ٹیچی لیک کی رحمت بی بی !


یہ انیس سو ننانوے تھا۔
میں بینکاک سے کوئی ایک ہزار کلومیٹر دور، تھائی لینڈ کے آخری سرحدی قصبے مےسائی جا پہنچا تھا۔ سامنے برما تھا، جسے آج میانمار کہا جاتا ہے۔ میرے پاس برما کا ویزا تھا اور میرا ارادہ ٹیچی لیک جانے کا تھا۔ میسائی، چن رائی اور دریائے میکانگ کے پار لاوس کا علاقہ، جسے گولڈن ٹرائینگل کہا جاتا تھا، اپنے اندر عجیب پراسراریت سمیٹے ہوئے تھا۔
مگر مجھے گولڈن ٹرائینگل کی شہرت نہیں کھینچ کر لائی تھی۔
مجھے وہاں رحمت بی بی کے عزیز تلاش کرنے تھے۔
رحمت بی بی اب دنیا میں نہیں تھیں۔وہ ایک دہائی قبل ہی دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔ مگر ان کی کہانی ٹیچی لیک کی مٹی میں کہیں دفن تھی۔
میں نے ٹیچی لیک میں رحمت بی بی کے عزیزوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔دریائے میکانگ پہ بنے کنکریٹ کے پل سے میں پیدل برما میں داخل ہوا،اور اسی سے واپس تھائی لینڈ آ گیا۔
۔
میں بینکاک سے کوئی ایک ہزار کلومیٹر دور، تھائی لینڈ کے آخری سرحدی قصبے مےسائی جا پہنچا تھا۔ سامنے برما تھا، جسے آج میانمار کہا جاتا ہے۔ میرے پاس برما کا ویزا تھا اور میرا ارادہ ٹیچی لیک جانے کا تھا۔ میسائی، چن رائی اور دریائے میکانگ کے پار لاوس کا علاقہ، جسے گولڈن ٹرائینگل کہا جاتا تھا، اپنے اندر عجیب پراسراریت سمیٹے ہوئے تھا۔
مگر مجھے گولڈن ٹرائینگل کی شہرت نہیں کھینچ کر لائی تھی۔
مجھے وہاں رحمت بی بی کے عزیز تلاش کرنے تھے۔
رحمت بی بی اب دنیا میں نہیں تھیں۔وہ ایک دہائی قبل ہی دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔ مگر ان کی کہانی ٹیچی لیک کی مٹی میں کہیں دفن تھی۔
میں نے ٹیچی لیک میں رحمت بی بی کے عزیزوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔دریائے میکانگ پہ بنے کنکریٹ کے پل سے میں پیدل برما میں داخل ہوا،اور اسی سے واپس تھائی لینڈ آ گیا۔
دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں برما جاپانی فوج کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ 1942 سے 1945 تک اس خطے میں شدید جنگ ہوئی۔ برطانوی ہند کی فوج، جس میں ہندوستان کے مسلمان، ہندو، سکھ اور دوسری قومیتوں کے جوان شامل تھے، جاپانی فوج کے خلاف مختلف محاذوں پر لڑ رہی تھی۔
اسی زمانے میں ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ، محمد رمضان، بھی برٹش انڈین آرمی کے ساتھ برما پہنچے۔ وہ لڑاکا سپاہی نہیں بلکہ فوج کے نان کمبیٹنٹ عملے، یعنی لانگری کے شعبے سے وابستہ تھے۔ جنگ انہیں ہندوستان سے اٹھا کر برما کے دور افتادہ محاذوں تک لے گئی۔
اور پھر جنگ کے شور میں محبت کی ایک ایسی داستان لکھی گئی جس کا کسی فوجی تاریخ میں ذکر نہیں۔
تچی لیک کے قریب محمد رمضان کی ملاقات ایک مقامی برمی خاتون سے ہوئی۔
رحمت بی بی۔
جنگ ختم ہوئی۔ توپیں خاموش ہوگئیں۔ فوجیں واپس ہونے لگیں۔ سپاہی اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔
مگر رمضان صاحب اکیلے واپس نہیں آئے۔
