ایبٹ آباد سے آج تک: 15 سال بعد بھی وہ سوال باقی ہیں جو CIA، ISI اور پاکستان کے تعلقات پر اٹھے تھے


خصوصی فیچر | 2011 کے ایبٹ آباد آپریشن سے 2026 کے سکیورٹی منظرنامے تک

مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن صرف ایک مطلوب شخص کی ہلاکت کا واقعہ نہیں تھا۔ اس نے پاکستان کے ریاستی نظام، انٹیلی جنس اداروں، امریکہ کے ساتھ تعلقات اور افغانستان کی جنگ کے پورے ڈھانچے پر ایسے سوالات اٹھائے جو 15 سال گزرنے کے باوجود مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔اس وقت سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے ایک اہم فوجی شہر میں کئی برس تک کیسے موجود رہا۔

آج، 2026 میں، سوال کچھ بدل چکا ہے۔اب سوال صرف یہ نہیں کہ بن لادن کو کون چھپا رہا تھا؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس تعاون اور بداعتمادی کا وہ ماڈل، جو 2011 میں اپنی انتہا پر پہنچا تھا، آج کہاں کھڑا ہے؟2 مئی 2011 کو امریکی فورسز نے ایبٹ آباد میں کارروائی کرکے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا۔ امریکی حکام نے آپریشن پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر کیا۔CIA کے مطابق یہ آپریشن برسوں پر محیط انٹیلی جنس کوشش کا نتیجہ تھا۔ امریکی انٹیلی جنس نے بالآخر بن لادن کے ایک قابلِ اعتماد کورئیر کو ٹریک کیا، جس سے ایبٹ آباد کے کمپاو¿نڈ تک رسائی ممکن ہوئی۔

پاکستان کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ امریکہ نے اس کی سرزمین پر یکطرفہ کارروائی کی۔اصل شرمندگی یہ تھی کہ دنیا کا مطلوب ترین شخص ایک ایسے شہر میں موجود تھا جسے پاکستان کے سکیورٹی ڈھانچے سے بالکل الگ سمجھنا مشکل تھا۔بعد میں ایبٹ آباد کمیشن نے بھی ریاستی اداروں کی ناکامیوں اور بن لادن کے طویل عرصے تک پاکستان میں موجود رہنے کے سوالات کا جائزہ لیا۔ایبٹ آباد آپریشن کے فوراً بعد پاکستانی میڈیا میں اسلام آباد میں CIA کے مبینہ اسٹیشن چیف کی شناخت سامنے آنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔یہ محض ایک نام شائع ہونے کی خبر نہیں تھی۔

انٹیلی جنس کی دنیا میں کسی خفیہ اہلکار کی شناخت ظاہر ہونا ایک حساس کارروائی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ایسے اہلکار عام طور پر سفارتی یا دوسرے پردوں کے پیچھے کام کرتے ہیں۔2011 میں یہ واقعہ اس لیے بھی اہم تھا کہ چند ماہ کے اندر اسلام آباد میں CIA کے اعلیٰ اہلکار کی مبینہ شناخت دوسری مرتبہ میڈیا میں سامنے آئی۔ بعد میں سامنے آنے والی رپورٹنگ میں یہ بھی واضح ہوا کہ میڈیا میں شائع ہونے والا نام درست نہیں تھا۔یعنی یہاں دو الگ سوال پیدا ہوتے ہیں:نام کس نے فراہم کیا؟ اور اسے میڈیا تک پہنچانے کا مقصد کیا تھا؟ ان سوالات کے جواب میں ا±س وقت مختلف قیاس آرائیاں ہوئیں، لیکن اسے براہ راست پاکستانی ریاست یا ISI کی ثابت شدہ کارروائی قرار دینا صحافتی طور پر درست نہیں ہوگا۔

