چین میں نئی پیداواری قوتوں کی ترقی کا جامع منصوبہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں نئی پیداواری قوتوں کی ترقی کا جامع منصوبہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
سائنس و ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید صنعت اور سبز معیشت آج عالمی ترقی کے اہم محرک بن رہے ہیں۔ اس تناظر میں چین نے اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے نئی پیداواری قوتوں کی تشکیل تیز کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں سائنسی تحقیق، صنعتی جدت، ڈیجیٹل معیشت، ادارہ جاتی اصلاحات اور باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ رہنما اصولوں میں پانچ شعبوں کے تحت 19 اہم اقدامات شامل ہیں۔ ان کا مقصد سائنسی و تکنیکی جدت کو فروغ دینا، تحقیق کو صنعتی ترقی سے جوڑنا، ترقی کے نئے طریقے اپنانا، ادارہ جاتی نظام میں بہتری لانا اور جدید معیشت کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افراد تیار کرنا ہے۔
ان رہنما اصولوں میں جدت پر مبنی ترقی، اصلاحات اور مقامی حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ اصول بھی اہم قرار دیا گیا ہے کہ نئے نظام کی تشکیل اس انداز میں ہو کہ پرانے نظام کو ختم کرنے سے پہلے اس کے متبادل کو تیار کیا جائے۔ مقصد ایسی پیداواری قوتیں تشکیل دینا ہے جو جدید ٹیکنالوجی، بہتر کارکردگی اور اعلیٰ معیار کی بنیاد پر معیشت کو آگے بڑھا سکیں۔
سائنسی تحقیق اور بنیادی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ رہنما اصولوں کے مطابق جدید تحقیق، اہم سائنسی منصوبوں اور کلیدی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کے ذریعے صنعتوں کی مسابقت بڑھائی جائے گی۔ قومی تجربہ گاہوں، جامعات، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ تحقیق کے نتائج عملی مصنوعات اور پیداواری صلاحیت میں تبدیل ہو سکیں۔
اس عمل میں نجی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے ٹیکنالوجی کاروباروں کو بھی اہم کردار دیا گیا ہے۔ کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری بڑھائیں، جبکہ اہل نجی اداروں کو اہم قومی تکنیکی منصوبوں میں قیادت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ چین کی وسیع داخلی مارکیٹ کو بھی نئی ٹیکنالوجیز کو عملی استعمال میں لانے اور ان کی تجارتی افادیت بڑھانے کے لیے بروئے کار لانے کا ارادہ ہے۔ روایتی صنعتوں کی جدید کاری بھی اس حکمت عملی کا بنیادی جزو ہے۔ مینوفیکچرنگ اور دیگر صنعتی شعبوں میں ڈیجیٹل، اسمارٹ اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے استعمال کو وسعت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ جدید کاروباری خدمات کو زیادہ تخصصی بنانے اور صارفین کے لیے خدمات کے معیار، تنوع اور سہولت کو بہتر کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
ابھرتی ہوئی صنعتوں کے فروغ کے ساتھ مستقبل کی صنعتوں کے لیے بھی پیشگی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ مختلف شعبوں اور علاقوں کے درمیان صنعتی تعاون بڑھانے، غیر ضروری مسابقت سے بچنے اور مشرقی علاقوں کے تجربات سے وسطی، مغربی اور شمال مشرقی علاقوں کی ترقی میں مدد لینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس حکمت عملی میں مقامی وسائل، صنعتی بنیاد اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل معیشت اور حقیقی معیشت کا انضمام بھی ان اقدامات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ قومی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، مینوفیکچرنگ کی ڈیجیٹل تبدیلی تیز کرنے اور بین الاقوامی سطح پر مسابقت رکھنے والے ڈیجیٹل صنعتی کلسٹرز تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق ’’اے آئی پلس‘‘ اقدام کے تحت اے آئی کو روایتی صنعتوں میں استعمال کرنے، نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں جدت بڑھانے اور مختلف شعبوں میں ان کے اطلاق کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے محفوظ، قابل اعتماد اور قابل کنٹرول استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کی نگرانی، خطرات کی بروقت نشاندہی اور ہنگامی ردعمل کے نظام قائم کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔
سبز ترقی کے لیے رہنما اصولوں میں کم کاربن اور سرکلر معیشت کو فروغ دینے، گرین مینوفیکچرنگ، ماحول دوست خدمات اور صاف توانائی کی صنعت کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے۔ توانائی کی پیداوار اور استعمال میں تبدیلی کے ساتھ مالیاتی، سرمایہ کاری، تکنیکی اور ماحولیاتی پالیسیوں کو بھی اس مقصد سے ہم آہنگ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے سائنس و ٹیکنالوجی اور معیشت کے درمیان تعلق مضبوط بنانے، ڈیٹا کی قومی منڈی کو مربوط کرنے اور جدید مالیاتی مصنوعات کی فراہمی بہتر بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو فروغ دے کر عالمی جدت کے نیٹ ورک میں شرکت بڑھانے اور غیر ملکی وینچر کیپیٹل اداروں اور بین الاقوامی معیار سازی کی تنظیموں کے لیے تعاون کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ ان تمام ترجیحات کی تکمیل کے لیے باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ رہنما اصولوں میں جدید صنعتوں کی ضروریات کے مطابق افراد کی تربیت، ان کے استعمال اور نقل و حرکت سے متعلق پالیسیوں میں بہتری اور تحقیق و جدت کے لیے موزوں ماحول پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) میں بھی نئی پیداواری قوتوں کی ترقی کو اہم اسٹریٹجک ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ منصوبے کے خاکے میں اس مقصد سے متعلق 109 بڑے منصوبوں میں سے 28 شامل ہیں، جن کا تعلق صنعتی صلاحیت، ابھرتی ہوئی صنعتوں، جدید ٹیکنالوجیز اور جدت کی صلاحیت بڑھانے سے ہے۔
یہ اقدامات چین کی صنعتی اور تکنیکی ترقی کو نئی سمت دینے کے ساتھ عالمی معیشت میں تعاون کے امکانات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ صاف توانائی، مصنوعی ذہانت، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، بایومیڈیسن اور ڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور صنعتی اشتراک کے مواقع اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت اور صنعتی جدید کاری سے متعلق تجربات کا تبادلہ اہمیت رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر نئی پیداواری قوتوں کی ترقی کا تصور سائنس و ٹیکنالوجی کو صنعتی جدت، ادارہ جاتی اصلاحات اور انسانی صلاحیتوں سے جوڑتا ہے۔ اس حکمت عملی کا عملی اثر اس بات سے واضح ہوگا کہ تحقیق کس حد تک مؤثر مصنوعات میں تبدیل ہوتی ہے، نئی صنعتیں کتنی پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھتی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی معیشت و معاشرے کی ضروریات پوری کرنے میں کس قدر مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ |
|