|
’’مٹی‘‘: یادوں کی خوشبو، تہذیب کا نوحہ اور انسان کی تلاش - ایک ایسی کتاب جو ماضی کو یاد نہیں کرتی، اسے زندہ کرتی ہے! تحریر: ڈاکٹر افضل رضویؔ-آسٹریلیا بعض کتابیں معلومات فراہم کرتی ہیں، بعض واقعات سناتی ہیں، بعض شخصیات کا تعارف کراتی ہیں، بعض فلسفہ اور منظق کو منصہ شہود پر لاتی ہیں؛لیکن کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو قاری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ محسوس کرنے، یاد کرنے اور اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ’’مٹی‘‘ اسی نوع کی کتاب ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنے گاؤں، اپنے خاندان، اپنے بزرگوں، اپنے بچپن، اپنی تہذیبی اقدار اور بدلتے ہوئے معاشرے کی یادوں کو محض محفوظ نہیں کیا بلکہ ایک ایسی دنیا کو لفظوں میں دوبارہ آباد کرنے کی کوشش کی ہے جو وقت کے ساتھ تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ ’’مٹی‘‘ کا بنیادی حوالہ ایک گاؤں ہے، مگر اس کا دائرہ ایک گاؤں سے کہیں وسیع ہے۔ یہ ایک فرد کی یادداشت سے شروع ہوکر خاندان، معاشرے، تہذیب، مذہب، تعلیم، ماحول، ہجرت اور شناخت تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کو صرف خودنوشت یا یادداشت کہنا اس کی معنوی وسعت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ بیک وقت یادداشت، مقامی تاریخ، سماجی دستاویز اور ایک گزرتے ہوئے عہد کی تہذیبی رودادہے۔ ’’مٹی:ایک گائوں۔۔۔ایک مٹی۔۔۔سینکڑوں کہانیاں‘‘کے عنوان سے طوبی تنویر کا ڈیزائن کیا ہوا سرورق مٹی کی یاد دلا دیتا ہے۔اس کتاب کی تزئین وتدوین خواجہ ضیاالرحمن کی ہے ۔ کتاب کا آغاز بابا فرید ؒکے کلام سے کیا گیا ہے جس میں بابا فرید ؒنے دنیا کی بے ثباتی کو موضوع بناتے ہوئے انسان اور مٹی کے انمول تعلق کو سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں: ویکھ فریدا مٹی کھُلی مٹی اُتے مٹی ڈُلی مٹی ہسے مٹی روؤے انت مٹی دا مٹی ہوؤے نہ کر بندیا میری میری نہ تیری نہ میری چار دناں دا میلہ دنیا فیر مٹی دی ڈھیری اس کے’’مٹی‘‘ کو مصنف نے انیس ابواب میں تقسیم کیا ہے ؛ لیکن کتاب کا مقدمہ بے نام ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ مصنف اس کا مقدمہ بھی خود ہی رقم کیا ہے۔جہاں تک مصنف کی ذات اور ان کی سوانح کا تعلق ہے تو جناب تنویر حسین ملک کا تعلق پاکستان کے شہر چکوال سے ہے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ درس و تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ رہ کر گزارا۔ تقریباً تیس برس تک دوحہ، قطر کے پاکستان ایجوکیشن سنٹر میں استاد اور ایڈمنسٹریشن آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ طویل تدریسی سفر ان کی شخصیت اور فکر پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، جس کی جھلک ان کی کتاب ’’مٹی‘‘ کے صفحات میں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔ تین دہائیوں تک بیرونِ ملک رہنے کے باوجود تنویر حسین اپنی مٹی، اپنے گاؤں، اپنے لوگوں اور اپنی تہذیبی جڑوں سے جدا نہیں ہوئے۔ جسم نے اگرچہ دیارِ غیر میں طویل قیام کیا، لیکن دل اپنے آبائی گاؤں کی گلیوں، بزرگوں، درختوں، کھیتوں، رشتوں اور یادوں سے وابستہ رہا۔ یہی داخلی وابستگی بالآخر ’’مٹی‘‘ کی تخلیق کا محرک بنی۔ ان کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو محض ذاتی یادوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں ایک اجتماعی تہذیبی حافظے میں تبدیل کردیا۔ ان کے لیے ماضی صرف گزر جانے والا زمانہ نہیں بلکہ ایک ایسی امانت ہے جسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ دوحہ جیسے بین الاقوامی ماحول میں طویل عرصہ گزارنے کے باوجود ان کے اندر اپنے گاؤں کی مٹی کی خوشبو باقی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ’’مٹی‘‘ میں دیارِ غیر اور دیارِ وطن کا ایک خاموش مکالمہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ ایک طرف جدید دنیا کے تجربات ہیں اور دوسری طرف وہ گاؤں ہے جہاں سے ان کی شناخت نے جنم لیا۔ تدریس سے طویل وابستگی نے ان کے مشاہدے کو بھی ایک خاص تربیت دی۔ ایک استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ انسانوں، رویوں، نسلوں اور معاشرتی تبدیلیوں کا مشاہدہ بھی کرتا ہے۔ تنویر حسین نے اسی مشاہدے کو اپنی یادداشت کا حصہ بنایا ہے۔ ان کی تحریر میں بچوں، اساتذہ، بزرگوں، خاندانوں اور عام لوگوں کے کردار اس لیے نمایاں ہیں کہ ان کی نظر نے معاشرے کو محض واقعات کے طور پر نہیں بلکہ انسانی کرداروں کے ذریعے دیکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ’’مٹی‘‘ میں ان کے آبائی گاؤں کی داستان محض ایک شخص کی داستان نہیں رہتی۔ وہ اسے ایک ایسی اجتماعی یادداشت بنا دیتے ہیں جس میں ایک پورے عہد کی تہذیب، معاشرت، محبت، رواداری، باہمی احترام اور ایثار محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس اعتبار سے تنویر حسین صرف ’’مٹی‘‘ کے مصنف نہیں بلکہ اپنی مٹی کے ایک حساس راوی، گواہ اور حافظ ہیں۔ انہوں نے اپنے گاؤں کی تاریخ کو شاید کسی باقاعدہ مورخ کی طرح نہیں لکھا، لیکن ایک ایسے شخص کی حیثیت سے ضرور محفوظ کیا ہے جس نے اس تاریخ کو جیا، محسوس کیا اور پھر اسے لفظوں میں منتقل کیا۔اور یہی ’’مٹی‘‘ کو محض ایک کتاب نہیں رہنے دیتا؛ اسے مصنف کی اپنی زندگی، اپنے لوگوں اور اپنی مٹی سے محبت کی ادبی دستاویز بنا دیتا ہے۔ مٹی: عنوان سے استعارے تک کتاب کا عنوان ’’مٹی‘‘ نہایت سادہ ہے، لیکن اس سادگی کے اندر معنی کی کئی پرتیں پوشیدہ ہیں۔ مٹی یہاں صرف زمین نہیں بلکہ اصل، شناخت، وطن، نسبت، خاندان، یاد اور انسانی وجودکا استعارہ ہے۔ انسان مٹی سے بنتا ہے، مٹی پر زندگی گزارتا ہے اور بالآخر اسی مٹی میں واپس چلا جاتا ہے۔ اسی لیے کتاب میں مٹی کا تصور ایک وسیع فکری علامت اختیار کرلیتا ہے۔ کھیت کی مٹی، گاؤں کی مٹی، گھر کے صحن کی مٹی، بزرگوں کے قدموں کی مٹی اور قبر کی مٹی؛یہ سب مل کر انسان کے وجود اور اس کی شناخت کا ایک مکمل استعارہ بن جاتے ہیں۔ مصنف جس مٹی کو یاد کرتا ہیں، وہ محض جغرافیہ نہیں؛ وہ تہذیبی حافظہ ہے۔ اس میں نسلوں کی محنت، بزرگوں کی دعائیں، ماؤں کی ممتا، بچوں کی ہنسی، استاد کی ڈانٹ، مسجد کی اذان اور باہمی تعلقات کی حرارت محفوظ ہے۔اسی لیے ’’مٹی‘‘ کا اصل موضوع زمین سے زیادہ زمین سے جڑا ہوا انسان ہے۔ کتاب کے مرکز میں ’’وگھوال زیر‘‘ ہے۔ مصنف کے لیے یہ محض ایک گاؤں نہیں بلکہ اس کی شخصیت کی پہلی درس گاہ ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اس نے بچپن دیکھا، رشتوں کو سمجھا، مذہبی ماحول محسوس کیا، بزرگوں سے سیکھا اور معاشرتی زندگی کے ابتدائی اصول دریافت کیے۔ مصنف گاؤں کو صرف عمومی انداز میں بیان نہیں کرتا بلکہ اس کے گردونواح، بستیوں، راستوں، مکانوں، درختوں، لوگوں اور سماجی ساخت کو بھی یادداشت کا حصہ بھی بناتا ہے۔ اس طرح ایک چھوٹا سا جغرافیائی خطہ ایک مکمل تہذیبی منظرنامے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کتاب میں اردگرد کی مختلف آبادیوں اور ان کے باہمی تعلق کا ذکر بھی اس مقامی تاریخ کو دستاویزی رنگ عطا کرتا ہے۔ یہاں مصنف کی کامیابی یہ ہے کہ وہ قاری کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ گاؤں کیسا تھا؛ وہ قاری کو ایسا محسوس کراتا ہے جیسے وہ خود اس گاؤں کی گلیوں میں چل رہا ہو۔ ’’مٹی‘‘ کا ایک اہم اور فکری طور پر دلچسپ پہلو اپنے آبائی نسب اور جڑوں کی تلاش ہے۔ مصنف اپنے خاندان کے ماضی، آباؤ اجداد کی ہجرتوں اور مختلف علاقوں میں ان کے قیام کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم یہ تلاش صرف نسب نامے کی تکمیل نہیں بلکہ شناخت کی تلا ش بن جاتی ہے۔انسان جب اپنے آباؤ اجداد کے سفر کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے وجود کے پس منظر کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ’’مٹی‘‘ کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ ہے کہ مصنف نے تاریخ کے بڑے کرداروں کے بجائے عام انسانوں کو اہمیت دی ہے۔تاریخ کی روایتی کتابیں بادشاہوں، حکمرانوں، جرنیلوں اور بڑے واقعات کو محفوظ کرتی ہیں، لیکن معاشرے صرف ان لوگوں سے نہیں بنتے۔ معاشرے ان بے شمار خاموش انسانوں سے بنتے ہیں جو اپنے کردار، محنت، شرافت، دیانت، خدمت اور محبت سے روزمرہ زندگی کو معنی دیتے ہیں۔’’مٹی‘‘ انہی انسانوں کی کتاب ہے۔اس میں بزرگ ہیں، استاد ہیں، امام ہیں، کسان ہیں، خواتین ہیں، بچے ہیں، خاندان ہیں اور عام دیہاتی لوگ ہیں۔ ان میں سے ہر شخص مصنف کی یادداشت میں ایک خاص معنی رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کتاب کو مقامی سماجی تاریخ کے طور پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ کتاب کے صفحہ اول پر بزرگوں کی موجودگی خاص طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کے کرداروں کے ذریعے مصنف ایک ایسے معاشرے کو یاد کرتا ہے ۔جہاں بزرگ صرف عمر میں بڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ اخلاقی رہنمابھی سمجھے جاتے تھے۔بعض بزرگ مذہبی زندگی سے وابستہ ہیں، بعض سماجی خدمت سے، بعض تعلیم سے اور بعض خاندان کے نظم و ضبط سے۔ ان کی گفتگو، لباس، نشست و برخاست اور بچوں کے ساتھ برتاؤ کے ذریعے ایک مخصوص معاشرتی مزاج سامنے آتا ہے۔ایک بااثر بزرگ کی شخصیت کا خاکہ ان کے حلیے، پگڑی، عصا اور سخت مگر مؤثر اندازِ گفتگو سے ابھرتا ہے۔یہ کردار محض شخصیات نہیں بلکہ ایک تہذیبی نظام کے نمائندے ہیں۔مصنف یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کے دور میں بچے کی تربیت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں تھی۔ محلہ، خاندان، استاد اور بزرگ سب اس عمل میں شریک تھے۔ آج جب اجتماعی تربیت کا یہ تصور کمزور پڑرہا ہے، ’’مٹی‘‘ کے یہ کردار اور بھی معنی خیز ہوجاتے ہیں۔ ’’مٹی‘‘ میں مذہب زندگی سے الگ کوئی شعبہ نہیں۔ مسجد، امام بارگاہ، اذان، مجالس، قرآن کی تعلیم، دینی تربیت اور مذہبی اجتماعات روزمرہ معاشرت کا حصہ ہیں۔دینی تعلیم کے لیے مدرسے کے قیام اور اہلِ خیر کی کوششوں کا ذکر اس اجتماعی شعور کی عکاسی کرتا ہے جس میں بچوں کی تربیت کو پورے معاشرے کی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔اذان کے حوالے سے مصنف کی یادداشت میں ایک خاص جذباتی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ماضی کے بزرگوں کی آوازیں محض آوازیں نہیں رہتیں بلکہ وقت کی علامت بن جاتی ہیں۔آج جب بہت سی آوازیں خاموش ہوچکی ہیں، کتاب ان آوازوں کو محفوظ کرنے کا کام کرتی ہے۔ ’’مٹی‘‘ میں تعلیم کا موضوع بھی اہم ہے۔ مصنف نے اپنے اساتذہ کو یاد کرتے ہوئے اس دور کے تعلیمی ماحول کی کئی تصویریں پیش کی ہیں۔ ایک استاد کے حوالے سے ریاضی کا ایک بنیادی سبق اور اسے سیکھنے کا تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ استاد کا ایک معمولی سا جملہ بھی طالب علم کے ذہن میں عمر بھر محفوظ رہ سکتا ہے۔لیکن مصنف ماضی کے اساتذہ کو مکمل طور پر مثالی بنا کر پیش نہیں کرتا۔ بعض اساتذہ کے سخت مزاج، تلخ زبان اور جسمانی سزا کے واقعات بھی موجود ہیں۔ کیونکہ ماضی کو خوب صورت بنانا اور ماضی کو سمجھنا دو مختلف چیزیں ہیں۔اس لیے یہ توازن اہم ہے۔ کتاب کے حوالے سے ایک اہم تنقیدی پہلو خواتین کا کردار ہے۔ مصنف نے عورتوں کی محبت، ممتا اور شفقت کو یاد کیا ہے، لیکن اس موضوع کو وہ اتنی وسعت نہیں دے سکا جتنی دیہی معاشرت کی مکمل تصویر کے لیے ضروری تھی۔یہ کمی خود مصنف کی خود آگاہی کے باعث مزید نمایاں ہوجاتی ہے۔درحقیقت دیہی تہذیب میں عورت روایت کی خاموش معمار ہوتی ہے۔ وہ گھر کے ساتھ ساتھ زبان، رسم و رواج، خاندانی حافظے اور اخلاقی تربیت کو نسل در نسل منتقل کرتی ہے۔اس لیے ’’مٹی‘‘ میں خواتین کے کردار کو مزید تفصیل ملتی تو کتاب کی تہذیبی تصویر زیادہ جامع ہوسکتی تھی۔تاہم یہ کمی کتاب کے مجموعی حسن کو متاثر نہیں کرتی بلکہ مستقبل کی کسی تحریر کے لیے ایک اہم امکان پیدا کرتی ہے۔ گاؤں کی زندگی زمین سے جدا نہیں ہوسکتی۔ ’’مٹی‘‘ میں کھیت، فصل، محنت، مویشی، روزمرہ ضروریات اور دیہی معیشت کے مختلف پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔لیکن مصنف کے لیے زمین محض پیداوار کا ذریعہ نہیں۔ زمین کے ساتھ ایک جذباتی اور اخلاقی رشتہ بھی ہے۔کسان کا زمین سے تعلق صرف معاشی نہیں بلکہ وجودی ہے۔ وہ مٹی میں بیج ڈالتا ہے، محنت کرتا ہے اور اسی زمین سے زندگی حاصل کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کتاب کا عنوان اپنی پوری معنویت کے ساتھ دیہی زندگی کے اس پہلو سے بھی جڑ جاتا ہے۔ کتاب کا ایک نہایت اہم اور معاصر پہلو ماحولیات ہے۔مصنف اپنے علاقے کے قدرتی حسن، درختوں اور صاف فضا کو یاد کرتے ہوئے کوئلے کی کان کنی، درختوں کی کٹائی اور آلودگی کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی کا دکھ بیان کرتا ہے۔ کتاب میں واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ صنعتی سرگرمیوں نے فضا کو کوئلے کے ذرات سے آلودہ کیا اور درختوں کی بے دریغ کٹائی نے قدرتی حسن کو متاثر کیا۔ یہاں ’’مٹی‘‘ ایک نئے معنی میں سامنے آتی ہے۔اب یہ صرف یادوں کی مٹی نہیں بلکہ زخمی مٹی ہے۔مصنف کا یہ دکھ آج کے عالمی ماحولیاتی بحران سے جڑ جاتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ایک گاؤں کتنا بدل گیا؛ سوال یہ ہے کہ انسان نے ترقی کے نام پر اپنی زمین کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کتاب میں سڑک کی تعمیر کا حوالہ بھی اسی فکری تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف گاؤں کے لیے سڑک ترقی، سہولت اور رابطے کی علامت ہے، دوسری طرف اس کے ساتھ آنے والی تبدیلیاں پرانی معاشرتی ساخت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔یہاں مصنف کسی سادہ نتیجے پر نہیں پہنچتا۔وہ ترقی کا مخالف نہیں، لیکن ترقی کی قیمت پوچھتا ہے۔وہ استفسار کرتا ہے کہ کیا ہر نئی سہولت لازماً ترقی ہے، اور کیا ہر پرانی چیز لازماً فرسودہ؟اور پھر’’مٹی‘‘ اس سوال کا جواب قاری پر چھوڑ دیتی ہے۔ انسان جب اپنے گاؤں سے دور جاتا ہے تو اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ اپنی جڑوں کو بھول جائے یا انہیں اپنے اندر لے کر آگے بڑھے۔’’مٹی‘‘ کے مصنف نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے۔دنیا کے مختلف تجربات کے باوجود گاؤں اس کے اندر زندہ رہتا ہے۔ یہی اندرونی وطن کتاب کی اصل نفسیاتی قوت ہے۔ہجرت انسان کو جغرافیہ سے دور کرسکتی ہے، مگر یادداشت سے نہیں۔