2026 میں اس واقعے کو دیکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہم اسے صرف 2011 کے سیاسی بحران کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کی انٹیلی جنس تاریخ کے ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔اسامہ بن لادن ختم ہوگیا، لیکن القاعدہ ختم نہیں ہوئی۔ حالیہ تجزیوں کے مطابق القاعدہ نے مرکزی تنظیم کے بجائے زیادہ غیرمرکزی نیٹ ورک اور علاقائی وابستگیوں کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ اس کے اہم رہنما مارے گئے، لیکن تنظیم کے نظریاتی اور علاقائی نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 2011 کا سوال ‘ "ہم نے بن لادن کو کیسے نہیں دیکھا؟" آج تبدیل ہو کر یہ بن گیا ہے: "ہم بدلتے ہوئے عسکریت پسند نیٹ ورکس، سرحد پار رابطوں اور نئی انٹیلی جنس سرگرمیوں کو کس حد تک دیکھ پا رہے ہیں؟"

افغانستان کا عنصر آج بھی موجود ہے ایبٹ آباد کو افغانستان سے الگ کرکے سمجھنا مشکل ہے۔ 1979 سے شروع ہونے والی افغان جنگ نے پاکستان، امریکہ، افغانستان اور مختلف افغان و غیر افغان عسکری گروہوں کے درمیان ایسے تعلقات پیدا کیے جن کے اثرات کئی دہائیوں تک جاری رہے۔القاعدہ بھی اسی ماحول سے ابھری۔ 2026 کی تازہ تجزیاتی رپورٹنگ کے مطابق تنظیم اب بھی عالمی جہادی منظرنامے میں موجود ہے، اگرچہ بن لادن کے دور کی نسبت اس کی مرکزی حیثیت کم ہوچکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے لیے افغانستان صرف ایک خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ بارڈر سکیورٹی، انٹیلی جنس، عسکریت پسندی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
ایبٹ آباد آپریشن کے بعد دونوں اداروں کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچا۔امریکی نقطہ نظر سے سوال تھا کہ اگر پاکستان کے اندر بن لادن موجود تھا تو اسے پاکستانی اداروں نے کیوں نہیں پکڑا۔پاکستانی نقطہ نظر سے سوال تھا کہ امریکہ نے ایک خودمختار ملک میں اس کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی کیوں کی۔یہ بنیادی تضاد آج بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سمجھنے میں اہم ہے۔ایک طرف پاکستان امریکی انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی تعاون میں اہم کردار ادا کرتا رہا، دوسری طرف واشنگٹن کو پاکستانی سکیورٹی پالیسی کے بعض پہلوو¿ں پر طویل عرصے سے تحفظات رہے ہیں۔

اسی لیے CIA اور پاکستان کا تعلق کبھی مکمل دشمنی اور کبھی مکمل شراکت داری کی سادہ کہانی نہیں رہا۔یہ ضرورت، تعاون، شک اور مفاد کا پیچیدہ امتزاج رہا ہے۔ایک اور اہم سبق: انٹیلی جنس کی ناکامی صرف "غلط معلومات" نہیں ہوتی ایبٹ آباد واقعے کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ انٹیلی جنس ناکامی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی ادارے کے پاس معلومات موجود نہیں تھیں۔کبھی معلومات مختلف اداروں کے پاس موجود ہوتی ہیں، مگر ان کا باہمی تبادلہ نہیں ہوتا۔کبھی کسی اطلاع کی اہمیت کو کم سمجھا جاتا ہے۔کبھی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان معلومات کے استعمال میں رکاوٹ بنتا ہے۔اور کبھی ایک ادارہ وہ معلومات حاصل کر لیتا ہے جو دوسرے ادارے کے پاس نہیں ہوتیں۔ایبٹ آباد آپریشن اسی پیچیدگی کی ایک بڑی مثال ہے۔

