چین میں طیارہ سازی کا بڑھتا ہوا سفر
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں طیارہ سازی کا بڑھتا ہوا سفر تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ
کسی بڑے مسافر طیارے کو فضاؤں میں بلند ہوتے دیکھنا بظاہر ایک معمول کا منظر محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک وسیع صنعتی نظام، جدید ٹیکنالوجی، مہارت رکھنے والے کارکنوں اور دنیا کے مختلف حصوں سے جڑی ہوئی سپلائی چین کا کردار ہوتا ہے۔ چین میں شہری ہوا بازی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات نے طیارہ سازی کے شعبے کو بھی نئی وسعت دی ہے، جہاں اب صرف تیار طیاروں کی خریداری ہی نہیں بلکہ ان کی تیاری، اسمبلنگ، دیکھ بھال اور متعلقہ صنعتی تعاون بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
چین کے شمالی ساحلی شہر تھیان جن میں ایئربس نے اے 320 فیملی کے طیاروں کی نئی فائنل اسمبلی لائن سے تیار ہونے والے پہلے طیارے کی حوالگی مکمل کر لی ہے۔ یہ چین اور ایشیا میں اس نوعیت کی دوسری اسمبلی لائن ہے۔ نئی سہولت کا فعال ہونا چین میں ایئربس کی صنعتی موجودگی میں توسیع کے ساتھ ساتھ کمپنی کے عالمی پیداواری نظام میں بھی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
نئی اسمبلی لائن سے تیار ہونے والا اے 320 نیو طیارہ چائنا ایسٹرن ایئرلائنز کے بیڑے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس ایئرلائن اور ایئربس کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تعاون موجود ہے، جو وقت کے ساتھ طیاروں کی خریداری سے آگے بڑھ کر آپریشنل معاونت، دیکھ بھال، انجینئرنگ اور تکنیکی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ یہ طویل مدتی تعاون اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی شہری ہوا بازی کی صنعت میں عالمی طیارہ ساز اداروں کے ساتھ شراکت داری کس طرح مسلسل وسیع ہو رہی ہے۔
چین دنیا میں فضائی سفر کرنے والی بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے، جس کے باعث یہاں مسافر طیاروں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب نے طیارہ ساز کمپنیوں کو نہ صرف مقامی مارکیٹ پر توجہ دینے بلکہ چین میں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی جانب بھی متوجہ کیا ہے۔ ایئربس کے مطابق چین میں دوسری حتمی اسمبلی لائن عالمی سطح پر اے 320 فیملی کے طیاروں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس سے بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے اضافی صلاحیت اور لچک حاصل ہوگی۔
چین میں ایئربس کی طیارہ سازی کی بنیاد کئی برس پہلے رکھی گئی تھی۔ تھیان جن میں قائم پہلی فائنل اسمبلی لائن یورپ سے باہر کمپنی کی پہلی تجارتی طیارہ اسمبلی لائن تھی۔ اس سہولت نے گزشتہ برسوں میں بڑی تعداد میں اے 320 طیارے تیار کرکے مختلف ایئرلائنز کے حوالے کیے ہیں۔ چینی ایئرلائنز کے بیڑے میں ایئربس کے ہزاروں طیارے شامل ہیں اور ان میں ایک نمایاں حصہ چین میں تیار کیا گیا ہے۔
چین میں طیارہ سازی کی سرگرمی صرف اسمبلی لائن تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ایک وسیع صنعتی نیٹ ورک بھی تشکیل پا چکا ہے، جس میں چھوٹے پرزوں سے لے کر طیارے کے بڑے حصوں تک مختلف مصنوعات تیار کرنے والے مقامی ادارے شامل ہیں۔ بریکٹس، نشستوں اور مختلف جوڑوں جیسے چھوٹے اجزا کے علاوہ طیارے کے باڈی کے حصے، پروں، پچھلے حصے اور کیبن کے دروازوں جیسے بڑے اجزا کی تیاری میں بھی چینی سپلائرز کا کردار بڑھ رہا ہے۔
