عالمی حالاتِ حاضرہ: ایک بدلتی ہوئی دنیا کا منظرنامہ اور افکار اقبال ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا

عالمی حالاتِ حاضرہ: ایک بدلتی ہوئی دنیا کا منظرنامہ اور افکار اقبال
ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
دنیا اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی اور انسانی اقدار کے روایتی تصورات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے کہ عالمی نظام اب کسی ایک طاقت کے گرد نہیں گھومتا۔ امریکہ، چین، روس، یورپی طاقتوں، شرق الاوسط کی علاقائی قوتوں اور عالمی جنوب کی ابھرتی ہوئی ریاستوں کے درمیان مفادات، مسابقت اور تعاون کا ایک پیچیدہ جال تشکیل پا چکا ہے۔
آج کی دنیا بیک وقت جنگوں، معاشی بے یقینی، توانائی کے بحران، موسمیاتی تبدیلی، خوراک کی قلت، مصنوعی ذہانت کے پھیلتے ہوئے اثرات اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی جیسے چیلنجوں سے دوچار ہے۔ ان حالات نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا موجودہ عالمی نظام اکیسویں صدی کے پیچیدہ مسائل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
علامہ اقبالؒ نے زمانے کی اسی مسلسل حرکت اور تغیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
چمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی ہے
جو اوج ایک کا ہے، دوسرے کی پستی ہے

سکُوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں
آج کی عالمی صورتِ حال علامہ اقبال کے خیال کی معنویت کو پہلے سے زیادہ واضح کرتی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اتحاد نئی شکلیں اختیار کر رہے ہیں اور عالمی سیاست کے پرانے پیمانے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔شرق الاوسط آج بھی عالمی سیاست کا سب سے حساس مرکز ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود تشدد کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ 20 اگست 2026 کو ترکیہ، مصر اور قطر نے غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں جنگ بندی اور امن مذاکرات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ کیونکہ غزہ کا المیہ اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا۔ اس نے بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، جنگی اخلاقیات اور عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انسانی امدادی کارکنوں کے لیے بھی دنیا مسلسل خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔بدقسمتی سے اب یہ ایک تلخ حقیقت بنتی جارہی ہے کہ جدید جنگیں صرف فوجوں کے درمیان لڑائی کا نام نہیں بلکہ ان کا سب سے بھاری بوجھ عام شہری، بچے، خواتین، طبی کارکن اور امدادی اداروںپر پڑتاہے۔ایسے میںعلامہ اقبالؒ کا یہ سوال آج بھی انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتا محسوس ہوتا ہے:
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا
بے معجزہ دُنیا میں اُبھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہُنر کیا!
جنگ کی اصل حقیقت میزائلوں اور توپوں کے شور میں نہیں بلکہ ان گھروں کے ملبے میں چھپی ہوتی ہے جہاں کبھی زندگی اپنی تمام تر مسرتوں کے ساتھ گزر رہی ہوتی ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ نے شرق الاوسط کے طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے اثرات صرف تہران، تل ابیب یا واشنگٹن تک محدود نہیں بلکہ عالمی توانائی، تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور مالیاتی منڈیوں تک پھیل چکے ہیں۔موجودہ صورتِ حال میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ دنیا کی توانائی کی رسد کا ایک اہم حصہ اس خطے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والا کوئی بڑا بحران ایشیا، یورپ اور آسٹریلیا سمیت پوری عالمی معیشت کو متاثر کر تاہے۔
دوسری طرف روس اور یوکرین کی جنگ بھی عالمی امن کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں یوکرین پر روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے، جبکہ یوکرین بھی روس کے اندر توانائی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔یہ جنگ اب صرف روس اور یوکرین کا معاملہ نہیں رہی۔ اس نے یورپ کے دفاعی ڈھانچے، نیٹو کی حکمتِ عملی، روس اور مغرب کے تعلقات، عالمی اسلحہ کی دوڑ اور توانائی کی سیاست کو بنیادی طور پر متاثر کیا ہے۔جدید جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ڈرون، مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ یوں جنگ کا روایتی تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔علامہ اقبال ؒ کی دور رس نگاہ شاید آج کے دور میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کا مشاہدہ کررہی تھی تبھی تو انہوں نے کہا ٹھا:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