کیا ISI نے CIA کو معلومات دی تھیں؟ اس سوال کا جواب بھی سادہ "ہاں" یا "نہیں" میں دینا درست نہیں۔ بعد کی رپورٹنگ میں پاکستانی حکام کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ ISI اور CIA کے درمیان بن لادن کے بارے میں معلومات کا تبادلہ ہوا تھا۔ 2019 میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی اس سوال پر مکمل تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے معاملہ ISI کے تبصرے سے مشروط کیا تھا۔اس لیے 2011 کی پوری کہانی کو اس دعوے تک محدود کرنا کہ "پاکستان کو سب کچھ معلوم تھا" یا اس کے برعکس "پاکستان کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا"، دستیاب شواہد سے زیادہ بڑا دعویٰ ہوگا۔

اصل سوال آج بھی یہی ہے ایبٹ آباد کمیشن، امریکی انٹیلی جنس ریکارڈ، بن لادن کمپاو¿نڈ سے ملنے والی دستاویزات اور بعد کی تحقیقات نے اس واقعے کے کئی حصے واضح کیے ہیں۔لیکن کچھ بنیادی سوالات اب بھی بحث کا حصہ ہیں کیا بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کسی پاکستانی ادارے کے اندر محدود سطح پر معلومات تھیں؟ اگر تھیں تو وہ اوپر تک کیوں نہیں پہنچیں؟ اگر نہیں تھیں تو اتنے بڑے انٹیلی جنس خلا کی وجہ کیا تھی؟ CIA نے پاکستان کو آپریشن سے پہلے اطلاع کیوں نہیں دی؟ اور دونوں ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کے درمیان اعتماد اس حد تک کیسے پہنچا کہ ایک ملک نے دوسرے کو اپنی فوجی کارروائی سے آگاہ کرنا بھی محفوظ نہیں سمجھا؟

یہ سوالات 2011 تک محدود نہیں ہیں۔2026 میں ایبٹ آباد کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت کیوں ہے؟آج کی دنیا میں دہشت گرد تنظیمیں پہلے کی طرح ایک مرکزی قیادت اور ایک ہی جغرافیائی مرکز تک محدود نہیں رہیں۔القاعدہ کی موجودگی زیادہ منتشر شکل اختیار کرچکی ہے۔ مختلف خطوں میں اس سے وابستہ گروہ اپنے مقامی حالات کے مطابق کام کرتے ہیں اس لیے مستقبل کی انٹیلی جنس جنگ صرف یہ معلوم کرنے کی جنگ نہیں کہ "دہشت گرد کہاں ہے؟"

یہ معلوم کرنے کی جنگ ہے کہ وہ کس نیٹ ورک سے جڑا ہے؟ کس ذریعے سے پیسہ حاصل کرتا ہے؟ کس سرحد سے نقل و حرکت کرتا ہے؟کس ڈیجیٹل نیٹ ورک سے رابطہ کرتا ہے؟اور سب سے بڑھ کر مختلف انٹیلی جنس ادارے ایک دوسرے پر کتنا اعتماد کرتے ہیں؟ 15 سال بعد اسامہ بن لادن تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن ایبٹ آباد کا واقعہ تاریخ کا بند باب نہیں۔ یہ پاکستان کے لیے ریاستی جوابدہی، انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن اور خودمختاری کا سوال ہے۔ امریکہ کے لیے یہ انٹیلی جنس، یکطرفہ کارروائی اور اتحادی ملک پر اعتماد کا سوال ہے۔

افغانستان کے لیے یہ چار دہائیوں سے جاری جنگ کے اثرات کا حصہ ہے۔اور خطے کے لیے یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ایک ملک میں پیدا ہونے والی عسکریت پسندی اور انٹیلی جنس کی ناکامی کی قیمت اکثر سرحدوں سے کہیں آگے تک جاتی ہے۔2011 میں سوال تھا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں کیسے چھپا رہا۔2026 میں بڑا سوال یہ ہے کہ اگلا خطرہ کہاں پیدا ہو رہا ہے، کون اسے دیکھ رہا ہے، کون نہیں دیکھ رہا، اور مختلف ریاستی ادارے ایک دوسرے کو کیا بتا رہے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایبٹ آباد کی کہانی ماضی کی خبر سے نکل کر آج کی قومی سلامتی کی بحث بن جاتی ہے۔

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1058 Articles with 814602 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More