جمہوریت کی مضبوطی میں پلڈاٹ کا 24 سالہ کردار
(Hafiz Mohammad Siddique Madani, Chaman)
تحریر حافظ محمد صدیق مدنی سابق ممبر یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی صرف انتخابات کے انعقاد تک محدود نہیں۔ ایک مستحکم جمہوری معاشرے کے لیے مضبوط پارلیمانی ادارے، آئین و قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی، مؤثر قانون سازی، سیاسی مکالمہ، شہری شرکت اور ایسی نوجوان قیادت ضروری ہے جو جمہوری اقدار اور پارلیمانی طریقۂ کار سے واقف ہو۔ اسی وسیع تر تناظر میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (PILDAT) کی 2002ء سے جاری خدمات کو دیکھا جائے تو گزشتہ 24 برس کا سفر پاکستان میں جمہوری شعور اور پارلیمانی تربیت کے حوالے سے ایک اہم ادارہ جاتی کاوش کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پلڈاٹ ایک آزاد، غیر جماعتی اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک کے طور پر پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے تحقیق، پالیسی تجزیے، شہری شمولیت، پارلیمانی تربیت اور مکالمے کے مختلف پروگرام چلاتا ہے۔ ادارہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی، انتخابی عمل، گورننس، جمہوری اداروں اور پالیسی معاملات پر باقاعدگی سے تحقیق اور تجزیہ شائع کرتا ہے۔ پلڈاٹ خود بھی اپنی سرگرمیوں کو پاکستان میں جمہوریت کو زیادہ جواب دہ، جامع اور مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیتا ہے۔ 2002ء میں اپنے قیام سے لے کر 2026ء تک پلڈاٹ نے پاکستان کے جمہوری سفر کے مختلف ادوار میں پارلیمانی اور سیاسی معاملات پر بحث کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جمہوری اداروں کی کارکردگی پر بامعنی گفتگو کے لیے صرف سیاسی وابستگی کافی نہیں ہوتی بلکہ مستند معلومات، تحقیق، اعداد و شمار، آئینی شعور اور اداروں کے طریقۂ کار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پلڈاٹ نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں، سیاسی کارکنوں، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ طبقات کے لیے تربیتی اور مکالماتی مواقع پیدا کیے۔ پلڈاٹ کی خدمات کا ایک نمایاں پہلو اس کی پارلیمانی تحقیق اور جمہوری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ ہے۔ ادارہ مختلف اوقات میں پارلیمان، سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں، قومی سلامتی کے ادارہ جاتی کردار، انتخابی عمل اور جمہوریت کے معیار سے متعلق رپورٹس شائع کرتا رہا ہے۔ 2025ء کی جمہوریت کی کیفیت سے متعلق رپورٹ بھی اسی سلسلے کی ایک مثال ہے، جس میں ادارے نے سال بھر کی سیاسی و ادارہ جاتی پیش رفت کا جائزہ لے کر جمہوری حکمرانی پر بامعنی مکالمے اور اصلاحات میں حصہ ڈالنے کا مقصد بیان کیا۔ یہی وہ کام ہے جو جمہوریت کو محض ایک سیاسی نعرے کے بجائے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی عمل کے طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے پارلیمنٹ شاید صرف ایوان، اجلاس، تقاریر اور قانون سازی کا نام ہو، لیکن حقیقت میں پارلیمانی نظام میں قانون سازی، قائمہ کمیٹیاں، سوالات، قراردادیں، بجٹ، نگرانی، پالیسی سازی، حکومتی جواب دہی اور اپوزیشن کا کردار جیسے متعدد پہلو شامل ہوتے ہیں۔ ان معاملات کو عام فہم انداز میں سمجھانا اور نوجوانوں کو ان کا عملی تجربہ فراہم کرنا پلڈاٹ کے اہم کاموں میں شامل رہا ہے۔ پلڈاٹ کی خدمات کا سب سے خوبصورت اور مستقبل ساز پہلو یوتھ پارلیمنٹ پاکستان ہے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے اور کسی بھی جمہوری معاشرے میں نوجوانوں کی سیاسی و شہری تربیت مستقبل کی قیادت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پلڈاٹ نے اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یوتھ پارلیمنٹ کے ذریعے نوجوانوں کو جمہوری مکالمے، پارلیمانی طریقۂ کار، پالیسی مباحث اور قیادت کی تربیت کے مواقع فراہم کیے۔ پلڈاٹ کے مطابق یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کا آغاز 2005ء میں ہوا اور اس کے مختلف کوہارٹس کے ذریعے 2,000 سے زائد نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی ہوچکی ہے۔ یوتھ پارلیمنٹ کا 18واں کوہارٹ بھی اسی طویل سفر کی ایک اہم کڑی تھا۔ اس کا آغاز 2023ء میں ہوا اور ملک بھر سے نوجوانوں کو اس میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا۔ پلڈاٹ کے مطابق 18ویں یوتھ پارلیمنٹ میں قومی اسمبلی کے تمام حلقوں سمیت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے لیے بھی نمائندگی رکھی گئی۔ میں بلوچستان سے حلقہ این اے 266 قلعہ عبداللہ کم چمن سے شریک رہا ہوں ۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو تکنیکی، ابلاغی اور قیادتی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ قومی، علاقائی اور عالمی معاملات کو بہتر طور پر سمجھنے کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ 18ویں یوتھ پارلیمنٹ میں نوجوانوں کو صرف تقریری سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ پارلیمانی طرز کے اجلاس، قائمہ کمیٹیاں، انتخابات، پالیسی ڈائیلاگ اور قومی مسائل پر بحث کا عملی ماحول فراہم کیا گیا۔ اپریل 2024ء میں اس کی 14 قائمہ کمیٹیوں کے عہدیداران کا انتخاب آن لائن ووٹنگ کے ذریعے ہوا، جس سے نوجوان شرکاء کو پارلیمانی کمیٹی کے نظام اور اندرونی جمہوری عمل کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔ اسی طرح 18ویں یوتھ پارلیمنٹ کے مختلف اجلاسوں میں امن، برداشت، مذہبی ہم آہنگی، نوجوانوں کی سیاسی شمولیت، انتہاپسندی، ڈیجیٹل شہری شعور، موسمیاتی تبدیلی، شہری تعلیم اور پالیسی سازی جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ جنوری 2025ء میں کراچی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ملک کے مختلف علاقوں سے نوجوان شریک ہوئے اور بین المذاہب ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق، نوجوانوں کی شمولیت اور تشدد کے رجحانات جیسے معاملات پر پارلیمانی طرز کا مکالمہ ہوا۔ مئی 2025ء میں 18ویں یوتھ پارلیمنٹ کا آخری اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں نوجوانوں کی قیادت، شہری شرکت، امن اور انتہاپسندی کے تدارک سمیت مختلف موضوعات زیر بحث آئے۔ اس طرح 18واں کوہارٹ بھی اپنے ایک سالہ تربیتی اور پارلیمانی سفر کی تکمیل تک پہنچا۔ پلڈاٹ کے 24 سالہ سفر کا ایک اور اہم پہلو ینگ پولیٹیشنز فیلوشپ پروگرام ہے۔ یہ پروگرام خاص طور پر نوجوان سیاسی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ نوجوانوں کی تربیت اور قیادت سازی کے لیے تشکیل دیا گیا۔ پلڈاٹ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ینگ پولیٹیشنز فیلوشپ پروگرام کے دوسرے کوہارٹ میں قومی اسمبلی یا چاروں صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 27 نوجوان سیاسی کارکنوں کا انتخاب کیا گیا۔ اس پروگرام میں سیاسی چیلنجز، پالیسی اصلاحات، قیادت سازی، علمی تربیت اور پالیسی و عملی ماہرین سے رابطے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ یہاں میرے لیے پلڈاٹ کا ذکر محض ایک مبصر یا قاری کے طور پر نہیں بلکہ ایک شرکاء اور مستفید ہونے والے شخص کے طور پر بھی اہم ہے۔ مجھے پلڈاٹ کے ینگ پولیٹیشنز فیلوشپ پروگرام کے سیکنڈ کوہارٹ اور یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے 18ویں سیشن میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ دونوں تجربات میرے لیے محض کسی پروگرام میں شرکت نہیں بلکہ میری فکری، سیاسی اور پارلیمانی تربیت کے حوالے سے نہایت اہم مراحل تھے۔ میری سیاسی زندگی میں تقریباً پندرہ سال کا عملی سفر ہے اور اس سے پہلے میری اٹھارہ سالہ تعلیمی زندگی بھی رہی ہے۔ لیکن پلڈاٹ کے ان دونوں پروگراموں میں شرکت کے دوران مجھے پارلیمانی نظام، جمہوریت، قانون سازی، سیاسی اداروں، پالیسی سازی، پارلیمانی کمیٹیوں، سیاسی مکالمے اور ملکی سیاست کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں جو عملاً تربیت، معلومات اور مشاہدہ حاصل ہوا وہ میرے اٹھارہ سالہ تعلیمی سفر اور تقریباً پندرہ سالہ سیاسی جدوجہد کے دوران حاصل نہیں ہوسکا تھا۔ یہ بات کسی رسمی تعریف کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذاتی تجربے کے طور پر عرض کر رہا ہوں۔ تعلیم نے مجھے کتاب، نظریہ اور علمی بنیاد فراہم کی جبکہ سیاسی جدوجہد نے مجھے زمینی سیاست، کارکنوں، عوامی مسائل اور سیاسی عمل سے متعارف کرایا لیکن پلڈاٹ نے ان دونوں تجربات کے درمیان ایک ایسا پل فراہم کیا جہاں نظریہ، عملی سیاست، پارلیمانی طریقۂ کار اور جمہوری اداروں کی سمجھ ایک ساتھ سامنے آئی۔ یوتھ پارلیمنٹ میں شرکت کے دوران پارلیمانی اجلاس کا ماحول، مختلف موضوعات پر بحث، قائمہ کمیٹیوں کا تصور، قراردادیں، عہدیداروں کا انتخاب اور پالیسی معاملات پر مکالمہ اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جمہوری ادارے کس طرح کام کرتے ہیں۔ اسی طرح ینگ پولیٹیشنز فیلوشپ نے سیاسی کارکن کی حیثیت سے یہ سمجھنے کا موقع دیا کہ سیاست صرف جلسے، تنظیمی سرگرمی یا انتخابی عمل کا نام نہیں بلکہ پالیسی، تحقیق، ادارہ جاتی فہم، دلیل، مکالمہ اور مسلسل سیکھنے کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ میرے لیے پلڈاٹ کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس نے نوجوانوں کو صرف یہ نہیں بتایا کہ جمہوریت کیا ہے بلکہ مختلف پروگراموں کے ذریعے انہیں جمہوریت کو عملی طور پر سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ یہی فرق کتابی علم اور عملی تربیت میں ہوتا ہے۔ جب ایک نوجوان خود پارلیمانی انداز میں اجلاس میں بیٹھتا ہے، بحث کرتا ہے، سوال کرتا ہے، کمیٹی میں کام کرتا ہے، مختلف سیاسی و فکری پس منظر رکھنے والے لوگوں کی آرا سنتا ہے اور پھر اپنی رائے دلیل کے ساتھ پیش کرتا ہے تو اس کی سیاسی اور جمہوری تربیت ایک مختلف سطح پر پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پلڈاٹ کا یوتھ پارلیمنٹ پروگرام صرف نوجوانوں کے لیے ایک سرگرمی نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت کی تربیت کا ایک ذریعہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ پلڈاٹ کے مطابق گزشتہ یوتھ پارلیمنٹس کے بہت سے سابق ارکان بعد میں سیاست، گورننس، سول سروس، اکیڈمیا اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی اختلاف اکثر ذاتی یا جماعتی کشمکش کی شکل اختیار کرلیتا ہے اس لیے ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جہاں مختلف سیاسی پس منظر رکھنے والے نوجوان ایک ہی میز پر بیٹھ کر قومی مسائل پر گفتگو کرسکیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے جمہوری عمل کا حصہ سمجھنا، مخالف نقطۂ نظر کو سننا، دلیل سے جواب دینا اور قومی مفاد سے متعلق معاملات پر پالیسی کی زبان میں گفتگو کرنا ایک ایسی سیاسی تربیت ہے جس کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔ پلڈاٹ نے نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل دور کی ضروریات کو بھی اپنے پروگراموں میں شامل کیا ہے۔ 