چین کی اسمارٹ کان کنی

چین کی اسمارٹ کان کنی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کان کنی کا کام ہمیشہ سے مشکل اور خطرناک سرگرمیوں میں شمار ہوتا ہے۔ زیرِ زمین محدود جگہ، کم روشنی، پیچیدہ چٹانی ساخت اور اچانک پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کارکنوں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتی ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی نے اس شعبے کی نوعیت بدلنا شروع کر دی ہے۔ اب ایسے کام جن میں انسان کو براہِ راست خطرناک ماحول میں داخل ہونا پڑتا تھا، ان میں روبوٹس اور خودکار مشینیں بتدریج اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظام کان کنی کے مختلف مراحل کو ایک دوسرے سے جوڑ رہے ہیں۔

چین میں اسمارٹ کان کنی اسی تبدیلی کی نمایاں مثال بن رہی ہے۔ زیرِ زمین محدود اور خطرناک مقامات کی نگرانی کے لیے چار ٹانگوں والے روبوٹس استعمال کیے جا رہے ہیں جو رکاوٹ سامنے آنے پر اپنی حرکت خود تبدیل کر سکتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ راستوں پر چلتے ہوئے معائنہ انجام دیتے ہیں۔ ایسے روبوٹس کا مقصد ان جگہوں تک ٹیکنالوجی پہنچانا ہے جہاں انسان کے لیے مسلسل کام کرنا مشکل یا خطرناک ہوتا ہے۔

چین کی کوئلے کی صنعت میں بھی اسمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑے پیمانے پر بڑھ رہا ہے۔ 2025 کے اختتام تک ملک میں ذہین نظام سے لیس کوئلے کی کانوں کی تعداد 1066 تک پہنچ چکی تھی، جبکہ ذہین پیداواری صلاحیت مجموعی کوئلہ پیداواری صلاحیت کے 65 فیصد سے زیادہ ہو گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کان کنی کے روایتی طریقوں سے ڈیجیٹل اور خودکار نظام کی طرف منتقلی اب محدود تجربات کے بجائے وسیع صنعتی عمل بن چکی ہے۔

مصنوعی ذہانت کو بھی کوئلے کی صنعت کے مختلف شعبوں میں تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے۔ پیداوار اور انتظامی امور سے لے کر حفاظتی نگرانی اور مشینری کی دیکھ بھال تک، مصنوعی ذہانت ایسے نظام تیار کرنے میں مدد دے رہی ہے جو بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرکے ممکنہ مسائل کی نشاندہی کر سکیں۔

اسمارٹ کان کنی کی ترقی کے لیے چین نے پالیسی سطح پر بھی طویل مدتی اہداف مقرر کیے ہیں۔ 2024 میں متعلقہ سرکاری اداروں نے ذہین کانوں کی تعمیر اور محفوظ کان کنی کو فروغ دینے کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جن میں 2030 تک ٹیکنالوجی، آلات اور انتظام پر مشتمل ایک جامع اسمارٹ کان کنی نظام قائم کرنے اور کان کنی سے متعلق اعداد و شمار کے زیادہ بہتر انضمام اور وسیع تر اشتراک پر زور دیا گیا۔

اس تبدیلی میں صرف کان کے اندر ہونے والی سرگرمیاں ہی شامل نہیں بلکہ زمین کے اندر موجود معدنی وسائل کی تلاش اور نقشہ سازی بھی مصنوعی ذہانت سے منسلک ہو رہی ہے۔ چین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی معدنی تلاش اور ارضیاتی نقشہ سازی کے نئے نظام متعارف کرائے ہیں۔ ان کا مقصد ارضیاتی سروے کے روایتی طریقہ کار کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانا اور دنیا بھر میں معدنی وسائل کی تلاش کے لیے نئی تکنیکی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔

اسمارٹ کان کنی میں انٹرنیٹ آف تھنگز اور فائیو جی بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کانوں میں مختلف آلات اور نظام ایک دوسرے سے منسلک ہو کر مسلسل معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے سطح پر موجود کنٹرول مراکز زیرِ زمین سرگرمیوں کی صورتحال کو زیادہ واضح انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔ چٹانی تہوں میں تبدیلی اور کوئلے کی تہہ کی موٹائی میں فرق جیسی معلومات جو پہلے آسانی سے نظر نہیں آتی تھیں، اب سہ جہتی ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ اس سے زیرِ زمین کام کی پیش گوئی اور نگرانی زیادہ درست ہو رہی ہے۔

