دوست

دوست
آج خیال آیا، کیوں نہ دوست کے بارے میں لکھا جائے۔ ویسے تو جب بھی کسی لفظ کو لکھا جاتا ہے، اُس لفظ کی تعریف ضروری سمجھی جاتی ہے؛ مگر دوست وہ واحد لفظ ہے جسے کسی تعریف کی ضرورت نہیں۔
تعریف سے یاد آیا، وہ بھی کیا دوست جس کی تعریف کی جائے؟
بھلا دوست کی بھی کہیں تعریف کی جاتی ہے؟
ہاں، بالکل کی جاتی ہے۔
اپنی تنہائی کی خاموشی میں،
یا کسی غیر کی موجودگی میں،
فقط وہ، بس اُسے جانتا نہ ہو۔
دوست وہ واحد ہستی ہے، جب کچھ نہیں ہوتا تب وہ ہوتا ہے، اور حیران کن بات ہے کہ جب سب کچھ ہوتا ہے تب بھی وہ ہوتا ہے۔
اپنے دوستوں کی بات کروں تو کیا ہی کہنے، سب ایک دوسرے سے مختلف، سب کی نگاہ کا زاویہ مختلف، بات چیت کا انداز مختلف، سمجھنے کا طریقہ مختلف، سمجھانے کا طریقہ بھی مختلف، روٹھ جانے کا طریقہ بھی مختلف، منانے کا طریقہ بھی مختلف، مگر اتنے رنگ جدا ہونے کے باوجود بھی یک رنگ ہے۔
اُن کے بارے میں لکھوں تو شاید لفظوں کی کمی پڑ جائے۔ عجیب بات ہے کہ دامنِ الفاظ بھرا ہونے کے باوجود، اُن کے لیے کچھ بھی لکھنے کو کافی نہیں۔
میرے دوستوں سے میں  نے بہت کچھ سیکھا ہے، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، وہ لوگ بڑے کمال کے ہوتے ہیں جن سے کچھ سیکھا جائے۔
میں یہ نہیں کہوں گی کہ میرے دوستوں میں خامیاں نہیں، مگر اُن کی خامیوں کو کہہ کر اُن کے دامن کو کیوں داغدار کروں؟
بھلا وہ کیسی دوستی، جس میں دوست کی کمزوریوں کا چرچا سرِعام کیا جائے، جس میں محبت سے زیادہ حساب رکھا جائے، اور اپنائیت سے زیادہ عیب تلاش کیے جائیں۔
میرے نزدیک دوستی کا پہلا اصول ہی یہی ہے کہ دوستی کو اُس کی خوبیوں سمیت نہیں، بلکہ اُس کو خامیوں سمیت قبول کیا جائے۔
اگر محبت میں ہر غلطی کا حساب رکھا جاتا ہے، تو دوستی وہ رشتہ ہے جہاں خامیوں سمیت سمجھا جاتا ہے۔
شاید اسی لیے میرے نزدیک دوستی محبت سے ایک درجہ بلند ہے، کیونکہ دوستی میں سمجھانے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اگر ایک اور درجے کی بات کروں تو، محبت میں شاید کسی کو پانے کی خواہش ہوتی ہے، مگر دوستی میں کسی کو سمجھنے کی صلاحیت۔
اگر دوستی کے معنی کو لفظوں کی قید میں سمیٹنا ممکن ہو تو شاید یوں کہا جائے کہ:
اختلاف کے باوجود اتفاق،
فاصلے کے باوجود قربت۔
کون کہتا ہے محبت صرف محبوب سے کی جاتی ہے؟
کبھی دوستی سے عشق کر کے تو دیکھیے۔
کون کہتا ہے کہ محبوب کی بے رخی ہی تکلیف دیتی ہے؟
کبھی کسی دوست کی تلخی کو محسوس کر کے تو دیکھیے۔
کون کہتا ہے محبوب کی تکلیف ہی دل چیرتی ہے؟
کبھی دوست کے درد کو سہہ کر تو دیکھیے۔
کون کہتا ہے صرف محبوب کے بول قطرہ قطرہ سنے جاتے ہیں؟
کبھی دوست کی خاموشی میں چھپے الفاظ کو سمجھیے۔
کون کہتا ہے محبوب سے جدائی موت جیسی ہوتی ہے؟
کبھی کسی دوست سے بچھڑ کر تو دیکھیے۔
آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی:
عظیم ہے وہ شخص جس نے اس زمانے میں بھی ایک اچھے دوست کو پایا،
اور اس سے بھی عظیم ہے وہ شخص جس نے اُسے سمجھا اور نبھایا۔
جیسا کہ احمد فراز صاحب لکھتے ہیں:
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز،
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔

 

yanna
About the Author: yanna Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.