18ویں یوتھ پارلیمنٹ کے سلسلے میں ڈیجیٹل شہریت، ڈیجیٹل خواندگی، آن لائن غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد کے مقابلے جیسے موضوعات بھی سامنے آئے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ نوجوانوں کی جمہوری تربیت اب صرف روایتی سیاسی اور پارلیمانی معلومات تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ دار شہری کردار بھی اس کا حصہ بن چکا ہے۔ پلڈاٹ کی خدمات کا دائرہ صرف نوجوانوں تک محدود نہیں۔ پارلیمانی کارکردگی، انتخابی عمل، گورننس، قانون سازی، سیاسی جماعتوں، جمہوری اداروں اور قومی پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر اس کی تحقیق اور مباحث نے پاکستان کے جمہوری ڈسکورس میں ایک مستقل جگہ بنائی ہے۔ اس کی سرگرمیوں میں پارلیمانی کارکردگی کے جائزے سے لے کر انتخابی امور، سیاسی جماعتوں کی شمولیت، گورننس اور شہری شرکت تک مختلف موضوعات شامل رہے ہیں۔ یقیناً پاکستان کا جمہوری سفر مختلف چیلنجز سے گزرتا رہا ہے اور آج بھی جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، پارلیمانی نگرانی بہتر کرنے، سیاسی مکالمے کو فروغ دینے اور نوجوانوں کی مؤثر شرکت یقینی بنانے کے حوالے سے بہت سا کام باقی ہے۔ پلڈاٹ کی اپنی حالیہ رپورٹس اور سرگرمیاں بھی ان موضوعات پر مسلسل بحث اور اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پلڈاٹ کے 24 سال مکمل ہونا محض ایک ادارے کی سالگرہ نہیں بلکہ پاکستان میں جمہوری شعور، پارلیمانی تربیت اور شہری شرکت کے ایک مسلسل سفر کی یاد دہانی بھی ہے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک ادارے کا جمہوری اداروں، پارلیمانی نظام، گورننس، تحقیق اور نوجوانوں کی تربیت کے شعبوں میں مسلسل کام کرنا ایک قابلِ ذکر ادارہ جاتی تجربہ ہے۔ میرے ذاتی تجربے میں پلڈاٹ کی سب سے قیمتی خدمت یہی ہے کہ اس نے میرے جیسے سیاسی کارکن کو سیاست کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا۔ 18 سالہ تعلیمی سفر اور 15 سالہ سیاسی جدوجہد نے جو کچھ سکھایا اس کے ساتھ پلڈاٹ کی عملی پارلیمانی اور جمہوری تربیت نے میرے علم اور تجربے میں ایک ایسا اضافہ کیا جسے میں اپنی سیاسی و فکری زندگی کا اہم سرمایہ سمجھتا ہوں۔ آج جب پلڈاٹ 24 برس مکمل کر رہا ہے تو اس ادارے سے وابستہ تمام افراد، منتظمین، محققین، تربیت کاروں، پارلیمانی ماہرین اور بالخصوص ان ہزاروں نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس کے مختلف پروگراموں کا حصہ رہے ہیں۔ ینگ پولیٹیشنز فیلوشپ کے کوہارٹس سے لے کر یوتھ پارلیمنٹ کے 18 سیشنز تک یہ سفر اس بات کی ایک مثال ہے کہ نوجوانوں کو اگر علم، تربیت، مکالمے اور عملی تجربے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ قومی زندگی میں زیادہ باخبر اور فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پلڈاٹ کے 24 سالہ سفر کے لیے نیک تمنائیں۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، پارلیمانی شعور کے فروغ، سیاسی مکالمے اور نوجوان قیادت کی تربیت کے لیے اس نوعیت کی ادارہ جاتی کاوشوں کی ضرورت آئندہ بھی برقرار رہے گی۔ پلڈاٹ کی خدمات یقیناً قابلِ ذکر، قابلِ قدر اور قابلِ ستائش ہیں، اور میرے لیے اس ادارے کی سب سے بڑی یادگار یہ ہے کہ میں اس کے ینگ پولیٹیشنز فیلوشپ کے دوسرے کوہارٹ اور یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے 18ویں سیشن کا حصہ رہا ہوں۔ |
|