روبوٹس کے کھیل، صنعت کی نئی آزمائش
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
روبوٹس کے کھیل، صنعت کی نئی آزمائش تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ایک عارضی ریستوران میں اچانک ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جو کبھی صرف سائنس فکشن کی کہانی محسوس ہوتا تھا۔ ایک انسان نما روبوٹ نے چمٹے کی مدد سے ایک اسنیک اٹھایا، اسے مائیکروویو میں رکھا، مقررہ وقت کے لیے ڈائل گھمایا اور پھر اگلے آرڈر کی طرف بڑھ گیا۔ سامنے موجود ججز صرف اس بات کو نہیں دیکھ رہے تھے کہ روبوٹ کام مکمل کر پاتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی جانچ رہے تھے کہ وہ اسے کتنی درستگی، روانی اور خودمختاری سے انجام دیتا ہے۔
یہ منظر چین میں حالیہ دنوں منعقدہ انسان نما روبوٹس کے عالمی مقابلوں میں سامنے آیا، جہاں روبوٹس کو صرف دوڑنے، رکاوٹیں عبور کرنے یا کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے نہیں بلکہ حقیقی زندگی اور کام کی جگہوں سے ملتے جلتے فرائض انجام دینے کے لیے بھی آزمایا گیا۔ اس سال کے مقابلوں میں روبوٹس کی صلاحیت کو کھیل کے میدان سے نکال کر فیکٹری، ہوٹل، گھر، ریستوران اور لاجسٹکس جیسے ماحول میں پرکھنے پر خاص توجہ دی گئی۔
دوسرے عالمی انسان نما روبوٹ مقابلوں میں اس بار 16 ممالک اور خطوں سے 666 ٹیموں اور 2 ہزار 56 روبوٹس نے حصہ لیا، جبکہ گزشتہ سال ہونے والے پہلے مقابلوں کے مقابلے میں ٹیموں کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی۔ مقابلوں کے شعبوں کی تعداد بھی 26 سے بڑھ کر 51 ہو گئی جبکہ مقابلوں کی مجموعی تعداد 487 سے بڑھ کر ایک ہزار 301 تک پہنچ گئی۔
اس بار سب سے نمایاں اضافہ منظرنامے پر مبنی 21 مقابلوں کا تھا۔ ان میں فیکٹریوں، ہوٹلوں، گھروں اور لاجسٹکس مراکز جیسے حقیقی ماحول میں روبوٹس کی کارکردگی جانچی گئی۔ صنعتی اسمبلی، صفائی، ہنگامی امداد، سامان کی ترتیب اور کتابیں رکھنے جیسے کاموں کو مقابلے کا حصہ بنایا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ روبوٹس ایسے کام کتنی مؤثر انداز میں انجام دے سکتے ہیں جو عموماً بار بار دہرائے جاتے ہیں، جسمانی مشقت طلب ہوتے ہیں یا خطرناک اور مشکل ماحول میں کیے جاتے ہیں۔
ایک ہوٹل میں ہونے والے مقابلے میں روبوٹ ٹیموں کو 30 منٹ میں تین کام مکمل کرنے تھے۔ انہیں مختلف سائز کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، کمروں میں ضروری اشیا دوبارہ فراہم کرنا اور بستر تیار کرنا تھا۔ روبوٹس کی کامیابی صرف کام مکمل کرنے سے نہیں بلکہ ٹکراؤ سے بچنے اور پوری کارروائی کو روانی سے انجام دینے کی صلاحیت سے بھی جانچی گئی۔
ریستوران کے مقابلے میں معمولی دکھائی دینے والے کام بھی خاصی مشکل آزمائش ثابت ہوئے۔ روبوٹس کو مائیکروویو کا ٹائمر پانچ منٹ پر سیٹ کرنا تھا اور ایک منٹ سے زیادہ فرق کی صورت میں نمبر کم کیے گئے۔ اسی طرح تیار مشروب پہنچاتے وقت اگر بہت زیادہ مائع گر جاتا تو روبوٹ کو اضافی نقصان اٹھانا پڑتا۔
اس سال روبوٹس کے ہاتھوں کی مہارت کے لیے بھی ایک الگ مقابلہ شامل کیا گیا۔ اس میں برقی آلات کی اسمبلی، چمٹی سے دانے اٹھانا، پاؤڈر کا وزن کرنا، بوتلوں کے ڈھکن کھولنا اور لچک دار تاروں کو جوڑنے جیسے آٹھ انتہائی باریک اور درستگی طلب کام شامل تھے۔ ان مقابلوں کا مقصد روبوٹس کی اس صلاحیت کو جانچنا تھا جسے حقیقی صنعتی اور گھریلو کاموں میں بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔
مقابلوں کی تیاری سے پہلے مختلف شعبوں کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔ تجارتی خدمات، باغات اور سبزہ زاروں کی نگرانی اور ہنگامی امداد جیسے شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مقابلوں کے کام ترتیب دیے گئے۔ بعض کام سپر مارکیٹوں میں رات کے وقت ہونے والی سرگرمیوں سے لیے گئے، جہاں ملازمین کو شیلف پر سامان دوبارہ رکھنا، آن لائن آرڈرز پیک کرنا اور غلط جگہ رکھی اشیا واپس ان کے مقام پر پہنچانا پڑتا ہے۔
یوں مقابلے میں مکمل ہونے والا ہر کام ایک حقیقی صنعتی منظرنامے کی آزمائش بن گیا۔ اگر روبوٹ کسی کام کو کامیابی سے انجام دیتا ہے تو اس کی کارکردگی صرف مقابلے کے نمبر تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ مستقبل میں اسی نوعیت کے کام کے لیے تجارتی طور پر قابل استعمال ہو سکتا ہے۔
اس بار روبوٹس سے خودمختاری کی توقع بھی پہلے سے زیادہ رکھی گئی۔ سو میٹر اور چار سو میٹر رکاوٹوں کی دوڑ کے علاوہ تقریباً تمام مقابلوں میں مکمل خودکار آپریشن لازمی قرار دیا گیا۔ منظرنامے پر مبنی مقابلوں میں مکمل خودمختاری سے کام کرنے والے روبوٹ کے لیے زیادہ اسکور رکھا گیا، جبکہ دور سے کنٹرول کیے جانے والے روبوٹس کے لیے اسکورنگ کی شرح نصف مقرر کی گئی۔
یہ تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان نما روبوٹ کی اصل آزمائش صرف یہ نہیں کہ وہ انسان کے بتانے پر کوئی کام کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے ماحول میں خود فیصلہ کرتے ہوئے کام کو مکمل کر سکے۔
انسان نما روبوٹس کی صنعت اگرچہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے سامنے بڑی تکنیکی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ مختلف حالات میں ایک ہی روبوٹ کی کارکردگی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔ ایک مخصوص ماحول میں مناسب تربیت حاصل کرنے کے بعد روبوٹ کسی کام کو تقریباً مکمل درستگی سے انجام دے سکتا ہے، لیکن اگر چیز، جگہ یا اردگرد کا ماحول بدل جائے تو اس کی کارکردگی نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔
اسی لیے صنعت میں ایک ایسے مرحلے کو اہم سمجھا جا رہا ہے جب انسان نما روبوٹ کسی بالکل نئے ماحول میں پہنچ کر صرف آواز یا تحریری ہدایت کی مدد سے روزمرہ کے زیادہ تر کام خود انجام دینے کے قابل ہو جائے۔ اس پیش رفت کے لیے کچھ عرصے سے دو تین سال جبکہ محتاط اندازے کے مطابق پانچ سے دس سال تک کا وقت بھی زیرِ غور ہے۔
فی الحال عالمی انسان نما روبوٹ مقابلے اس ٹیکنالوجی کے لیے ایک وسیع آزمائشی میدان بن گئے ہیں۔ یہاں کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور عام لوگوں کو یہ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے کہ روبوٹ دراصل کیا کر سکتے ہیں اور کن کاموں میں ابھی مزید بہتری درکار ہے۔
ان مقابلوں کا اصل مقصد بھی اب صرف ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں رہا۔ توجہ اس بات پر ہے کہ روبوٹ تجرباتی نمونوں سے نکل کر حقیقی مصنوعات اور خدمات کا حصہ بنیں۔ مقابلے کے دوران حاصل ہونے والے نتائج مستقبل کے تکنیکی معیارات، صنعتی استعمال اور حفاظتی اصولوں کی تشکیل میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔
یوں روبوٹس کے لیے قائم کیا گیا یہ میدان بظاہر کھیل اور مقابلے کی دنیا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پیچھے صنعت کا ایک بڑا سوال موجود ہے: کیا روبوٹ صرف انسان کی طرح حرکت کر سکتے ہیں، یا وہ انسان کی طرح بدلتے حالات میں کام بھی کر سکیں گے؟ جس دن یہ آخری مرحلہ عبور ہو گیا، اس دن مقابلوں میں جیتنے والے تمغے صرف اعزاز نہیں رہیں گے بلکہ حقیقی صنعت میں نئے آرڈرز، نئی ملازمتوں اور نئی خدمات کا راستہ بھی کھول سکتے ہیں۔ |
|