ایسوسی ایشن، ایوارڈ اور جنرل باڈی کا وہ اجلاس
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
ایسوسی ایشن بنیادی طور پر فلاح و بہبود کے لیے بنتی ہے۔ کم از کم لغت یہی کہتی ہے، قانون بھی شاید یہی کہتا ہے اور دنیا بھر میں بھی یہی تصور ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ایسوسی ایشن کیوں بنتی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ایسوسی ایشن بناتا کون ہے، بنیاد کیا ہوتی ہے اور آخر اس بنیاد پر کھڑا کیا جاتا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بعض چیزیں وقت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے پرانی الماری کی صفائی کرتے ہوئے اچانک وہ رسید مل جائے جس کے بارے میں گھر کے سب افراد سمجھتے تھے کہ وہ کب کی ختم ہوچکی ہے۔
میرا صحافت سے تعلق 1996 سے ہے۔ اللہ تعالیٰ عبدالو احد یوسفی صاحب، ایڈیٹرروزنامہ آج، کو غریق رحمت کرے۔ انہوں نے صحافت میں جو پودا لگایا، آج اس کے سائے میں بہت سے صحافی بیٹھے ہیں۔ روزنامہ آج کو بجا طور پر صحافی بنانے والے اداروں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔1996 میں پشاور پریس کلب کی ممبرشپ حاصل کی۔ اس وقت بھی سپورٹس پیج کے لیے کام کرتا تھا اور صحافت کا آغاز بھی کھیلوں ہی سے کیا۔ آج بھی بنیادی طور پر سپورٹس جرنلزم سے وابستہ ہوں۔ درمیان میں کورٹس، بلدیات اور کچھ عرصہ کرائمز کی رپورٹنگ بھی کی۔
وار اینڈ ٹیرر کے زمانے میں اگر دنیا ٹی وی پر سب سے زیادہ بریکنگ نیوز میرے حصے میں آئی ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کا کرم تھا۔ اس کے گواہ سینئر صحافی صفی اللہ گل بھی ہیں۔ یعنی صحافت میں اتنے سال گزارنے کے بعد اب کم از کم یہ تجربہ ضرور حاصل ہوگیا ہے کہ خبر اور "خبر بنانے" میں فرق سمجھ آتا ہے۔اب کچھ عرصے سے ایسوسی ایشنز کے حوالے سے بہت سی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ سوچا کہ کچھ پرانی یادیں بھی تازہ کرلی جائیں۔
کسی زمانے میں ہماری بھی خواہش تھی کہ بیرون ملک جائیں، وہاں سیٹل ہوں۔ آخر انسان ہیں، ڈالر اور پاؤنڈ کا شوق کسے نہیں ہوتا؟ اس وقت ذہن میں تھا کہ ایک صاحب ہمیں باہر لے جائیں گے۔ لیکن خوشامد کی عادت بچپن سے نہیں تھی۔ لوگ آج بھی ہمیں منہ پھٹ اور بدتمیز کہتے ہیں۔ شاید کچھ حد تک درست بھی کہتے ہوں، لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے کرم سے جو کچھ ملا، اپنی محنت سے ملا۔ہم نے کبھی کسی انسان کو خدا نہیں سمجھا۔ خدا کو مانا، مگر خداؤں کے خادموں کی غلامی نہیں کی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ذہن میں ایک بات ڈال دی کہ جو اللہ کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔ ہم نے کہا کہ اب جو ہوگا، اللہ ہی کرے گا۔ایک صاحب نے شاید ہمیں سبق سکھانے یا جلانے کے لیے ہمارے چھوٹے بھائی کو دبئی بھیج دیا۔ مطلب یہ کہ اگر میں تمہیں باہر نہیں لے کر گیا تو دیکھو، میں کیا کرسکتا ہوں۔ہم نے بھی معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ پھر اللہ نے ایسا راستہ دکھایا کہ اسکالرشپ پر مختلف ممالک جانے کا موقع ملا۔ تب سمجھ آیا کہ بعض اوقات انسان جس دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے، اللہ اس کے لیے کوئی دوسرا دروازہ کھول چکا ہوتا ہے۔
لیکن کالم کا موضوع بیرون ملک جانا نہیں، ایسوسی ایشن ہے۔ ایک ایسوسی ایشن میں ہم ابتدا ہی سے شامل تھے۔ لیکن ہماری یادداشت کے مطابق ہمیں زیادہ تر اس وقت یاد کیا جاتا جب جنرل باڈی کا اجلاس ہونا ہوتا۔ جنرل باڈی کا اجلاس بھی بڑا دلچسپ ہوتا تھا۔ اجلاس سے پہلے ایوارڈ کی باتیں ہوتیں۔ ایوارڈ کے لیے کہیں سے فنڈ آتا۔ پھر اجلاس میں ایک نئی کہانی سامنے آتی کہ ایک صاحب فرما رہے ہیں کہ "ایسوسی ایشن میرے پیسے کی مقروض ہے، پہلے میرے پیسے واپس کیے جائیں۔" پھر جنرل باڈی میں قرارداد آتی۔ پھر قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوتی۔ پھر پیسے ایک صاحب کو مل جاتے۔ اور ہم خاموش بیٹھے سوچتے رہتے کہ شاید یہی ایسوسی ایشن کا جدید مالیاتی نظام ہے۔
