دی ہے۔
خدارا، اپنے گھروں کو ہوٹل نہ بنائیں۔ شام کو ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ اپنے بچوں کو بتائیں کہ دادا دادی کیا ہوتے ہیں۔ اپنے والدین سے روز بات کریں، چاہے پانچ منٹ ہی سہی۔ ان کے پاس بیٹھیں۔ ان سے دعا لیں۔ کیئر ہوم میں پڑے ان بزرگوں کو جا کر ملیں، وہ آپ کے ہی ماں باپ ہیں۔ کیونکہ جب یہ بزرگ چلے جاتے ہیں تو صرف ان کی چارپائی خالی نہیں ہوتی، گھر کی چھت بھی چلی جاتی ہے۔
یہ برطانیہ ہے، یہاں قانون آپ کو تحفظ دے گا، پولیس آپ کو تحفظ دے گی، حکومت آپ کو گھر دے دے گی، لیکن یہ سکون، یہ پیار، یہ دعا آپ کو صرف اور صرف آپ کے ماں باپ کے آنچل میں ملے گی۔ اسے کھو نہ دیں۔ ورنہ آپ دنیا تو جیت لیں گے، مگر غم کے ہاتھوں ہمیشہ کے لیے ہار جائیں گے۔
دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ
|
|