پاسپورٹ آفس کے باہر خواتین کا ہجوم تھا۔یہ حج پر جانے کے لئے پاسپورٹ بنوانے یہاں موجود تھیں۔ یہ دس بارہ خواتین پریشان صورت بنائے کھڑی تھیں۔قریب جا کر پوچھنے پر پتہ لگا کہ سکینر مشین ان خواتین کے انگوٹھوں کے نشانات سکین نہیں کر رہی۔۔۔۔۔ کیوں کہ انکے فنگر پرنٹس سبزی کاٹنے یا کام کرتے ہوئے ہلکے پھلکے کٹس لگنے کی وجہ سے وقتی طور پر خراب ہیں اور اس لئے مشین ریڈ نہیں کر رہی۔ ان میں سے ایک خاتون غصے سے بولی ۔۔۔۔ پائیاں نوں رہن دا اے اسی کام نئیں کر دیاں۔۔۔ جب بھی چھٹی کا لفظ ذہن میں آتا ہے تو پہلا خیال بے کار بیٹھے خالی ہاتھ بیٹھے بکھرے بالوں چرمرائے کپڑوں والے انسان کا آتا ہے پرانے دور میں ہاتھ میں اخبار اور منہ میں سگار ہوتا تھا۔ اب ہاتھ میں موبائل اور منہ میں ویپ ہوتا ہے۔ اِس طرح کے لوگ اس بات کی عملی تفسیر نظر آتے ہیں بے کار مباش کچھ کیا کر کپڑے ہی اُدھیڑ کر سیا کر اِسکا مطلب ہے فارغ نہ بیٹھیں کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہیں۔ اِسی لئے پرانے دور کے لوگ اخبار بینی اور نئے دور کے لوگ موبائل سرچنگ کرتے سُکون سے نظر آتے ہیں۔ چھٹی کس کو نصیب ہوتی ہے حضرات کویا خواتین کو یہ ایک لمبی بحث ہے۔ ویسے ایک ویک میں دیکھا جائے تو حضرات کو پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار نصیب ہوتا ہے۔
ایک ریسرچ کے مطابق پیر کو آٖفسز میں کام کرنے والوں کو ہارٹ اٹیکس کے یا پینک اٹیکس کے چانسز ذیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ورک لوڈ ذیادہ ہوتا ہے۔
جابز اور بزنس کے بارے میں فرق یا رائے کہی جاتی ہے کہ جاب قاب۔۔۔۔ پلیٹ۔۔۔۔ میں رکھ کر نہیں ملتی۔ بزنس راتوں رات کھڑا نہیں ہوتا۔
سو کس نے کس چیز میں خود کو کھپانا ہے وہی جانتا ہے۔
خواتین کے معاملے میں دیکھا جائے تو اُنکو پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ پیر پیر نصیب ہوتا ہے۔ پیر وہ پیر کہا جاتا ہے جو کسی کو پسند نہیں۔ خواتین کو پسند بھی ہے ناپسند بھی۔ سب گھر سے ذرا دیر کو گئے اب ڈرامے دیکھنے وقت ہے یا سکون کا سانس لینے کا۔۔۔ ویسے چھٹی یا فُرصت کے اوقات میں خواتین مشین لگائے ہفتہ بھر کے کپڑے دھونا خوب پسند کرتی ہیں۔ حضرات کو مختلف پکوان پکوانا بھی بے حد پسند ہے۔جبکہ خواتین چھٹی کے دن باہر کھانا کھانے کو چھٹی کا لازمی جزو سمجھتی ہیں۔
ایک سیلف ھیلپ کی کتاب میں پڑھا کہ خواتین آپ تھوڑا تھوڑا آرام کریں ساتھ ساتھ کام کریں کیونکہ گھر کے کام کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ خود کو تھکائیں نہیں۔ اب یہ کافی حد تک خواتین کے مزاج پر منحصر ہے کہ اُنکا گھر کیسا دکھتا ہے اور وہ ہر دِن اتور اتوار اتوار مناتی ہیں ۔ یا کام شام کر کے ہر دن پیر بنا لیتی ہیں۔ اب یہ قسمت اور قسم پر منحصر ہے۔ باہر کس نوالے پر آپ کا نام ہے اور آپکا خصم کس قسم کا ہےآپکو لے جانے کوتیار نظر آتا ہے یا خود ہی کھانے چل پڑتا ہے اور آپکو صرف آرڈر پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ چھٹی کے دن خاص طور پر عید کی چھٹیوں میں ایک رسم سُسرال جانے کی بھی ہوتی ہے۔ جس میں کہیں پر بہو پِستی ہے کیونکہ جی ننند آرہی ہے مہمانوں کا لاو لشکر گھروں میں آتا جاتا رہتا ہے سو عید کی چھٹیوں کو عید کی چھٹیاں صرف ڈھیٹ لو گ کہہ سکتے ہیں تمام لوگ نہیں۔
ہر بھابھی چاہتی ہے کہ اُس کی نند کا بھائی سیر کروا دے امی گھر کا چکر لگوا دے۔ اِس معاملے میں آگے مؤرخ خاموش ہے۔
بریانی کڑاہی انڈے والا برگر زنگر برگر پیزا شوارما یہ سب کھایا جا سکتا ہے۔ اگر مہنگا خرچا کرنا ہے تو پاستا چائینز تھائی فلاں فلاں لیمن گارلک چکن سروڈ ودھ روسٹڈ ٹماٹرودھ پیس آف ھربز چکن بھی دستیاب ہے۔ جب تک اِن میں سے کچھ کھایا نہ جائے چھٹی چھٹی نہیں لگتی۔
مالز ریسٹورنٹس ہوٹلز ڈھول میلہ ثقافتی میلہ بک نمائش ڈرامہ بلہ بلہ
پھر چودہ اگست کی چھٹی تو آتی ہی ٹین ایجرز کو سڑکوں پر نکل کر دوسروں کے دل دہلانے واسطے آتی ہے۔ تئیس مارچ پانچ فروری پچیس دسمبر بے شمار چھٹیاں موجود ہیں۔ آپکے لئے موجود ہےآپ نے چھٹی کو ٹِک کر نہیں بیٹھنا لٹو کی طرح گھومتے رہنا ہے۔
|