انہوں نے رحمت بی بی سے نکاح کیا اور اسے اپنے ساتھ ہندوستان لے آئے؛ وہ ہندوستان جو صرف تین برس بعد پاکستان بننے والا تھا۔
سوچیے، ٹیچی لیک کی ایک برمی لڑکی مری کے پہاڑوں میں آکر آباد ہوگئی۔
نہ زبان وہ، نہ رسم و رواج وہ، نہ موسم وہ، نہ زمین اپنی۔
مگر شاید عورت جب رشتہ قبول کرلیتی ہے تو جغرافیہ اس کے لیے بے معنی ہوجاتا ہے۔
رحمت بی بی نے اس اجنبی مٹی کو اپنا گھر بنا لیا۔یہاں کی زبان سیکھ لی۔برمی خواتین کی روایت ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بے مثال خدمت کرتی تھیں۔سو انھوں نے بھی پورے علاقے کا دل جیت لیا۔وہ یہاں کی مٹی میں گھل مل گئیں جسے انہوں نے اپنا گھر بنا لیا تھا۔
یہ داستان میرے ذہن میں برسوں سے زندہ تھی۔
پھر 2024 میں کراچی جانا ہوا تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ محمد رمضان کے بڑے صاحب زادے اورنگزیب کو تلاش کیا جائے جو برسوں پہلے یہاں آن بسا تھا۔
کوشش کی۔ رابطے تلاش کیے۔ چھوٹے بھائی توقیر رضا کلیم عباسی سے فون نمبر حاصل کیا اور بالآخر اورنگزیب سے رابطہ ہو گیا۔
اورنگزیب میرے بچپن کا شناسا تھا۔ کبھی ہمارے گھر آیا کرتا تھا۔ سادہ طبیعت کا آدمی تھا۔ کئی دہائیاں پہلے قسمت آزمانے کراچی جا بسا تھا۔ وہیں شادی کی، محنت مزدوری کی اور اب قیوم آباد میں اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔
میری شدید خواہش تھی کہ اس سے ملوں۔
بچپن کی باتیں کروں۔ پوچھوں کہ رحمت بی بی کیسی تھیں؟ ان کے لہجے میں ٹیچی لیک کتنا باقی رہ گیا تھا؟ کیا کبھی انہیں اپنا برما یاد آتا تھا؟ کیا انہوں نے کبھی اپنے بچوں کو بتایا کہ وہ کس دور دراز سرزمین سے آئی تھیں؟
مگر بوجوہ ملاقات نہ ہوسکی۔
اورنگزیب کو دل کا عارضہ لاحق تھا۔کراچی سے واپسی کے وقت دل پر ایک عجیب بوجھ تھا۔ جیسے کوئی نامکمل کام پیچھے رہ گیا ہو۔مجھے لگا شائید اورنگزیب سے اب کبھی مل نہ سکوں گا۔
چھ ماہ بعد خبر آئی کہ اورنگزیب انتقال کرگیا ہے۔
پچھلے سال توقیر رضا کلیم عباسی بھی رخصت ہوگیا۔
یوں محمد رمضان کا وہ خاندان، جس کی ایک شاخ ٹیچی لیک سے چل کر مری پہنچی تھی اور دوسری کراچی تک پھیل گئی تھی، رفتہ رفتہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔برما کے سرحدی شہر کی ایک لڑکی نے ہزاروں میل دور جا کر اپنی ایک نئی دنیا بسائی اور اب وہیں مدفون ہے اور مری کا بیٹا کراچی میں۔شائید اسے ہی تقدیر کا پیر پھیر کہتے ہیں۔
انسان بھی عجیب مسافر ہے۔
نہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اسے کہاں لے جائے گی، نہ یہ کہ اس کی کہانی کہاں ختم ہو گی۔
رحمت بی بی چلی گئی مگر برما سے مری تک پھیلی ہوئی وہ کہانی آج بھی میرے اندر کہیں زندہ ہے۔
رحمت بی بی میرے لیے اب ایک عورت کا نام نہیں؛ وہ اس بات کی علامت ہیں کہ جنگیں سرحدیں بناتی ہیں، مگر انسان کبھی کبھی انہی سرحدوں کو عبور کرکے محبت، رشتے اور یاد کی ایک نئی دنیا آباد کر دیتے ہیں۔

 

muhammad idrees
About the Author: muhammad idrees Read More Articles by muhammad idrees: 2 Articles with 381 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.