نیویگیشن ٹیکنالوجی سے مختلف ڈیجیٹل خدمات تک

نیویگیشن ٹیکنالوجی سے مختلف ڈیجیٹل خدمات تک
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کبھی راستہ تلاش کرنے کے لیے کاغذی نقشے یا مقامی رہنماؤں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، لیکن آج چند لمحوں میں موبائل فون، گاڑی یا کسی دوسرے اسمارٹ آلے سے اپنی درست سمت اور مقام معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس سہولت کے پیچھے موجود ٹیکنالوجی اب صرف روزمرہ سفر تک محدود نہیں رہی بلکہ زراعت، توانائی، شہری انتظام، ہنگامی امداد اور دیگر صنعتی شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ چین کا بیدو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم اسی وسیع ہوتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ایک نمایاں مثال ہے۔

چین بیدو کو فائیو جی اور سکس جی، اے آئی، ریموٹ سینسنگ اور کم زمینی مدار کے سیٹلائٹس جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط کر رہا ہے۔ اس امتزاج سے بیدو سے منسلک آلات کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں اور درست مقام، وقت اور رابطے کی سہولت مختلف شعبوں میں زیادہ مؤثر انداز سے استعمال ہو رہی ہے۔

صارفین کی سطح پر بیدو پہلے ہی بڑے پیمانے پر روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ چین میں فروخت ہونے والے تقریباً تمام اسمارٹ فونز بیدو پوزیشننگ کو سپورٹ کرتے ہیں، جبکہ کروڑوں مسافر گاڑیوں میں بھی بیدو پر مبنی نظام نصب ہیں۔ نقشہ سازی اور نیویگیشن کی خدمات فراہم کرنے والے بڑے پلیٹ فارمز بیدو کی درست مقام اور وقت سے متعلق خدمات کو اے آئی پر مبنی نئے نظاموں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔

یہ امتزاج صرف راستہ دکھانے تک محدود نہیں۔ اے آئی اور جغرافیائی معلومات کے باہمی استعمال سے ایسے نظام تیار ہو رہے ہیں جو مقام، نقل و حرکت اور زمینی حالات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ یوں بیدو ایک پس منظر میں کام کرنے والی نیویگیشن ٹیکنالوجی سے آگے بڑھ کر مختلف ڈیجیٹل خدمات کے لیے بنیادی سہولت فراہم کرنے والے نظام میں تبدیل ہو رہا ہے۔

زراعت میں اس کی افادیت مزید واضح ہوتی ہے۔ چین کے بعض زرعی علاقوں میں بیدو سے لیس مشینری کھیت کی تیاری سے لے کر فصل کی کٹائی تک مختلف مراحل میں خودکار رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔ ٹریکٹر اور دیگر زرعی آلات زیادہ درست راستے پر حرکت کر سکتے ہیں، جس سے کام کی رفتار اور درستگی بہتر ہوتی ہے۔
بیدو کے ساتھ جدید پوزیشننگ ٹرمینلز کے استعمال سے زرعی مشینری کو زیادہ مستحکم سگنل اور درست مقام کی معلومات ملتی ہیں۔ اس طرح کاشت کاری میں مشینوں کا استعمال زیادہ منظم ہو سکتا ہے اور اسمارٹ زراعت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط تکنیکی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔

بیدو کی صنعتی اہمیت اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ چین میں بیدو سے مطابقت رکھنے والی چپس اور ماڈیولز کی مجموعی ترسیل اربوں یونٹس تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بیدو سے منسلک ٹرمینلز کی تعداد بھی دو ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ، توانائی، شہری ترقی اور ہنگامی امداد جیسے شعبوں میں اس کے استعمال کے ساتھ ساتھ کم بلندی کی معیشت، بحری معیشت اور ثقافتی و کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی اس کے نئے استعمال سامنے آ رہے ہیں۔

یہ وسعت بیدو کو صرف ایک نیویگیشن نظام نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بنا رہی ہے۔ جب درست مقام اور وقت سے متعلق معلومات کو اے آئی، ریموٹ سینسنگ اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو مختلف صنعتوں میں کام کی نگرانی، منصوبہ بندی اور خودکاری کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
بیدو کی ترقی کا ایک اور اہم پہلو اس کا عالمی پھیلاؤ ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم کیے گئے چار عالمی نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹمز میں شامل بیدو سے متعلق مصنوعات اب دنیا کے متعدد ممالک اور خطوں تک پہنچ چکی ہیں۔ چینی کمپنیاں مختلف ممالک میں مقامی ضروریات کے مطابق بیدو ٹیکنالوجی کے استعمال اور خدمات کی آزمائش اور تعاون کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

اس عمل میں صرف تیار مصنوعات بیرون ملک بھیجنے کے بجائے مقامی ضروریات کے مطابق مکمل حل فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیدو سے متعلق چینی ادارے صرف آلات فراہم نہیں کر رہے بلکہ مختلف شعبوں کے لیے ٹیکنالوجی، خدمات اور عملی نظام کو یکجا کرکے مربوط حل پیش کر رہے ہیں۔

بیدو کی یہ پیش رفت اس بات کی مثال ہے کہ ایک سیٹلائٹ نیویگیشن نظام کس طرح روزمرہ استعمال سے نکل کر وسیع صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کا حصہ بن سکتا ہے۔ مستقبل میں فائیو جی، سکس جی، اے آئی، ریموٹ سینسنگ اور کم زمینی مدار کے سیٹلائٹس کے ساتھ اس کا تعلق مزید مضبوط ہونے سے اس کے استعمال کے دائرے میں بھی وسعت متوقع ہے۔
یوں بیدو کی کہانی صرف درست مقام بتانے کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح مختلف شعبوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہے۔ صارف کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون سے لے کر کھیت میں چلنے والی خودکار مشین اور عالمی منڈیوں تک، بیدو چین کے ڈیجیٹل اور صنعتی نظام میں ایک وسیع تر کردار اختیار کرتا جا رہا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 2021 Articles with 1187814 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More