|
کیپ ٹاؤن کا مسلم علاقہ اور جنوبی افریقہ کی پہلی مسجد:بوکاپ کی رنگین گلیوں سے تاریخِ اسلام کے روشن نقوش تک تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی — آسٹریلیا دنیا کے بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں پہنچ کر محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کتابوں سے نکل کر گلیوں، عمارتوں اور لوگوں کی زندگیوں میں سانس لے رہی ہے۔ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کا مسلم علاقہ بوکاپ (Bo-Kaap)بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ پہاڑی ڈھلوان پر آباد اس تاریخی علاقے کی رنگ برنگی عمارتیں، تنگ گلیاں، مسلم تہذیب کی جھلکیاں اور قدیم مساجد دیکھنے والے کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتی ہیں۔ لیکن بوکاپ کی اصل اہمیت اس کے ظاہری حسن سے کہیں زیادہ اس تاریخ میں پوشیدہ ہے جو یہاں کے مسلمانوں نے صدیوں کی جدوجہد، قربانی اور استقامت سے رقم کی۔ کیپ ٹاؤن کے وسطی علاقے کے قریب واقع بوکاپ کی شناخت اس کی شوخ رنگوں سے سجی عمارتوں کے باعث دنیا بھر میں ہے۔ نیلے، سبز، گلابی، زرد اور نارنجی رنگوں میں رنگے مکانات ایک دل کش منظر پیش کرتے ہیں۔ مگر ان رنگوں کے پیچھے آزادی، شناخت اور انسانی وقار کی ایک طویل داستان بھی موجود ہے۔ اس علاقے کی تاریخ اٹھارہویں صدی سے جڑی ہوئی ہے، جب ڈچ نوآبادیاتی دور میں جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے غلاموں، جلاوطن افراد اور دیگر باشندوں نے یہاں اپنی زندگیوں کی بنیاد رکھی۔ ان میں بہت سے مسلمان تھے، جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنے مذہبی عقائد، عبادات اور تہذیبی روایات کو زندہ رکھا۔ بوکاپ کی مسلم تاریخ میں انڈونیشیا، ملائیشیا اور دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کا کردار اہم ہے۔ ان لوگوں نے صرف ایک نئی سرزمین پر اپنی زندگیوں کو ازسرِنو آباد نہیں کیا، بلکہ اپنے ساتھ علم، زبان، مذہبی روایت اور تہذیبی اقدار بھی لے کر آئے۔ رفتہ رفتہ یہ علاقہ کیپ ٹاؤن کی مسلم شناخت اور اجتماعی زندگی کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ آج بھی یہاں کی مساجد، تاریخی عمارتیں اور روایتی کھانے اس ثقافتی ورثے کی یاد دلاتے ہیں۔ بوکاپ کی تاریخی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہاں واقع مسجدِ اوّل کا ذکر ناگزیر ہے۔ یہ جنوبی افریقہ کی قدیم ترین مسجد تسلیم کی جاتی ہے، مسجد کے داخلی دروازے کے ذرا اوپر المسجد الاول 1794ئ کی تختی آویزاں ہے۔ ڈورپ اسٹریٹ پر واقع یہ مسجد محض عبادت گاہ نہیں، بلکہ جنوبی افریقہ میں اسلام کی تاریخ، مذہبی آزادی اور مسلم شناخت کی جدوجہد کی ایک زندہ علامت ہے۔ المسجد الاول کی تاریخ اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے جب نوآبادیاتی حکام کے زیرِ اقتدار مسلمانوں کو اپنی مذہبی زندگی گزارنے اور اجتماعی عبادات کے لیے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ ڈچ دور میں مسلمانوں کے لیے مساجد قائم کرنے کی اجازت محدود تھی، چنانچہ بعض اوقات انہیں نجی گھروں یا کھلی جگہوں پر عبادت کا اہتمام کرنا پڑتا تھا۔ ایسے حالات میں مسجد کا قیام ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔ اس نے مسلم برادری کو نہ صرف نماز اور عبادت کے لیے ایک مستقل جگہ فراہم کی بلکہ مذہبی تعلیم، اجتماعی روابط اور تہذیبی تسلسل کے لیے بھی ایک مرکز مہیا کیا۔ اس اعتبار سے المسجد الاول کی تاریخ صرف ایک عمارت کی تعمیر کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک برادری کی استقامت اور مذہبی آزادی کے حصول کی داستان ہے۔ المسجد الاول کی تاریخ کا ایک اہم نام امام عبداللہ قاضی عبدالسلام ہے، جو توآن گرو کے نام سے معروف ہیں۔ وہ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک عالم اور مذہبی رہنما تھے، جنہیں نوآبادیاتی حکام نے روبن آئی لینڈ پر قید رکھا(یہ وہی آئی لینڈ ہے جہاں نیلسن منڈیلا کو 27 سال تک پابند سلاسل رکھا گیا)۔ ان کی زندگی علم، دینی وابستگی اور استقامت کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ 1793ئ میں رہائی کے بعد انہوں نے کیپ ٹاؤن میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے مدرسہ قائم کیا۔ بعدازاں المسجد الاول کی تشکیل اور ترقی میں بھی ان کا کردار اہم رہا، اور انہیں اس مسجد کا پہلا امام تسلیم کیا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق، قید کے دوران توآن گرو نے حافظے سے قرآن مجید کا ایک نسخہ تحریر کیا جو بعد ازاں مسجد کی چھت کی مرمت کے دوران ایک تھیلے سے برآمد ہوا۔ ان کی علمی خدمات نے کیپ ٹاؤن کی مسلم برادری میں مذہبی تعلیم اور اسلامی روایت کے تسلسل میں اہم کردار ادا کیا۔ مسجد اور مدرسے کا تعلق بھی اسی روایت کی عکاسی کرتا ہے کہ علم اور عبادت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ توآن گرو کی زندگی کا یہ پہلو خصوصی توجہ کا مستحق ہے کہ سیاسی قید اور نامساعد حالات بھی ان کے علمی و دینی عزم کو ختم نہ کر سکے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات علم کی روشنی ان حالات میں بھی سفر جاری رکھتی ہے جہاں آزادی کے راستے محدود کر دیے گئے ہوں۔ المسجد الاول اپنے قیام کے بعد کیپ ٹاؤن کی مسلم برادری کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم مرکز بن گئی۔ یہاں عبادت کے ساتھ دینی تعلیم کا سلسلہ بھی وابستہ رہا۔ اس مسجد نے مسلمانوں کو اپنے عقائد، مذہبی روایات اور معاشرتی تعلقات برقرار رکھنے میں مدد دی۔اس تاریخی ورثے کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام کی تعلیمات نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ مسجد اور مدرسہ محض مذہبی معلومات کی فراہمی کے مراکز نہیں تھے، بلکہ وہ ایسی جگہیں بھی تھے جہاں بچوں اور بڑوں کو اپنی دینی شناخت، اخلاقی اقدار اور اجتماعی ذمہ داریوں سے روشناس کرایا جاتا تھا۔ایک ایکڈیمک کی حیثیت سے اس تاریخ میں میرے لیے ایک خاص معنویت ہے۔ تعلیم کی اصل طاقت صرف نصاب یا درس گاہ کی عمارت میں نہیں ہوتی، بلکہ اس عزم میں ہوتی ہے جس کے تحت ایک معاشرہ اپنے علم، زبان اور اقدار کو اگلی نسل تک منتقل کرتا ہے۔ المسجد الاول کی تاریخ اس اصول کی ایک روشن مثال ہے۔ بوکاپ کے رنگین مکانات سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں آزادی اور شناخت کی تاریخ بھی موجود ہے۔ علاقے کی رنگا رنگ عمارتیں آج اس کی نمایاں پہچان ہیں۔ ان رنگوں کے انتخاب کے بارے میں ایک معروف روایت یہ ہے کہ جب مکانات کو سفید رنگ کی پابندی سے آزادی ملی تو رہائشیوں نے انہیں مختلف شوخ رنگوں میں رنگنا شروع کیا۔ یہاں کی گلیوں میں چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ ثقافت صرف عجائب گھروں میں محفوظ اشیا کا نام نہیں۔ ثقافت ان گھروں میں بھی زندہ رہتی ہے جہاں نسلوں کی یادیں آباد ہوں، ان کھانوں میں بھی جو خاندانی روایت کے ساتھ تیار کیے جائیں، ان زبانوں میں بھی جو گھروں اور محفلوں میں بولی جائیں، اور ان عبادت گاہوں میں بھی جہاں لوگ اپنی روحانی وابستگی کو تازہ کرتے رہیں۔ آسٹریلیا سے افریقہ تک کے اس سفر نے مجھے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت پر غور کرنے کا موقع دیا کہ جغرافیائی فاصلے انسانوں کی مشترکہ اقدار کو محدود نہیں کر سکتے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں آباد معاشرے اپنی اپنی تاریخ، زبان اور ثقافت رکھتے ہیں، لیکن علم، مذہبی آزادی، انسانی وقار اور نئی نسل کی تربیت جیسے سوالات انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔ بوکاپ کی تاریخ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تہذیبی شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے صرف ماضی پر فخر کرنا کافی نہیں؛ اس ورثے کو علم، تعلیم اور عملی زندگی کے ذریعے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔ المسجد الاول کی عمارت آج بھی اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ موجود ہے۔ اس کے درودیوار ہمیں ان لوگوں کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے مشکلات کے باوجود عبادت، تعلیم اور اجتماعی زندگی کے لیے جگہ پیدا کی۔ ان کی جدوجہد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی روحانی اور علمی وابستگی کو وقتی رکاوٹوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔بوکاپ کی رنگین گلیوں اور مسجدِ اوال کی تاریخی فضا سے گزرتے ہوئے یہی احساس دل میں ابھرتا ہے کہ عمارتیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں، لیکن علم، ایمان، استقامت اور آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد تاریخ میں اپنی روشنی برقرار رکھتی ہے۔ |