اس صنعتی تعاون نے ہوا بازی کے شعبے کے گرد ایک وسیع صنعتی ماحول تشکیل دینے میں مدد دی ہے۔ تھیان جن کے آزاد تجارتی علاقے میں ہوا بازی سے وابستہ متعدد ادارے ایک دوسرے کے قریب کام کر رہے ہیں، جن میں کئی کمپنیوں کا براہ راست تعلق ایئربس کے ساتھ ہے۔ اس طرح طیارہ سازی ایک واحد فیکٹری کی سرگرمی کے بجائے ایسے صنعتی نظام میں تبدیل ہو رہی ہے جس میں مختلف سطحوں پر کام کرنے والے ادارے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
چین کی صنعتی صلاحیت اور مضبوط سپلائی چین نے بھی اس عمل کو تقویت دی ہے۔ عالمی طیارہ سازی ایک پیچیدہ شعبہ ہے جس میں مختلف ممالک اور خطوں سے آنے والے اجزا، جدید پیداواری ٹیکنالوجی اور سخت معیار کے تقاضے شامل ہوتے ہیں۔ ایسے میں مقامی سپلائرز کی تعداد میں اضافہ پیداوار کے تسلسل اور ترسیل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
چینی حکام کی جانب سے بھی اس صنعتی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ چین میں پہلے سے موجود بڑے صنعتی منصوبوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صنعتی اور سپلائی چین کے مختلف مراحل کو زیادہ مربوط بنایا جائے۔ اس کے ساتھ طیاروں کے بڑے حصوں سمیت مزید مصنوعات کی مقامی تیاری اور فراہمی میں اضافہ کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
ایئربس کے لیے چین کی اہمیت صرف ایک بڑی مارکیٹ تک محدود نہیں رہی۔ کمپنی کے مطابق چین میں اس نے مکمل صنعتی نظام قائم کیا ہے جو پوری صنعتی چین کے مختلف مراحل کا احاطہ کرتا ہے۔ مقامی سپلائی چین اور صنعتی ماحول کی مضبوطی نے چین میں تیار ہونے والے طیاروں کو عالمی ہوا بازی کی ضروریات سے بھی جوڑ دیا ہے۔ اس طرح چین میں موجود پیداواری صلاحیت مقامی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر طیاروں کی فراہمی میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔
چین اور ایئربس کے درمیان صنعتی تعاون کا حجم بھی وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔ طیارہ سازی کے علاوہ پرزوں کی تیاری، تکنیکی خدمات اور دیگر صنعتی سرگرمیوں نے دونوں جانب کے تعلقات کو ایک وسیع صنعتی شراکت داری میں تبدیل کیا ہے۔ اس تعاون میں چینی اداروں کی شمولیت بڑھنے سے مقامی صنعت کے لیے نئی مہارتیں، ٹیکنالوجی اور عالمی سپلائی چین سے جڑنے کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔
آنے والے برسوں میں چین میں نئے مسافر طیاروں کی طلب میں نمایاں گنجائش موجود رہنے کی توقع ہے۔ عالمی سطح پر ہوا بازی کی صنعت کے لیے چین کی مارکیٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں فضائی سفر کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور ایئرلائنز اپنے بیڑے کو جدید بنانے پر توجہ دے رہی ہیں۔ اس صورتحال میں مقامی اسمبلی اور صنعتی تعاون کی صلاحیت عالمی طیارہ ساز کمپنیوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
چین میں نئی اسمبلی لائن سے پہلے طیارے کی حوالگی اسی وسیع تبدیلی کی ایک علامت ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جدید طیارہ سازی میں چین کا کردار صرف ایک خریدار یا بڑی مارکیٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک عالمی صنعتی چین کے مختلف مراحل میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ مقامی سپلائرز، جدید پیداواری سہولتوں اور عالمی کمپنیوں کے تعاون سے تشکیل پانے والا یہ صنعتی ماحول مستقبل میں چین کی شہری ہوا بازی اور عالمی طیارہ سازی دونوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ |
|