جب رشتے بچھڑ جائیں تو اللہ تھام لیتا ہے

جب رشتے بچھڑ جائیں تو اللہ تھام لیتا ہے


اگر آج آپ کی زندگی میں کوئی ایسی جدائی آئی ہے جس نے آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اگر دل کسی کے چلے جانے پر اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے، اگر آنکھیں ہر رات کسی کی یاد میں نم ہو جاتی ہیں تو میری یہ تحریر صرف آپ کے لیے ہے۔ ٹھہر جائیے، گہری سانس لیجیے اور اپنے دل کو یہ یقین دلائیے کہ آپ سزا کے دور سے نہیں گزر رہے، بلکہ آپ اس وقت اللہ کی خصوصی نگرانی میں ہیں۔

یہ باتیں میں آپ کو کسی کتاب سے پڑھ کر نہیں بتا رہا، میں خود اس تکلیف دہ دور سے گزر چکا ہوں۔

جی ہاں، میں نے بھی وہ راتیں دیکھی ہیں جب دل ٹوٹتا ہے تو آواز نہیں آتی، جب آنسو اندر ہی اندر گرتے ہیں، جب لگتا ہے کہ اپنا سب کچھ لٹا کر بھی ہم خالی ہاتھ رہ گئے۔ میں نے بھی کسی پر اپنی محبت، اپنا وقت، اپنی دعائیں سب نچھاور کی تھیں اور پھر ایک دن وہ سب سمیٹ کر چلا گیا تھا۔ اس وقت لگا تھا جیسے میری دنیا ختم ہو گئی۔
لیکن آج میں شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ چلا گیا، کیونکہ اگر وہ نہ جاتا تو میں کبھی اپنے رب کے اتنا قریب نہ آ پاتا۔
یہ وقت سزا کا نہیں، انتخاب کا ہے۔ اللہ اپنے خاص بندوں کو آزماتا نہیں، سنوارتا ہے۔ دنیا جب آپ کو چھوڑ دیتی ہے تو دراصل اللہ آپ کو اپنی طرف بلا رہا ہوتا ہے۔
زندگی میں کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ لگتا ہے جیسے سب کچھ ختم ہو گیا، جیسے سانس تو چل رہی ہے لیکن جینے کی وجہ ختم ہو گئی۔ آپ نے اپنا وقت، اپنی محبت، اپنی دعائیں، اپنے خواب سب کسی ایک شخص پر نچھاور کر دیے تھے اور وہ شخص ایک لمحے میں سب کچھ سمیٹ کر چلا گیا۔ دل سوال کرتا ہے کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ میں نے تو مخلص ہو کر چاہا تھا، میں نے تو وفا کی تھی، پھر مجھے ہی یہ درد کیوں ملا؟
تو سنو، میرے درد کے ساتھی! یہ درد تمہاری کمزوری نہیں، یہ تمہاری صفائی کا ثبوت ہے۔ تم اس دنیا کے مطلبی رشتوں کے قابل نہیں تھے، اسی لیے اللہ نے تمہیں ان سے الگ کر دیا۔

اس نے آپ کو گرنے سے پہلے ہی تھام لیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم گر گئے، ہم ٹوٹ گئے، ہم ہار گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں گرنے سے پہلے ہی اپنی رحمت کے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ جس رشتے کے ٹوٹنے پر آپ آج رو رہے ہیں، اگر وہ رشتہ باقی رہتا تو کل وہی رشتہ آپ کو ایسی گہری کھائی میں گراتا جہاں سے نکلنا شاید ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ مستقبل کو جانتا ہے، ہم صرف حال دیکھتے ہیں۔ ہم چہرے دیکھتے ہیں، وہ نیتوں کو دیکھتا ہے۔ ہم میٹھی باتوں پر فدا ہو جاتے ہیں، وہ دلوں کے اندر چھپے حسد، منافقت اور فریب کو جانتا ہے۔

کبھی کبھی اللہ کسی کو آپ کی زندگی سے اس لیے نکالتا ہے تاکہ وہ آپ کو کسی بڑے دھوکے، کسی بڑے نقصان، کسی بڑی رسوائی سے بچا سکے۔ وہ آپ کو ان ہاتھوں سے کھینچ لیتا ہے جن کے بارے میں آپ سمجھتے تھے کہ وہ آپ کو سہارا دیں گے، حالانکہ حقیقت میں وہی ہاتھ آپ کو ڈبونے والے تھے۔

اپنے دل کو دلاسہ دیں کہ جو گیا وہ اس لائق ہی نہیں تھا کہ وہ آپ کے نصیب کا حصہ بنے۔

یہ جملہ اپنے دل پر لکھ لیں۔ جو شخص آپ کو بیچ راستے میں چھوڑ گیا، جو آپ کی آنکھوں میں آنسو دے کر اپنی دنیا میں خوش ہو گیا، وہ کبھی آپ کے نصیب کا حصہ تھا ہی نہیں۔ نصیب کا حصہ وہ ہوتا ہے جو دکھ میں سایہ بنے، جو تکلیف میں مرہم بنے، جو آپ کی خاموشی کو بھی سمجھے۔

جو چلا گیا، وہ ایک سبق تھا، منزل نہیں۔ اللہ نے اس کے ذریعے آپ کو یہ سکھایا کہ مخلوق پر حد سے زیادہ بھروسہ نہیں کرنا۔ انسان تو بدل جاتے ہیں، موسموں کی طرح، ضرورتوں کی طرح۔ آج جو آپ کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، کل وہ آپ کے بغیر جینے کا ہنر سیکھ لیتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔

اب جو آئے گا وہ آپ کے دل کے زخموں کا مرہم بن کر آئے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ قرآن کہتا ہے "فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یہ نہیں کہا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے، بلکہ کہا کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی جس وقت آپ ٹوٹ رہے ہوتے ہیں، اسی وقت اللہ آپ کے لیے جوڑنے کا سامان بھی تیار کر رہا ہوتا ہے۔

آپ کا آنے والا وقت آپ کے گزرے ہوئے وقت سے بہتر ہوگا۔ جو شخص آئے گا، وہ آپ سے آپ کا ماضی نہیں پوچھے گا، وہ آپ کے زخموں پر نمک نہیں چھڑکے گا، بلکہ وہ ان زخموں پر ایسی محبت کا مرہم رکھے گا کہ آپ کو اپنا پرانا درد بھی بھول جائے گا۔ اللہ دیر کرتا ہے، اندھیر نہیں کرتا۔ وہ آپ کو بہترین سے نوازنے کے لیے آپ کو بدترین سے نکالتا ہے۔

جب بندہ رشتوں سے مایوس ہو کر سجدے میں گرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ مخلوق کے ہاتھ تو بدل سکتے ہیں، چھوڑ سکتے ہیں اور توڑ سکتے ہیں لیکن خالق کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑتا۔

یہی تو اس جدائی کا سب سے خوبصورت راز ہے۔ ہم انسانوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنے رب سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہم مخلوق سے وہ امیدیں لگا لیتے ہیں جو صرف خالق سے لگانی چاہئیں۔ پھر اللہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے، وہ ہمیں رشتوں کے ذریعے رلاتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف لوٹ آئیں۔

وہ سجدہ جس میں آپ پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے، وہ سجدہ عام سجدہ نہیں تھا۔ وہ سجدہ آپ کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ تھا۔ اس لمحے آسمان پر آپ کے آنسوؤں کی گواہی دی جا رہی تھی۔ فرشتے آپ کے صبر پر رشک کر رہے تھے۔ اللہ عرش سے آپ کو دیکھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ دیکھو میرا بندہ سب سے مایوس ہو کر اب میرے در پر آیا ہے۔

مخلوق کے ہاتھ محدود ہیں۔ وہ تھام بھی لیں تو کب تک؟ وہ ساتھ بھی دیں تو کس حد تک؟ لیکن خالق کا ہاتھ لامحدود ہے۔ جب وہ تھام لیتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو گرا نہیں سکتی۔ دنیا آپ کو چھوڑ دے، کوئی پرواہ نہیں، اگر اللہ آپ کے ساتھ ہے تو آپ سب سے زیادہ امیر ہیں۔

یاد رکھیں، اللہ آپ کو ان لوگوں کے حسد، منافقت یا آنے والے بڑے دھوکے سے بچانے کے لیے خود بیچ میں آ جاتا ہے۔

کبھی آپ نے سوچا کہ وہ شخص جو آپ کو بہت عزیز تھا، اچانک آپ سے دور کیوں ہو گیا؟ اس کی باتوں میں وہ پہلی سی مٹھاس کیوں نہ رہی؟ اس لیے کہ اللہ نے آپ کی دعا سن لی تھی۔ آپ راتوں کو اٹھ کر کہتے تھے نا کہ یا اللہ مجھے برے لوگوں سے بچا، یا اللہ مجھے منافقوں سے دور رکھ۔ تو اللہ نے آپ کی دعا قبول کر لی۔ اس نے ان لوگوں کا اصل چہرہ آپ کو دکھانے سے پہلے ہی انہیں آپ کی زندگی سے نکال دیا۔

وہ آپ کو ان ہاتھوں سے کھینچ لیتا ہے تاکہ آپ کو اس سائے میں رکھے جہاں کوئی آپ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔ اور وہ سایہ اللہ کی محبت اور رحمت کا سایہ ہے۔

آج آپ تنہا بیٹھے ہیں، لوگ آپ پر ہنستے ہوں گے، طعنے دیتے ہوں گے کہ دیکھو اسے چھوڑ دیا گیا۔ لیکن انہیں کیا خبر کہ آپ کو چھوڑا نہیں گیا، آپ کو بچا لیا گیا ہے۔ آپ کو اب اس سائے میں لایا جا رہا ہے جہاں نہ کوئی حسد ہے، نہ کوئی دھوکہ، نہ کوئی مطلب۔ یہ اللہ کی محبت کا سایہ ہے۔ یہ وہ سایہ ہے جس میں حضرت یوسف کو کنویں سے نکال کر تخت تک پہنچایا گیا، جس میں حضرت ایوب کو بیماری سے شفا تک لایا گیا، جس میں حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے سے روشنی تک لایا گیا۔

تو میرے پیارے دوست، رونا ہے تو رو لو، دل ہلکا کر لو، لیکن یہ مت سمجھنا کہ سب ختم ہو گیا۔ ابھی تو سب شروع ہوا ہے۔ یہ آنسو تمہارے گناہوں کو دھو رہے ہیں، یہ جدائی تمہیں اللہ سے جوڑ رہی ہے، یہ تکلیف تمہیں مضبوط بنا رہی ہے۔

ایک دن آئے گا جب تم پیچھے مڑ کر اسی جدائی پر مسکراؤ گے اور کہو گے کہ شکر ہے وہ چلا گیا، ورنہ میں آج اس مقام پر نہ ہوتا جہاں اللہ نے مجھے پہنچا دیا ہے۔

اللہ تمہارے دل کو وہ سکون دے جس کے بعد کوئی بے سکونی نہ رہے۔ آمین۔

دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ

 
Mohammed Masood
About the Author: Mohammed Masood Read More Articles by Mohammed Masood: 67 Articles with 196487 views محمد مسعود اپنی دکھ سوکھ کی کہانی سنا رہا ہے

.. View More