ماحول کی حفاظت

ماحول کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟اس بارے میں چند احادیث اور قرآنی آیات کے حوالہ جات
ماحول کی حفاظت کے سلسلہ میں ہماری ذمہ داریاں
(سیرت نبوی کی روشنی میں)

ماحول
ماحول سے مراد وہ تمام جاندار اور بے جان عناصر، اثرات اور حالات ہیں جو کسی بھی قسم کے جاندار کو گھیرے ہوئے ہیں ۔یہ عناصر تمام جانداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔خواہ اس میں انسان ہوں یا حیوان یا کوئی اور جاندار مخلوق۔ اس میں بنیادی طور پر ہوا، پانی، مٹی اور سورج کی روشنی شامل ہیں۔

ماحول کے بنیادی اجزاء
1۔حیاتی اجزا
تمام زندہ چیزیں جیسے انسان، جانور، پودے اور بیکٹیریا حیاتی اجزاء میں شمار ہوتے ہیں۔
2غیر حیاتی اجزاء
تمام بے جان عناصر جیسے ہوا، پہاڑ، زمین، اور پانی وغیرہ گھر حیاتی اجزاء میں شمار ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بناکر بھیجا اور ساتھ ساتھ اس پر چند خاص ذمہ داریاں بھی عائد کیں کہ وہ ماحول کی حفاظت کرے۔ ماحول کی حفاظت انسان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اور سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں درخت لگانے، گندگی پھیلانے سے منع کرنے اور پانی بچانے کے سنہری اصول سکھاتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَلَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا سورہ الاعراف 56
ترجمہ:
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد( بگاڑ) مت کرو۔1
اللہ نے زمین کو رہنے کے لائق اور متوازن بنایا ہے،اس میں آلودگی پھیلانا یا اس کے قدرتی حسن کو نقصان پہنچانا اس کے حکم کے خلاف ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اَلَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ص وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ‘‘سورہ البقرہ 22
’’جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے تمہارے لیے پھل پیدا کیے جو تمہارے لیے رزق ہیں تو اللہ کیلئے شریک نہ ٹھہراؤ حالانکہ تم جانتے ہو‘‘-2
اس آیت مبارکہ میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ اللہ کی دی گئی نعمتوں کی قدر کریں اور اس کی ذات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
اللہ تعالیٰ نے پانی کو اپنی عظیم نعمتوں میں شمار کیا ہے قرآن کریم میں فرمایا گیا :
’’وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ط اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ‘‘سورہ الانبیاء 30
’’اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے- تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے‘‘-3
اس آیت مبارکہ سے واضح ہے کہ پانی زندگی کی بقاء کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اس کی حفاظت ہمارا دینی اور معاشرتی فریضہ ہے-
جانوروں کا تحفظ اور حقوق :
قرآن کریم میں جانوروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی وضاحت کے لیے کئی آیات مبارکہ موجود ہیں- جن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انسان اپنی طاقت کا ناجائز استعمال نہ کرے اور جانوروں کے ساتھ رحم دلی اور حسن سلوک سے پیش آئے -
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْط مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ‘‘الانعام 38
’’اور زمین پر چلنے والے کسی جاندار اور اپنے دو پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو یہ سب تمہاری طرح امتیں ہیں ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کیے جائیں گے‘‘-4
جانور بھی اللہ کی تخلیق کا حصہ ہیں اور وہ بھی اللہ کی مخلوق میں شامل ہیں - حضور نبی کریم (ﷺ)نے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق پر زور دیا ہے-

ماحول کی حفاظت آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق
ماحول کے تحفظ کا بہترین نمونہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ ہے۔ اسلام میں پانی کو ایک عظیم نعمت مانا گیا ہے اور اس کے اسراف پر سخت ممانعت ہے۔
آپ ﷺ پانی کو ضائع کرنے سے منع فرماتے تھے، یہاں تک کہ بہتے ہوئے دریا کے کنارے پر بھی ضرورت سے زیادہ پانی استعمال نہ کرنے کی تلقین فرمائی۔
حدیث مبارکہ میں بیان فرمایا گیا ہے کہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ:" مَا هَذَا السَّرَفُ"؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ".5
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسا اسراف ہے؟“، انہوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو“
حضرت محمدﷺ نے درخت لگانے کی بہت فضیلت بیان فرمائی۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص درخت لگاتا ہے اور اس سے انسان، جانور یا پرندے فائدہ اٹھائیں تو یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
حدیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ" 6
ترجمہ:
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودا لگاتا ہے اور اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو لگانے والے کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
آج ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور پانی کے ضیاع جیسے مسائل پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اگر ہم سیرتِ نبوی ﷺ پر عمل کریں، صفائی کا خیال رکھیں، درخت لگائیں، پانی کی بچت کریں اور قدرتی وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کریں تو ہم اپنے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
ماحول اور قدرت کی حفاظت اور ہر جاندار و بے جان شے کی اہمیت کے حوالے سے علامہ اقبال کی مشہور نظم "ایک پہاڑ اور گلہری " کے یہ اشعار انتہائی معروف ہیں، جو قدرت کے کارخانے میں ہر شے کی اہمیت و افادیت کا درس دیتے ہیں:
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے اپنے ماحول کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
1۔سورہ الاعراف 56
2۔سورہ البقرہ 22
3۔سرہ الانبیاء 30
4۔الانعام 38
5۔صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6012]
6۔سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 425]

 

Saima Shoaib
About the Author: Saima Shoaib Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.