ہم نے بھی سوچا کہ چلو، خاندانی معاملات میں ایسی چھوٹی موٹی باتیں چلتی رہتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز "چھوٹی موٹی" سمجھ کر شروع ہوتی ہے، وہ بعض اوقات سالوں بعد اتنی بڑی ہوجاتی ہے کہ سوال پوچھنے والا ہی بدتمیز قرار پاتا ہے۔آخرکار ہم نے خاموشی سے ایسوسی ایشن چھوڑ دی۔ نہ وہ ہمیں منہ لگاتے ہیں، نہ ہم انہیں منہ لگاتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور بنتا ہے۔ ایسوسی ایشن آخر ہوتی کیا ہے؟میرے خیال میں ایسوسی ایشن وہ ہونی چاہیے جو قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہو، اس کا واضح دستور ہو، اپنا دفتر ہو، باقاعدہ ممبران ہوں، حساب کتاب ہو، جنرل باڈی ہو اور سب سے بڑھ کر اس شعبے سے حقیقی تعلق رکھنے والے لوگ اس کا حصہ ہوں۔یہ کیا کہ سارا دن کسی اور شعبے میں ہوں اور شام کو ایک مخصوص شعبے کی ایسوسی ایشن میں چکر لگائیں، تصاویر بنائیں، عہدے لیں اور پھر کہیں کہ ہم اس شعبے کے نمائندے ہیں؟یہ سوال کسی ایک شخص کے خلاف نہیں۔یہ سوال نظام کے بارے میں ہے۔
اور سب سے زیادہ سوال ان لوگوں سے بنتا ہے جو دوسروں کا حساب لکھتے ہیں۔صحافی دوسروں کا چٹھا کھولتے ہیں۔ یہ ہمارا کام بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ لیکن کبھی کبھی آئینہ اپنے سامنے بھی رکھ لینا چاہیے۔اگر ہم سرکاری ادارے سے پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں خرچ ہوا تو کوئی برا نہیں ماننا چاہیے اگر کوئی ہم سے بھی پوچھ لے بھائی صاحب، آپ کے پاس بیس سال پہلے کیا تھا اور آج کیا ہے؟ کتنی مرتبہ مختلف مدوں میں سرکاری یا ادارہ جاتی فنڈز لیے؟ کس مقصد کے لیے لیے؟ کہاں خرچ کیے؟ کتنا خرچ ہوا؟ کتنا بچا؟ کتنا واپس کیا؟ کتنے لوگ ملازم رکھے؟ان میں اپنے کتنے تھے اور میرٹ پر آنے والے کتنے؟
اور سب سے اہم سوال: جو ادارہ آپ دوسروں کے احتساب کے لیے چلاتے ہیں، اس کا اپنا احتساب کون کرتا ہے؟ یہ سوال صرف صحافیوں سے نہیں، ہر ایسوسی ایشن، ہر تنظیم اور ہر ادارے سے ہونا چاہیے۔ کیونکہ فلاحی ادارہ ہو، سپورٹس ایسوسی ایشن ہو، صحافتی تنظیم ہو یا کوئی اور ادارہ، صرف نام کے ساتھ "ایسوسی ایشن" لگا دینے سے وہ عوامی خدمت کا ادارہ نہیں بن جاتا۔ رجسٹریشن چاہیے۔ آئین چاہیے۔ ممبرشپ چاہیے۔ حساب کتاب چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر شفافیت چاہیے۔۔ورنہ پھر معاملہ کچھ یوں ہوجاتا ہے کہ ایسوسی ایشن کے نام پر اجلاس بھی ہوتا ہے، قرارداد بھی منظور ہوتی ہے، ایوارڈ بھی ملتا ہے، فنڈ بھی آتا ہے، اور آخر میں سوال پوچھنے والا صرف یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ..."جناب! جنرل باڈی کہاں تھی، جنرل فنڈ کہاں گیا اور جنرل صاحب کو سب کچھ کیسے مل گیا؟" مزاح اپنی جگہ، لیکن معاملہ سنجیدہ ہے۔
صحافت کو معاشرے کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اگر یہ واقعی چوتھا ستون ہے تو پھر اس ستون کی بنیادیں بھی مضبوط ہونی چاہئیں۔ بنیادوں میں دو نمبری ہو تو عمارت خواہ کتنی خوبصورت کیوں نہ ہو، سوال پھر بھی بنیادوں پر ہی اٹھے گا۔ اور شاید اب وقت آگیا ہے کہ دوسروں سے سوال پوچھنے والے کچھ سوال اپنے آپ سے بھی پوچھیں۔ کیونکہ احتساب کا اصول بہت سادہ ہے اگر سوال دوسروں سے جائز ہے تو وہی سوال اپنے لیے بھی ناجائز نہیں ہوسکتا۔
#Journalism #Journalists #PressFreedom #MediaAccountability #JournalisticEthics #Transparency #Accountability #MediaOrganizations #JournalistAssociations #PressClub #SportsJournalism #PakistanJournalism #KhyberPakhtunkhwa #Peshawar #InvestigativeJournalism #PublicInterest #MediaEthics #GoodGovernance
|