ایک پنشنر، دو لائف سرٹیفکیٹ کیوں؟ ۔
( Arshad Qureshi, Karachi)
| ایک بزرگ پنشنر کو بار بار اپنی زندگی ثابت کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے اداروں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنا چاہیے۔ایک پنشنر، ایک معتبر تصدیق، ایک مربوط نظام،یہی جدید اور انسان دوست ڈیجیٹل پاکستان کی علامت ہونی چاہیے۔پی ٹی ای ٹی نے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کے ذریعے ایک اچھی اور قابلِ تحسین بنیاد فراہم کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سہولت کو بینکنگ نظام کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا جائے تاکہ پی ٹی سی ایل کے بزرگ پنشنرز کو غیر ضروری بائیومیٹرک، کاغذی کارروائی اور بینکوں کے چکروں سے مستقل نجات مل سکے۔حکومت نے ڈیجیٹل پاکستان کی جانب ایک قدم اٹھا دیا ہے،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ قدم پنشنر کی دہلیز تک پہنچے۔ |
|
|
پاکستان میں سرکاری نظام کو ڈیجیٹل بنانے کی کوششیں یقیناً خوش آئند ہیں، خصوصاً بزرگ شہریوں اور پنشنرز کے لیے ایسے اقدامات جن کے نتیجے میں انہیں بار بار سرکاری دفاتر یا بینکوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ حالیہ دنوں میں ’’پروف آف لائف سرٹیفکیٹ‘‘ یعنی زندگی کا ثبوت فراہم کرنے کے ڈیجیٹل نظام کا آغاز بھی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ نادرا نے اس سہولت کو مزید آسان بناتے ہوئے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ مفت کر دیا ہے اور اسے پاک آئی ڈی موبائل ایپ سمیت مختلف ذرائع سے حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد بالخصوص بزرگ، بیمار اور ایسے پنشنرز کی مشکلات کم کرنا ہے جن کے لیے ہر چھ ماہ بعد بینک یا پنشن دفتر جانا دشوار ہوتا ہے۔ وزیراعظم کی سطح پر بھی یہ بات واضح کی گئی ہے کہ نئے نظام کے تحت پنشنرز کو ہر چھ ماہ بعد محض زندگی کے ثبوت کے لیے بینک جانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے ڈیجیٹل پروف آف لائف کے لیے نظرثانی شدہ طریقۂ کار بھی جاری کیا جا چکا ہے۔یہ یقیناً ایک بڑی اور قابلِ تحسین تبدیلی ہےلیکن اسی موقع پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ، یعنی پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کے حوالے سے ایک اہم سوال سامنے آتا ہے جس کا جواب متعلقہ اداروں کی طرف سے واضح طور پر دیا جانا چاہیے۔ پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کو پنشن جاری کرنے والا ادارہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ، یعنی پی ٹی ای ٹی ہے۔ پی ٹی ای ٹی نے بھی اپنے پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کا نظام متعارف کرا رکھا ہے۔ اس نظام کے ذریعے پنشنر گھر بیٹھے اپنے موبائل فون سے زندگی کا ثبوت پی ٹی ای ٹی کو فراہم کر سکتا ہے۔اس نظام کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت یہ بھی ہے کہ پنشنر کو اپنے سرٹیفکیٹ کی صورتِ حال معلوم ہو جاتی ہے کہ سرٹیفکیٹ کب جمع کرایا گیا، کب منظور ہوا اور آئندہ کب زندگی کا ثبوت دینا ہوگا۔یعنی ایک پی ٹی سی ایل پنشنر گھر بیٹھے اپنی زندگی کا ثبوت فراہم کر سکتا ہے اور پی ٹی ای ٹی اس کی تصدیق بھی کر سکتا ہے۔ یہاں ایک نہایت سادہ مگر اہم سوال پیدا ہوتا ہے،اگر پنشن جاری کرنے والا ادارہ خود اپنے پنشنر کی زندگی کی تصدیق کر چکا ہے تو پھر اسی پنشنر کو دوبارہ بینک کے سامنے اپنی زندگی ثابت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے؟،یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کو ایک سے زیادہ مقامات پر زندگی کا ثبوت دینا پڑتا رہا ہے۔ ایک طرف پی ٹی ای ٹی کو لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوتا تھا اور دوسری طرف بینک میں بھی بائیومیٹرک یا لائف سرٹیفکیٹ کے تقاضے کا سامنا کرنا پڑتا تھا،اگر پنشنر نے مقررہ وقت پر ان میں سے کسی ایک جگہ بھی اپنی حیات کی تصدیق نہ کرائی تو پنشن رکنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا تھا۔ایک بزرگ پنشنر کے لیے یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں۔ بینک تک پہنچنا، قطار میں کھڑے ہونا، بائیومیٹرک کرانا، انگلیوں کے نشانات کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ کوشش کرنا، فارم حاصل کرنا یا کسی افسر سے لائف سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرانا ، یہ سب بزرگ شہریوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ بن سکتا ہے۔ اب جب کہ حکومت نے خود ڈیجیٹل پروف آف لائف کا نظام متعارف کرا دیا ہے اور بینکوں کے ذریعے زندگی کی تصدیق کے پرانے طریقۂ کار کو ختم کرنے کی سمت واضح قدم اٹھایا ہے، تو پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کے لیے بھی اس نظام کی عملی صورتِ حال بالکل واضح ہونی چاہیے۔لیکن پی ٹی سی ایل پنشنرز کے لیے ایک عملی سوال اب بھی موجود ہے۔کیا پی ٹی ای ٹی کا منظور شدہ ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ ہی کافی ہوگا؟کیا اس کی اطلاع متعلقہ بینک کو خود بخود پہنچے گی؟کیا پی ٹی سی ایل پنشنر کو اب بینک جا کر بائیومیٹرک کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی؟اور اگر کسی خاص صورت میں بینک کی تصدیق اب بھی ضروری ہے تو اس کی واضح وجہ اور طریقۂ کار کیا ہے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ حکومت کی حالیہ ڈیجیٹل اصلاحات کا بنیادی مقصد ہی شہریوں کو غیر ضروری دفتری کارروائی سے نجات دلانا ہے۔جبکہ پی ٹی ای ٹی کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے جو وڈیو اپ لوڈ کی گئی ہیں اس میں واضح طور پر کہا جارہا ہے کہ ہماری ایپ پر دیے جانے والے زندگی کے ثبوت کا بینکوں سے کوئی تعلق نہیں آپ متعلقہ بینکوں میں لائف سرٹیفکیٹ پرانے طریقہ کار کے مطابق جمع کراتے رہیں گے۔
اگر ایک پنشنر نے پی ٹی ای ٹی کے سرکاری ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اپنی زندگی کی تصدیق کرا دی، پی ٹی ای ٹی نے اسے منظور بھی کر لیا اور اس کا ریکارڈ اس کے اپنے نظام میں محفوظ ہو گیا تو ایک ہی حقیقت، یعنی ’’پنشنر حیات ہے‘‘ اب اس کو دوبارہ کسی دوسرے ادارے کے سامنے ثابت کرنے کی ضرورت بظاہر ایک اضافی مرحلہ محسوس ہوتی ہے۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بینک کا بنیادی کردار پنشن کی رقم کی ادائیگی اور اکاؤنٹ کے انتظام سے متعلق ہے، جب کہ پنشنر کی زندگی کی تصدیق کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پنشن کسی ایسے شخص کو ادا نہ ہوتی رہے جو حیات نہیں۔اگر پنشن جاری کرنے والا ادارہ قابلِ اعتماد اور محفوظ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اس حقیقت کی تصدیق کر رہا ہے تو بہتر نظام یہی ہوگا کہ یہ تصدیق متعلقہ بینک تک بھی محفوظ طریقے سے پہنچ جائے۔دنیا بھر میں ڈیجیٹل نظام کا بنیادی تصور یہی ہے کہ ایک ہی معلومات بار بار شہری سے حاصل کرنے کے بجائے ادارے باہمی رابطے کے ذریعے ایک دوسرے سے مطلوبہ تصدیق حاصل کریں۔ پاکستان میں بھی اب اسی سمت بڑھنے کی ضرورت ہے،اس کا ایک آسان حل یہ ہوسکتا ہے کہ پی ٹی ای ٹی کے منظور شدہ ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کو متعلقہ بینک کے نظام سے منسلک کر دیا جائے۔ پی ٹی ای ٹی جب کسی پنشنر کی زندگی کی تصدیق مکمل کر لے تو اس کی حیثیت متعلقہ بینک کو ڈیجیٹل طریقے سے دستیاب ہو جائے۔ اس کے بعد پنشنر کو صرف اس مقصد کے لیے بینک جانے کی ضرورت نہ رہے۔یہ نظام نہ صرف بزرگ شہریوں کے لیے آسان ہوگا بلکہ انتظامی اخراجات، کاغذی کارروائی اور غیر ضروری بائیومیٹرک مراحل میں بھی کمی آئے گی۔ اس سلسلے میں پی ٹی ای ٹی کی جانب سے ایک واضح اعلان بھی ضروری ہے۔ پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کو بتایا جائے کہ نئے قومی ڈیجیٹل پروف آف لائف نظام اور پی ٹی ای ٹی کے اپنے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ نظام کے درمیان کیا تعلق ہے، اور انہیں سال میں کتنی مرتبہ اور کس ادارے کو زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ کیوں کہ اس وقت سب سے بڑی مشکل ’’نظام‘‘ نہیں بلکہ نظام کے بارے میں ابہام ہے۔ایک پنشنر اگر یہ سمجھ کر کہ پی ٹی ای ٹی نے اس کا ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ منظور کر لیا ہے، بینک جانے سے گریز کرے، اور بعد میں اسے معلوم ہو کہ بینک کے ریکارڈ میں کوئی دوسری کارروائی مطلوب تھی، تو اس کی پنشن متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ہر صورت میں بینک بھی جائے تو پھر ڈیجیٹل نظام سے حاصل ہونے والی سہولت کا مقصد ہی محدود ہو جاتا ہے۔لہٰذا متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کے لیے ایک واضح، سادہ اور متفقہ طریقۂ کار جاری کیا جائے۔ اگر پی ٹی ای ٹی کا ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کافی ہے تو صاف الفاظ میں اعلان کیا جائے پی ٹی سی ایل پنشنر کو پی ٹی ای ٹی میں ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ منظور ہونے کے بعد بینک میں دوبارہ بائیومیٹرک یا لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ضرورت نہیں۔اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ بھی واضح کیا جائے کہ بینک کی اضافی تصدیق کیوں ضروری ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔یہ مسئلہ صرف پی ٹی سی ایل پنشنرز کا نہیں۔ پاکستان میں لاکھوں بزرگ شہری پنشن پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل پاکستان کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کتنی ایپس بنا دی گئیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ان ایپس نے عام شہری، بالخصوص بزرگ پنشنر، کی زندگی واقعی آسان بنائی ہے؟ ایک بزرگ پنشنر کو بار بار اپنی زندگی ثابت کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے اداروں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنا چاہیے۔ایک پنشنر، ایک معتبر تصدیق، ایک مربوط نظام،یہی جدید اور انسان دوست ڈیجیٹل پاکستان کی علامت ہونی چاہیے۔پی ٹی ای ٹی نے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کے ذریعے ایک اچھی اور قابلِ تحسین بنیاد فراہم کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سہولت کو بینکنگ نظام کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا جائے تاکہ پی ٹی سی ایل کے بزرگ پنشنرز کو غیر ضروری بائیومیٹرک، کاغذی کارروائی اور بینکوں کے چکروں سے مستقل نجات مل سکے۔حکومت نے ڈیجیٹل پاکستان کی جانب ایک قدم اٹھا دیا ہے،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ قدم پنشنر کی دہلیز تک پہنچے۔
|