آج کے انسان کا امتحان صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس امر میں بھی ہے کہ وہ اپنی بے پناہ سائنسی اور عسکری قوت کو انسانیت کی بقا کے لیے کس طرح استعمال کرتا ہے۔
عالمی سیاست کا دوسرا بڑا محاذ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک مسابقت ہے۔ تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، بحری طاقت اور عالمی سرمایہ کاری؛تقریباً ہر اہم شعبے میں دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔یہ کشمکش محض دو ممالک کے درمیان اقتصادی مقابلہ نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی نظام کی تشکیل کی جدوجہد بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آنے والی دہائیوں میں عالمی فیصلوں پر کس کا زیادہ اثر ہوگا: موجودہ مغربی قیادت کا یا ایک ایسے کثیر قطبی نظام کا جس میں چین، پاکستان،بھارت، روس اور عالمی جنوب کے دیگر ممالک زیادہ نمایاں کردار ادا کریں؟اسی تناظر میں ایشیا بحرالکاہل کا خطہ عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین، تائیوان، تجارتی راستے، سیمی کنڈکٹرز اور سمندری سلامتی اب عالمی طاقت کی سیاست کے اہم مراکز بن گئے ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے طاقت کی اس کشمکش سے بہت آگے ایک ایسی بصیرت کی بات کی تھی جس میں انسان کی اصل قدر اس کے اخلاقی اور تخلیقی کردار سے متعین ہوتی ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا
محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص
کرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا
دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
دنیا کو ہے پھر معرکہ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
آج یہ شعر صرف افراد نہیں بلکہ قوموں کے لیے بھی ایک رہنما اصول ہے: جو قوم علم، تحقیق، کردار اور خود اعتمادی میں آگے ہوگی، وہی مستقبل کی دنیا میں باوقار مقام حاصل کرے گی۔
بایں ہمہ عالمی معیشت بظاہر بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر اس کی بنیادیں اب بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ جنگوں، تجارتی پابندیوں، توانائی کی قیمتوں، قرضوں کے بوجھ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے معاشی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیا ہے۔اسی کے ساتھ عالمی معیشت میں ایک نیا رجحان نمایاں ہو رہا ہے جسے Geo-economics یا معاشی جغرافیائی سیاست کہا جا سکتا ہے۔ اب معاشی طاقت کو سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔تجارت اب محض تجارت نہیں رہی۔ ٹیکنالوجی، معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، توانائی، بندرگاہیں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری سب عالمی طاقت کے ذرائع بن چکے ہیں۔
یہ صورتِ حال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے زمانے میں وہی قومیں مضبوط ہوں گی جو اپنے معاشی وسائل کے ساتھ ساتھ علم اور انسانی صلاحیت کو بھی قومی طاقت میں تبدیل کر سکیں گی۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد تشکیل پانے والا یہ عالمی ادارہ آج ایک ایسی دنیا کا سامنا کر رہا ہے جو 1945 کی دنیا سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہے۔سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کا موجودہ ڈھانچہ اب بھی بڑی حد تک ماضی کی طاقت کی تقسیم کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی بڑھتی ہوئی سیاسی و اقتصادی اہمیت کے باوجود عالمی فیصلہ سازی میں ان خطوں کی نمائندگی محدود ہے۔اسی لیے اقوام متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہا ہے۔ اگر عالمی ادارہ موجودہ دور کے تنازعات کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو عالمی برادری کا اس پر اعتماد مزید کم ہو سکتا ہے اور یہ ایک نئے بلاک کی طرف جاسکتا ہے وہی بلاک جس کی طرف حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے کئی دہائیاں پہلے اشارہ کر دیا تھا کہ:
ربط و ضبطِ مِلّتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بےخبر
پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو
مُلک و دولت ہے فقط حِفظِ حرم کا اک ثمر
