اے آئی کے دور میں ہنر کی نئی تعریف
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
اے آئی کے دور میں ہنر کی نئی تعریف تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
حال ہی میں شنگھائی میں منعقدہ عالمی ہنر مقابلے کے دوران ایک روبوٹ سے شادی کے مشورے کا سوال کیا گیا تو اس نے جواب دینے سے پہلے تین سیکنڈ انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ دلچسپ سوال اور غیر متوقع جواب نے وہاں موجود افراد کو محظوظ کیا، لیکن اس مختصر واقعے نے ایک سنجیدہ سوال بھی سامنے رکھا کہ اے آئی کے تیزی سے پھیلتے دور میں وہ کون سے ہنر ہیں جنہیں مشینیں آسانی سے نہیں اپنا سکتیں اور مستقبل کے کارکنوں کو کن نئی صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی۔
ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے میں ہونے والے مقابلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے باوجود انسانی مہارت کی اہمیت برقرار ہے۔ امیدواروں کو مصنوعات کی منصوبہ بندی، تصاویر کی تیاری، ویڈیو پروڈکشن اور انٹرایکٹو ڈیزائن جیسے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کئی گھنٹوں پر محیط کام میں معمولی تفصیلات تک درست کرنا، ویڈیو میں تبدیلیاں فریم بہ فریم ترتیب دینا اور بار بار نتائج کا جائزہ لینا شامل ہے۔ اے آئی چند سیکنڈ میں بعض بصری اثرات تیار کر سکتی ہے، لیکن ہر نتیجہ فوری طور پر قابلِ استعمال نہیں ہوتا۔ تحریر، کرداروں کی نگاہ، انگلیوں یا چہرے کے تاثرات میں معمولی خامیاں باقی رہ سکتی ہیں۔ ایسے موقع پر انسانی ماہر کو مسئلہ شناخت کرنا، اے آئی کو درست ہدایات دینا اور روایتی سافٹ ویئر کی مدد سے حتمی نتیجہ بہتر بنانا پڑتا ہے۔ یہی تجربہ، فیصلہ سازی اور جمالیاتی شعور ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں محض خودکار نظام سے مکمل طور پر تبدیل کرنا آسان نہیں۔
یہ صورت حال صرف تخلیقی شعبوں تک محدود نہیں۔ خوردہ تجارت میں بھی مقابلے کے شرکا کو دکان کی ترتیب، مصنوعات کی نمائش، براہ راست فروخت، صارفین کی شکایات اور آن لائن براہ راست نشریات سمیت مختلف کام انجام دینے پڑتے ہیں۔ اگرچہ اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل میزبانوں کے استعمال میں تیزی آئی ہے، لیکن خریداری کے تجربے میں انسانی رابطہ، جذبات کو سمجھنا اور صارف کے ساتھ تعلق قائم کرنا اب بھی اہم پہلو ہیں۔
اے آئی کا اثر صرف موجودہ کاموں کے کچھ حصے سنبھالنے تک محدود نہیں بلکہ اس نے ایک ہی شعبے میں متعدد صلاحیتیں رکھنے والے کارکنوں کی ضرورت بھی بڑھا دی ہے۔ صنعت 4.0 کے مقابلے میں شرکا کو مشینوں اور پیداواری وسائل کو ایک مربوط نظام میں شامل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے مکینیکل تنصیب، برقی وائرنگ، پی ایل سی پروگرامنگ، ڈیٹا جمع کرنے اور تجزیے سے لے کر پیداواری نظام کی بہتری تک مختلف مہارتیں درکار ہوتی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک شعبے کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مختلف شعبوں کے باہمی تعلق اور اختراعی سوچ سے واقفیت بھی اہم ہوتی جا رہی ہے۔ مستقبل کا ہنر مند کارکن صرف ایک کام انجام دینے والا فرد نہیں بلکہ مختلف ٹیکنالوجیز کو ایک دوسرے سے جوڑ کر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ماہر ہوگا۔
سافٹ ویئر کے شعبے میں بھی ماہرین کے کردار کی نوعیت وسیع ہو رہی ہے۔ ویب ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں امیدواروں سے صرف کوڈ لکھنے کی توقع نہیں کی جاتی بلکہ انہیں صارف کی ضرورت سمجھنے، حل تیار کرنے، ڈیٹا بیس بنانے، پروگرام تیار کرنے اور حتمی نظام کی جانچ و اصلاح بھی کرنا ہوتی ہے۔ اے آئی نے کوڈ تیار کرنے کی رفتار بڑھا دی ہے، جس کے نتیجے میں پروگرامرز کے لیے منصوبہ بندی اور مصنوعات کی تیاری جیسے وسیع تر کردار بھی اہم ہو رہے ہیں۔
چین میں اے آئی سے متعلق مہارتوں کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اے آئی سے متعلق متعدد نئے پیشے سامنے آئے ہیں اور ان میں سے ایک بڑا حصہ مستقبل کی ابھرتی ہوئی صنعتوں سے منسلک ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تعلیم اور فنی تربیت کے نظام میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ نئے تعلیمی پروگرام، جدید نصاب، تربیتی نظام اور تعلیمی اداروں و کمپنیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ فنی تعلیم کے شعبے میں ڈیجیٹل معیشت، اے آئی، کم بلندی کی معیشت، جدید آلات اور انسان نما روبوٹس سے متعلق پروگرام شامل کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو ان شعبوں کے لیے تیار کرنا ہے جہاں ٹیکنالوجی اور عملی مہارت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
اے آئی کے دور میں اصل سوال یہ نہیں رہا کہ انسان ٹیکنالوجی استعمال کریں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ کس انداز میں کام کریں گے۔ مستقبل میں مشینیں رفتار، حساب اور بار بار انجام دیے جانے والے کاموں میں مدد دے سکتی ہیں، جبکہ انسان مسئلے کو سمجھنے، فیصلے کرنے، تخلیقی سوچ اختیار کرنے، جذبات کو محسوس کرنے اور مختلف صلاحیتوں کو یکجا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
یوں عالمی ہنر مقابلوں میں دکھائی دینے والی نئی مہارتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اے آئی انسان کے لیے صرف ایک چیلنج نہیں بلکہ کام کرنے کے نئے طریقوں کا ذریعہ بھی ہے۔ اس نئے ماحول میں کامیابی کا تعلق صرف ایک ہنر جاننے سے نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے، اپنی صلاحیتوں کو وسیع کرنے اور ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے سے ہوگا۔ مستقبل کی سب سے اہم صلاحیت شاید یہی ہے کہ انسان سیکھنے کا عمل کبھی نہ روکے۔ |
|