میں کافی دیر سے سوچ رہا تھا کہ جو دو مختلف قسم. کے ڈرافٹ بنائے ہیں، کسی بھی دن چئیرمین صاحب وہ یکجا طلب کر سکتے ہیں۔ میرا موڈ نہیں تھا کہ انھیں ایک. بار پھر پڑھتا اور پھر انھیں ایک ڈرافٹ میں بنا کوئی معلومات دہرائے، کوئی معلومات منہا کیے بغیر اسے لکھتا۔ کیوں کہ اس وقت میں گھر میں والدہ سے بات کر رہا تھا۔ بات کے دوران ہی اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ دونوں ڈرافٹ چیٹ جی پی ٹی کو دیے جائیں اور اسے کہا جائے کہ اسے ایک ترتیب سے ایک ڈرافٹ میں بدل دو۔ جس میں معلومات کی ترتیب بھی خراب نہ ہو اور کوئی نکتہ بھی چھوڑا نہ گیا ہو۔ میری عادت ہے کہ میں ایسی باتوں پر زیادہ نہیں سوچا کرتا. میں نے دونوں ڈرافٹ کال کے دوران ہی کاپی پیسٹ کرکے اے آئی کو دے دیے۔ اس نے ایک منٹ لگایا اور ایک ڈرافٹ میرے سامنے رکھ دیا۔ اس کہ زبان. بھی سیدھی کی گئی تھی اور دونوں کی مشترکہ معلومات کو بھی ایک ہی جان کر لکھا گیا تھا۔ میں نے کال کے دوران ہی اسے پڑھا۔ کچھ باتیں ٹھیک نہیں تھیں۔ اسے مطلوبہ ترمیم کرنے کو کہا۔ اس نے وہ ترمیم کر دی۔ لیکن ترمیم کے بعد دو تین چیزیں غائب تھیں۔ میری کال ختم ہو چکی تھی۔ میرے پاس وقت بھی تھا۔ میں نے اے آئی کو کہا کہ میں نے صرف فلاں ترمیم کرنے کا کہا تھا، اس نے یہ معلومات کیوں اڑا دی ہیں۔ "اوہ معذرت۔ چونکہ میرے خیال میں ان. معلومات کا تعلق اس ترمیم سے تھا تو کب جملے نہیں رہے تو میرے خیال میں پجر ان. معلومات کی بھی ضرورت نہیں تھی۔" مجھے جواب ملا۔ "کمال ہے۔ ٹھیک ہے تم انٹیلیجنٹ ہو، لیکن ہدایات تو ہماری ہی لے کر کام کرتے ہو۔ اس لیے جو کہا جائے، وہ کرو۔" میں نے لکھا۔ "جی اعجاز۔ آپ کا غصہ اور ناراضی بجا ہے۔ میں آئندہ احتیاط کروں گا اور وہ لکھوں جو آپ کہیں گے۔" اس نے لکھا۔ "اوکے۔ اب ان ڈرافٹس کو دوبارہ ایک دوسرے میں ضم کرکے ایک ڈرافٹ بناؤ اور کوئی انفارمیشن نہی چھوڑنی ہے اور نہ ہی کوئی جملہ دہرایا جائے۔" میں نے دوبارہ ہدایات دیں۔ اب کی بار جو نتیجہ سامنے آیا، اسے دہکھ کر تو میری سٹک گئی۔ اگر اے آئی کوئی انسانی صورت میں میرے سامنے ہوتا تو شاید میں تھپڑ جڑ دیتا۔ اور پھر میں نے اسے لفظوں کی صورت میں تھپڑ جڑ دیا۔ "میں معافی چاہتا ہوں اعجاز۔ کہ میں آپ کی توقعات کے مطابق نہیں لکھ سکا۔" اس نے لکھا۔ آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ اس نے ایسا کیا لکھ دیا تھا۔ میں نے اس چیٹ جی پی ٹی کو آفیشل ڈرافٹ دیے تھے۔ اس نے جو آؤٹ پٹ مجھے دیا تھا وہ اس محاورے کے مطابق تھا کہ سوال گند، جواب چنا۔ اس نے مجھے معاشیات کا ایک مضمون نما ڈرافٹ بنا دیا تھا جب کہ میں نے اسے پٹرولیم. سیکٹر کی دو رپورٹس دی تھیں۔ "کیا. تمھارا مصنوعی دماغ میں لوچا آگیا ہے، جو مجھے کچھ اور جواب دے رہے ہو، جب کہ میں نے کچھ اور کہا تھا۔" میں نے اسے پھر لکھا۔ "مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی ہدایت پر عمل نہ کر سکا۔ اب میں آپ کو بالکل ٹھیک مضمون بنا کر دوں گا۔" اس نے ایک بار پھر معذرت کرتے ہوئے کہا۔ "میں نے تم سے مضمون نہیں مانگا بلکہ اپنے دیے گئے ڈرافٹس کو مرج کرکے لکھنے کا کہا تھا۔" میں نے لکھا۔ "ٹھیک ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں۔ اب میں آپ کو ایک مرج شدہ مکمل رپورٹ دوں گا۔ جب آپ کہیں گے، میں رپورٹ بنانا شروع کر دوں گا۔" اس نے لکھا۔ مجھے ہنسی آگئی۔ ظاہر ہے کہ میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا تو مجھے مسکراتا دیکھ کر میرے ٹیبل کی دوسری جانب بیٹھا آفس بوائے اور اس سے آگے بیٹھا اسسٹنٹ جو اتفاق سے میری طرف ہہ دہکھ رپے تھے، ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ "سر. کیا انگریزی میں کوئی لطیفہ پڑھ لیا ہے جو مسکرا رہے ہیں؟" آفس بوائے سے رہا نہ گیا۔ "نہیں بھئی۔ لطیفہ تو نہیں پڑھا لیکن جو ہو رہا ہے، وہ لطیفے سے کم نہیں ہے۔" میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اے ائی کو کہا کہ ٹھیک ہے، وہ رپورٹ تیار کر دے۔ اب کی بار جو ریزلٹ سامنے آیا، اسے پڑھ کر تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ وہ مجھے ٹرمپ اور ایلن مسک کی چپقلش کی کہانی پڑھا رہا تھا۔ "بس بھئی، تمھارے بس کی بات نہیں ہے۔ رہنے دو تم۔ چھوڑو، میں خود لکھ لوں گا۔" میرا تو میٹر آؤٹ ہو گیا۔ اس کا کیا جواب آیا، مجھے نہیں معلوم کہ میں نے اپنا ای میل کھولنے کے لیے جی میل ڈاٹ کام لکھ کر اینٹر پریس کر دیا تھا۔ |