اس لیے ’’مٹی‘‘ ہجرت کی کتاب بھی ہے ---ایسی ہجرت جس میں انسان جسمانی طور پر دور ہوجاتا ہے مگر ذہنی طور پر اپنی پہلی دنیا سے جڑا رہتا ہے۔ ’’مٹی‘‘ کی زبان اس کی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔اردو نثر میں پنجابی ماحول، مقامی ناموں، علاقائی اصطلاحات اور روزمرہ کے لہجے کی آمیزش کتاب کو ایک حقیقی دیہی فضا عطا کرتی ہے۔مصنف کی زبان میں بناوٹ کے بجائے بے ساختگی ہے۔وہ اپنے ماضی کو کسی مصنوعی ادبی پردے میں نہیں چھپاتا بلکہ اسے اس کے فطری لہجے میں بیان کرتا ہے۔اسی لیے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کتاب پڑھ نہیں رہا بلکہ کسی بزرگ سے زندگی کی داستان سن رہا ہے۔یہی اسلوب کتاب کو جذباتی اعتبار سے مؤثر بناتا ہے۔ ’’مٹی‘‘ کی ایک اور اہم بات اس کی جزئیات نگاری ہے۔مصنف نے بڑے واقعات کے بجائے چھوٹی چیزوں کوبہتر پیرائے میں بیان کیا ہے۔ایک ٹافی،ایک گھڑی،ایک اذان، ایک ڈانٹ، ایک راستہ، ایک درخت، ایک استاد، ایک بزرگ، ایک گھر، ایک معمولی واقعہ۔یہ معمولی چیزیں مل کر غیر معمولی تہذیبی تصویر بنا دیتی ہیں۔یہی یادداشت نگاری کا اصل کمال ہے۔انسان بڑے واقعات بھول سکتا ہے، لیکن بعض چھوٹی چیزیں عمر بھر اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ مصنف نے انہی چھوٹی چیزوں کو اپنی کتاب کا سرمایہ بنایا ہے۔ ایک سنجیدہ تبصرے کے لیے ضروری ہے کہ کتاب کی خوبیوں کے ساتھ اس کی حدود کی طرف بھی اشارہ کیا جائے۔’’مٹی‘‘ میں واقعات، ناموں، خاندانوں اور مقامات کی کثرت بعض مقامات پر بیانیے کو قدرے منتشر کرتی ہے۔ اگر بعض ابواب کو زیادہ واضح زمانی یا موضوعاتی ترتیب دی جاتی تو کتاب کی داخلی ساخت مزید مضبوط ہوسکتی تھی۔اسی طرح بعض مقامات پر ذاتی یادداشت اور تاریخی دعوے کے درمیان واضح امتیاز قائم کرنا مزید مفید ہوتا۔لیکن یہ اعتراضات بنیادی نوعیت کے نہیں، کیونکہ کتاب کا مزاج روایتی تاریخ نویسی کا نہیں بلکہ شخصی یادداشت کے ذریعے تہذیبی ماضی کو محفوظ کرنے کا ہے۔اسی تناظر میں اسے پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔ آخر میں سوال یہ رہ جاتا ہے کہ مصنف ’’مٹی‘‘ میں کیا تلاش کررہا ہے؟میرا خیال ہے کہ اس نے مٹی نہیں انسان اور ان کے رویے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس انسان کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو کبھی گاؤں کی گلی میں ملتا تھا،جو اجنبی کو بھی اپنا سمجھتا تھا،جو بچے کی غلطی پر اسے ڈانٹتا بھی تھا اور اس کی اصلاح کی فکر بھی کرتا تھا،جو استاد کا احترام کرتا تھا،جو مذہب کو زندگی کا حصہ سمجھتا تھا،جو محنت کو عزت سمجھتا تھا،جو زمین سے محبت کرتا تھا،جو بزرگوں کو بوجھ نہیں بلکہ برکت سمجھتا تھا،اور جو اپنی شناخت کو اپنی مٹی سے جدا نہیں سمجھتا تھا،یہی انسان ’’مٹی‘‘ کا اصل کردار ہے۔ ’’مٹی‘‘ کو پڑھتے ہوئے ایک مرحلے پر محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے ایک گزرتے ہوئے عہد کی آخری آوازوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ آوازیں کبھی اذان ہیں،کبھی استاد کی ڈانٹ، کبھی بزرگ کی نصیحت، کبھی ماں کی پکار، کبھی بچوں کی ہنسی، کبھی کھیت میں چلتے ہل کی آواز، اور کبھی درختوں سے گزرتی ہوئی ہوا۔ان میں سے بہت سی آوازیں آج خاموش ہوچکی ہیں؛بہت سے کردار دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں،بہت سے درخت کٹ چکے ہیں،بہت سے گھر بدل چکے ہیں، بہت سی روایات کمزور پڑچکی ہیں؛مگر ’’مٹی‘‘ نے انہیں لفظوں میں محفوظ کردیا ہے۔یہ اس کتاب کی چند بڑی خوبیوں میں سے ایک ہے۔ ’’مٹی‘‘ ختم ہوتی ہے، لیکن اس کا سفر ختم نہیں ہوتا۔کتاب بند کرنے کے بعد بھی اس کے کردار قاری کے ذہن میں چلتے پھرتے رہتے ہیں۔ کوئی بزرگ آواز دیتا محسوس ہوتا ہے، کہیں اذان سنائی دیتی ہے، کہیں ماں کی محبت یاد آتی ہے، کہیں استاد کی ڈانٹ، کہیں بچپن کی شرارت، کہیں کھیت کی خوشبو اور کہیں وہ درخت یاد آتا ہے جو اب شاید وہاں موجود نہیں۔تب قاری کو احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف وگھوال زیر کی داستان نہیں پڑھ رہا تھا۔وہ اپنے اندر کے گاؤں کو پڑھ رہا تھا۔’’مٹی‘‘ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، اپنی پہلی دنیا کو مکمل طور پر اپنے اندر سے نہیں نکال سکتا۔اس کی زبان میں اس کا گاؤں رہتا ہے۔اس کی یاد میں اس کے بزرگ رہتے ہیں۔اس کی شخصیت میں اس کے استاد رہتے ہیں۔اس کے احساس میں اس کی ماں رہتی ہے۔اور اس کے وجود میں اس کی مٹی رہتی ہے۔اسی لیے؛ مٹی کبھی صرف مٹی نہیں ہوتی۔اس میں نسلوں کے قدموں کے نشان ہوتے ہیں۔اس میں کسان کا پسینہ ہوتا ہے۔اس میں بزرگوں کی دعائیں ہوتی ہیں۔اس میں ماؤں کی ممتا ہوتی ہے۔اس میں بچوں کی ہنسی ہوتی ہے۔اس میں استاد کی آواز ہوتی ہے۔اس میں مسجد کی اذان ہوتی ہے۔اس میں ہجرتوں کی داستان ہوتی ہے۔اس میں درختوں کی چھاؤں اور ان کے کٹ جانے کا دکھ ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر- اس میں ہماری شناخت ہوتی ہے۔مصنف نے ’’مٹی‘‘ لکھ کر دراصل اپنے گاؤں کو لفظوں میں محفوظ کرنے سے کہیں بڑا کام کیا ہے۔ اس نے انسانی رشتوں، اجتماعی اقدار اور ایک تہذیبی دنیا کی یادداشت کو آنے والی نسلوں کے لیے امانت بنا دیا ہے۔یہ کتاب ماضی کا نوحہ ضرور ہے، مگر صرف نوحہ نہیں۔یہ مستقبل کے لیے سوال بھی ہے:ہم اپنی مٹی سے کیا لے کر آئے تھے، اور آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟شاید یہی ’’مٹی‘‘ کا سب سے بڑا پیغام ہے۔دنیا جتنی بھی وسیع ہوجائے، انسان کی اصل کہیں نہ کہیں ایک چھوٹی سی بستی، ایک پرانے گھر، ایک مانوس آواز اور ایک مٹھی بھر مٹی میں محفوظ رہتی ہے۔اور جب انسان آخرکار اپنی مٹی کو یاد کرتا ہے تو دراصل وہ خود کو یاد کرتا ہے۔یہی ’’مٹی‘‘ کا حاصل ہے۔یہی اس کی خوشبو ہے۔اور یہی اس کی ادبی معنویت۔
|