مریخ پر زندگی کی تلاش، چین کا بڑا خلائی مشن
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
مریخ پر زندگی کی تلاش، چین کا بڑا خلائی مشن تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
مریخ پر کبھی زندگی موجود تھی یا نہیں، یہ سوال کئی دہائیوں سے سائنس کی دنیا کے اہم ترین رازوں میں شامل ہے۔ زمین سے مشابہت رکھنے والے اس سیارے کے ماضی میں پانی اور نسبتاً سازگار ماحول کے شواہد ملنے کے بعد سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہاں کبھی زندگی کے لیے موزوں حالات پیدا ہوئے تھے۔ چین کا تھیان وین۔3 مشن اسی سوال کا زیادہ واضح جواب تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم بننے جا رہا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ تھیان وین۔3 کو تقریباً 2028 میں مریخ کی جانب روانہ کیا جائے۔ اس مشن کا بنیادی مقصد مریخ کی سطح سے اہم اور سائنسی اعتبار سے قیمتی نمونے حاصل کرکے انہیں زمین پر لانا اور انتہائی تفصیلی تجزیہ کرنا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اسے انسانی تاریخ کے اولین مریخ نمونہ واپسی مشنز میں نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ اس سے پہلے مریخ پر بھیجے گئے روبوٹس نے سطحی نمونے جمع کیے ہیں، تاہم انہیں زمین پر واپس لانے کے لیے الگ مشن درکار ہے، جبکہ تھیان وین۔3 میں نمونہ حاصل کرنے اور اسے واپس لانے کے مراحل ایک ہی مشن کا حصہ ہوں گے۔ مریخ کو نظام شمسی کے ان سیاروں میں شمار کیا جاتا ہے جو زمین سے کئی اعتبار سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اگرچہ آج یہ ایک سرد اور خشک سیارہ ہے، اس کا ماحول انتہائی باریک ہے اور عالمی مقناطیسی میدان بھی موجود نہیں، لیکن ماضی میں اس کی سطح پر پانی کی موجودگی کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دانوں کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ ماضی کے کسی دور میں مریخ کا ماحول زندگی کے لیے کتنا سازگار تھا اور آیا وہاں کبھی کسی قسم کی زندگی نے جنم لیا۔ دنیا بھر میں گزشتہ تقریباً نصف صدی کے دوران مریخ کی تلاش کے لیے درجنوں مشن بھیجے جا چکے ہیں۔ ان کوششوں سے مریخ کی سطح، ماحول، ارضیاتی ساخت اور ماضی کے موسمی حالات کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، تاہم مریخ سے نمونے واپس لا کر ان کا زمین پر تفصیلی تجزیہ کرنے جیسا پیچیدہ مرحلہ اب بھی ایک بڑا سائنسی چیلنج ہے۔ تھیان وین۔3 میں زندگی کے ممکنہ آثار کی تلاش کو اولین سائنسی ترجیح دی گئی ہے۔ سائنس دان ایسے انتہائی باریک حیاتیاتی شواہد تلاش کریں گے جو زمین پر زندگی کی ابتدائی شکلوں سے مشابہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ امکان بھی مدنظر رکھا جائے گا کہ اگر مریخ پر کبھی زندگی پیدا ہوئی تو اس کے ارتقائی مراحل زمین سے مختلف ہونے کے باعث اس کے آثار بھی مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ مشن کی کامیابی کے لیے سب سے اہم مراحل میں مریخ پر مناسب مقام کا انتخاب شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے علاقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جہاں ارضیاتی عمر، پانی کی سابقہ سرگرمی، رہائش پذیری اور زندگی کے ممکنہ حیاتیاتی آثار محفوظ رہنے کے امکانات زیادہ ہوں۔ منصوبے کے مطابق لینڈنگ کے مقام کو 2026 کے اختتام تک حتمی شکل دینے کی توقع ہے۔ مریخ سے نمونے واپس لانا صرف سائنسی تحقیق کا معاملہ نہیں بلکہ زمین اور مریخ دونوں کے ماحولیاتی تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ زمین کے جرثوموں کو مریخ کے نمونوں کو آلودہ کرنے سے روکنا اور واپس لائے گئے نمونوں کو محفوظ طریقے سے الگ رکھنا انتہائی اہم ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی سیاروی تحفظ کی تجربہ گاہ قائم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہوگی۔ نمونوں میں زندگی سے متعلق ممکنہ مواد انتہائی معمولی مقدار میں بھی موجود ہو سکتا ہے، اس لیے ان کی شناخت کے لیے انتہائی حساس اور قابل اعتماد طریقۂ کار درکار ہوگا۔ اس سلسلے میں ایسے تحقیقی طریقے تیار کیے جا رہے ہیں جو زمین پر نمونے پہنچنے کے بعد ان کے تجزیے کے پورے عمل کو منظم انداز میں آگے بڑھانے میں مدد دیں گے۔ تاہم مریخ سے واپس آنے والے نمونوں کی اہمیت صرف زندگی کی تلاش تک محدود نہیں ہوگی۔ چاہے ان میں زندگی کے آثار ملیں یا نہ ملیں، ان نمونوں سے مریخ کی ارضیاتی ساخت، ماحول، موسمی ارتقا اور پانی کی تاریخ کے بارے میں ایسی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں جو زمین سے کیے جانے والے مشاہدات کے ذریعے مکمل طور پر حاصل کرنا ممکن نہیں۔ خوردبینی، سالماتی اور آئسوٹوپی سطح پر تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مریخ کس طرح تبدیل ہوا اور زندگی کے ممکنہ آغاز کے لیے کن حالات نے کردار ادا کیا۔ تھیان وین۔3 اب انجینئرنگ کے نمونوں کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ مشن چین کی خلائی انجینئرنگ صلاحیتوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہوگا، کیونکہ مریخ پر اترنے، وہاں سے نمونے حاصل کرنے، انہیں محفوظ رکھنے اور پھر زمین تک واپس لانے کے تمام مراحل غیر معمولی تکنیکی پیچیدگی رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ مشن سیاروی سائنس میں نئی تحقیق کو بھی آگے بڑھا سکتا ہے۔ مریخ کی تلاش کے ساتھ ساتھ پورے سیارے کا ایک نئی نسل کا ارضیاتی نقشہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کام میں پہلے سے حاصل شدہ خلائی معلومات کے ساتھ مختلف بین الاقوامی ذرائع سے ملنے والے اعداد و شمار کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ تصویری مشاہدات، طیفی معلومات، ریڈار اور کشش ثقل سے متعلق اعداد و شمار کے علاوہ مصنوعی ذہانت کو بھی ارضیاتی تشریح کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پورے مریخ کا ایک تفصیلی ارضیاتی نقشہ 2028 کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مریخ پر زندگی کی تلاش دراصل صرف ایک سیارے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں بلکہ کائنات میں زندگی کے امکانات کو سمجھنے کی وسیع تر سائنسی جستجو ہے۔ تھیان وین۔3 سے حاصل ہونے والے نمونے اس تحقیق میں نئی معلومات فراہم کر سکتے ہیں اور مریخ کی تاریخ، ماحول اور ممکنہ حیاتیاتی ارتقا کے بارے میں انسانی علم کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اس مشن میں عالمی سائنسی تعاون کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے، تاکہ مریخ کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش میں مختلف ممالک کے سائنس دان مل کر انسانی علم کی نئی حدود تلاش کر سکیں۔ |