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
جو کرے گا امتیازِ رنگ و خُوں، مِٹ جائے گا
تُرکِ خرگاہی ہو یا اعرابیِ والا گُہر
یوں محسوس ہو تا ہے کہ آج ان شعار کی روح کو وسیع تر انسانی تناظر میں پڑھنے کی ضرورت ہے: دنیا کے مختلف خطے اور اقوام اگر مشترکہ انسانی مفادات کے لیے متحد نہ ہوں تو عالمی بحران کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہ سکتے۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کی توجہ اکثر یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز رہتی ہے، مگر افریقہ میں بھی متعدد انسانی بحران جاری ہیں۔ سوڈان، جنوبی سوڈان، صومالیہ اور دیگر علاقوں میں جنگ، غربت، بے گھر ہونے اور خوراک کی قلت نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا ہے۔ یہ المیہ عالمی برادری سے تقاضا کرتا ہے کہ انسانی جان کو جغرافیائی اہمیت، سیاسی مفاد اور عالمی طاقت کے توازن سے بالاتر سمجھا جائے۔اگر کسی بحران کی خبر عالمی میڈیا میں کم دکھائی دے تو اس کی انسانی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔ انسانیت کی قدر کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ متاثرہ ملک عالمی طاقت کا مرکز ہے یا نہیں۔
دنیا ایک اور خاموش مگر گہرے انقلاب سے گزر رہی ہے اور وہ انقلاب ہے مصنوعی ذہانت کا انقلاب؛جس نے تعلیم، طب، دفاع، تجارت، تحقیق اور ابلاغ کے میدان میں بے مثال امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ جعلی اطلاعات، سائبر حملوں، خودکار ہتھیاروں، روزگار کے مستقبل اور انسانی فیصلوں پر مشینوں کے بڑھتے ہوئے اثرات جیسے سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔عین ممکن ہے کہ مستقبل میں عالمی طاقت کا تعین صرف فوجی اور معاشی وسائل سے نہ ہو بلکہ اس بات سے بھی ہو کہ کون سا ملک مصنوعی ذہانت، ڈیٹا، سیمی کنڈکٹرز اور جدید تحقیق پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے: اگر انسان نے مشین کو عقل کی رفتار دے دی مگر اخلاق کی سمت نہ دی تو کیا یہ ترقی انسانیت کے لیے محفوظ رہ سکے گی؟علامہ اقبالؒ سمجھتے تھے کہ انسانی ترقی کے لیے محض عقل کافی نہیں؛جب تک اخلاق اس کا حصہ نبے کیونکہ:
کِیا اسیر شعاعوں کو، برقِ مُضطر کو
بنادی غیرتِ جنّت یہ سرزمیں میں نے
مگر خبر نہ مِلی آہ! رازِ ہستی کی
کِیا خرد سے جہاں کو تہِ نگیں میں نے
چنانچہ مصنوعی ذہانت کے دور میں اصل چیلنج ٹیکنالوجی کی رفتار نہیں بلکہ انسانی اخلاق، ذمہ داری اور حکمت کی رفتار ہے۔کیونکہ ایک طرف
دنیا جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور پانی کی قلت مستقبل کے بڑے بحرانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ جنگیں خود بھی ماحول کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ جنگی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا کاربن اخراج اور انفراسٹرکچر کی تباہی موسمیاتی بحران کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر دنیا ایک طرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور کاربن اخراج کم کرنے کے لیے عالمی اہداف مقرر کرے اور دوسری طرف جنگوں میں وسیع پیمانے پر وسائل، توانائی اور ایندھن استعمال کرتی رہے تو ماحولیاتی اہداف کیسے حاصل ہوں گے؟موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی؛ یہ قومی سلامتی، خوراک، پانی، نقل مکانی اور عالمی معیشت کا مسئلہ بن چکی ہے۔دریں حالات ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان زمین کو محض وسائل کا ذخیرہ نہ سمجھے بلکہ اسے آئندہ نسلوں کی امانت بھی سمجھے۔
دنیا کی نئی سیاست میں عالمی جنوب کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ، چین ،بھارت، سعودی عرب، ترکیہ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک اب عالمی طاقتوں کے درمیان محض تابع کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے مطابق خارجہ پالیسی تشکیل دے رہے ہیں۔
یہ تبدیلی عالمی نظام کو یک قطبی ساخت سے ایک زیادہ کثیر قطبی نظام کی طرف لے جا رہی ہے۔ تاہم کثیر قطبیت بذاتِ خود امن کی ضمانت نہیں۔ اگر بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کو مؤثر سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے ذریعے متوازن نہ کیا گیا تو کثیر قطبی دنیا بھی تنازعات کا میدان بن سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اسے اپنی خارجہ پالیسی میں صرف روایتی اتحادیوں پر انحصار کرنے کے بجائے چین، امریکہ، یورپ، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور عالمی جنوب کے ساتھ متوازن، فعال اور مفاد پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔
موجودہ عالمی حالات پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ قومی طاقت صرف فوجی قوت کا نام نہیں۔مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، سیاسی استحکام، توانائی کا تحفظ، پانی کے وسائل، انسانی ترقی اور مؤثر سفارت کاری ہی حقیقی قومی طاقت کی بنیاد ہیں۔
پاکستان کو عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش میں کسی ایک بلاک کا محض حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو مرکز بنانا ہوگا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری، وسطی ایشیا سے روابط، خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون، یورپی منڈیوں تک رسائی اور امریکہ کے ساتھ متوازن تعلقات؛یہ سب پاکستان کے لیے مواقع بھی ہیں اور چیلنجز بھی۔اس کے ساتھ پاکستان کو داخلی استحکام، معاشی اصلاحات، تعلیم اور تحقیق کو اپنی قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہوگا۔ مضبوط داخلی بنیاد کے بغیر کوئی بھی خارجہ پالیسی دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔لیکن بقول علامہ اقبال ؒ یہ سب استحکامِ خودی کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیے اربابِ اختیار کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور اندرونی خلفشار کو اگر ختم نہیں تو کم کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔ اگر کسی پر الزامات ایک طویل عرصے تک بھی سچ ثابت نہیں ہوتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ الزامات محض الزامات ہیں لہذا ایسے وطیرے ترک کر دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک ترقی کر سکے اور قوم سکھ کا سانس لے سکے۔یہ ان لوگوں کے لیے بھی پیغام ہے جو آئے دن نوجوانوںکے جذبات ابھار کر انہیں سڑکوں پر لاتے ہیں اور پھر کتنی مائیں ۔ بہنیں اور باپ اپنی اولاد کا چہرہ دیکھنے کو ترس جاتے ہیں یا پھر کبھی دیکھ ہی نہیں پاتے۔
المختصرموجودہ عالمی حالات کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ طاقت کے ذریعے مستقل امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت توازن پیدا کر سکتی ہے، خوف پیدا کر سکتی ہے اور عارضی خاموشی پیدا کر سکتی ہے؛ مگر پائیدار امن کے لیے انصاف، مکالمہ، قانون اور باہمی احترام ناگزیر ہیں۔
غزہ سے یوکرین، ایران سے سوڈان اور بحرِ جنوبی چین سے عالمی معیشت تک ہر بحران ہمیں یہی بتا رہا ہے کہ دنیا باہم جڑی ہوئی ہے۔ کسی ایک خطے کی جنگ دوسرے خطوں کی معیشت، توانائی، خوراک، تجارت اور سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔
آج انسانیت کو ایک ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جس میں طاقتور ممالک کے لیے بھی وہی اصول ہوں جو کمزور ممالک کے لیے ہیں؛ جہاں انسانی جان کی قدر سرحد، مذہب، نسل اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو؛ جہاں اقوام متحدہ محض قراردادیں منظور کرنے کا ادارہ نہ رہے بلکہ حقیقی امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرے؛ اور جہاں سائنس و ٹیکنالوجی انسان کو تباہ کرنے کے بجائے اس کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں۔دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نئی عالمی طاقت کون بنے گی؟ اصل سوال یہ ہے کہ نیا عالمی نظام کیسا ہوگا؟
اگر آنے والی دنیا طاقت کے بجائے انصاف، تصادم کے بجائے مکالمے اور محدود قومی مفاد کے بجائے مشترکہ انسانی ذمہ داری کو ترجیح دیتی ہے تو اکیسویں صدی انسانیت کے لیے ایک نئے عہد کی بنیاد بن سکتی ہے۔لیکن اگر عالمی سیاست جنگ، انتقام، اقتصادی دباؤ اور طاقت کے عدم توازن کا شکار رہی تو آنے والی نسلیں ایک ایسی دنیا ورثے میں پائیں گی جس میں ترقی تو ہوگی، مگر امن نہیں؛ ٹیکنالوجی تو ہوگی، مگر اعتماد نہیں؛ دولت تو ہوگی، مگر مساوات نہیں۔
یہی آج کے عالمی حالات کا سب سے بڑا سوال بھی ہے اور ہماری مشترکہ ذمہ داری بھی۔اور شاید اسی مقام پرعلامہ اقبالؒ کی ایک اور صدا ہمارے عہد کے لیے رہنما بن سکتی ہے:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
دنیا کا مستقبل کسی ایک طاقت، کسی ایک ملک یا کسی ایک نظریے کے ہاتھ میں نہیں؛ یہ انسان کے اجتماعی فیصلوں، اخلاقی شعور اور عملی کردار سے تشکیل پائے گا۔ آج ضرورت صرف نئی طاقت کے ظہور کی نہیں، نئے عالمی ضمیر کی بیداری کی ہے
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 178 Articles with 257937 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More