اسی طرح زیرِ زمین کارکنوں کی درست پوزیشن معلوم کرنے والے نظام اور فائیو جی پر مبنی مواصلاتی نیٹ ورک نے کانوں میں تیز رفتار معلوماتی رابطے کو ممکن بنایا ہے۔ کسی حادثے یا ہنگامی صورتحال میں کارکنوں کی موجودگی اور صورتحال سے متعلق معلومات زیادہ تیزی سے حاصل کی جا سکتی ہیں، جس سے حفاظتی انتظامات اور ہنگامی کارروائی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

روبوٹس کا استعمال بھی اسی مقصد کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ کان کنی کے بعض مراحل میں ایسے روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں جو خطرناک مقامات پر کام کر سکتے ہیں یا مخصوص مقامات پر انسانی موجودگی کی ضرورت کم کر سکتے ہیں۔ کوئلے اور فضلے کے پتھر کو الگ کرنے کے لیے بھی بڑے اعداد و شمار پر مبنی شناختی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے روبوٹ خودکار انداز میں مختلف مواد کی شناخت کرکے انہیں الگ کر سکتے ہیں۔ اس سے چھانٹی کا عمل زیادہ تیز اور مؤثر بننے کی توقع ہے۔

اسمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف کان کے اندر تک محدود نہیں۔ تعمیراتی شعبے میں بھی ایسے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں جو مشکل اور انتہائی درستگی کے متقاضی کاموں میں انسانی غلطیوں کو کم کر سکتے ہیں۔ بعض بڑے تعمیراتی منصوبوں میں ریل کے بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف حصوں کی تنصیب کے لیے درست پوزیشن معلوم کرنے والے آلات تیار کیے گئے ہیں، جنہوں نے روایتی دستی طریقہ کار میں پیدا ہونے والی پوزیشننگ کی غلطیوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔

اس پورے عمل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسمارٹ کان کنی کو صرف پیداوار میں اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ محفوظ کام کا ماحول، توانائی کا بہتر استعمال، وسائل کی زیادہ مؤثر کھپت اور کارکنوں کے جسمانی بوجھ میں کمی بھی اس تبدیلی کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں۔ خطرناک کاموں میں روبوٹس اور خودکار آلات کا استعمال انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

تاہم اسمارٹ کان کنی کے مکمل نفاذ کے لیے ابھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ مختلف نظاموں کے درمیان بہتر رابطہ، مرکزی ڈیٹا پلیٹ فارم کا قیام، معلومات کے باہمی اشتراک اور مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر زیادہ مؤثر فیصلوں کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح زمین کے اندر موجود ارضیاتی معلومات کو زیادہ شفاف اور قابلِ استعمال بنانا اور محفوظ و کم توانائی استعمال کرنے والے نظام تیار کرنا بھی آئندہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہوگا۔

اس شعبے کی مزید ترقی کے لیے سرکاری اداروں، کان کنی کمپنیوں، مشینری تیار کرنے والے اداروں، جامعات اور تحقیقی مراکز کے درمیان تعاون کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ کیونکہ اسمارٹ کان کنی صرف ایک روبوٹ یا ایک خودکار مشین کا نام نہیں، بلکہ اعداد و شمار، مصنوعی ذہانت، مواصلاتی نظام، مشینری اور انسانی مہارتوں پر مشتمل ایک مکمل صنعتی نظام ہے۔

چین میں جاری پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کان کنی کا مستقبل روایتی دستی محنت سے بڑھ کر ذہین اور مربوط نظاموں کی طرف جا رہا ہے۔ زیرِ زمین خطرناک ماحول میں روبوٹس کی موجودگی سے لے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے معدنی وسائل کی تلاش تک، ٹیکنالوجی اس صنعت کے تقریباً ہر مرحلے کو تبدیل کر رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہی تبدیلی کان کنی کو زیادہ محفوظ، مؤثر اور جدید بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1972 Articles with 1161468 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More