قرآن پڑھنے والوں کو سمجھنے والے بناؤ
(Dr shaikh wali khan almuzaffar, Islamabad)
|
نور اے آئی (NorAI)
قرآن کی روشنی سے مصنوعی ذہانت کے عہد تک — ایک عالمی تعلیمی انقلاب
ہم قرآن پڑھنے والی امت کو قرآن سمجھنے والی امت بنانا چاہتے ہیں!
بقلم و خطاب: ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر صدر جامعہ اللغة العربية المفتوحة، پاکستان مستشار جامعہ الغزالی و جامعہ الرشید، کراچی المشرف العلمي الأعلى والمجيز النهائي للمحتوى العلمي لمنصة NorAI العالمية
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله الذي أنزل القرآن هدى للناس وبينات من الهدى والفرقان، والصلاة والسلام على سيدنا محمد، معلّم البشرية وهادي الإنسانية، وعلى آله وصحبه أجمعين.
معزز علمائے کرام، قابلِ احترام اساتذۂ جامعات، دانش ورانِ ملت، عزیز نوجوانو اور مستقبل کے معمارو!
آج میں آپ کے سامنے کسی معمولی موبائل ایپلیکیشن کا تعارف پیش کرنے نہیں آیا۔
میں آپ کے سامنے ایک خواب، ایک عزم، ایک عالمی تعلیمی تحریک اور ایک ایسے فکری انقلاب کا منشور پیش کرنے آیا ہوں جس کا مقصد صرف ٹیکنالوجی کو ترقی دینا نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کو قرآنِ کریم کی خدمت میں پیش کرنا ہے!
اس انقلاب کا نام ہے: نور اے آئی — NorAI!
آج دنیا مصنوعی ذہانت کے ایک حیرت انگیز عہد میں داخل ہو چکی ہے۔ انسان مشینوں کو بولنا سکھا رہا ہے، انہیں لکھنا سکھا رہا ہے، انہیں سوچنے اور تجزیہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔
لیکن میں آج ایک سوال کرنا چاہتا ہوں:
جب انسان مشین کو اپنی زبان سکھا سکتا ہے تو کیا ہم کروڑوں انسانوں کو قرآن کی زبان نہیں سکھا سکتے؟
جب مصنوعی ذہانت دنیا کی تجارت، طب، صنعت اور سیاست میں انقلاب برپا کر سکتی ہے تو کیا یہی ٹیکنالوجی قرآنِ کریم کی تعلیم، عربی زبان کی تفہیم اور اسلامی علوم کی ترویج میں ایک نئی تاریخ رقم نہیں کر سکتی؟
یقیناً کر سکتی ہے!
اور یہی وہ عظیم تصور ہے جس سے نور اے آئی نے جنم لیا ہے۔
ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟
عزیزانِ گرامی!
ہمارے گھروں میں قرآن موجود ہے، ہماری مساجد میں قرآن پڑھا جاتا ہے، ہمارے مدارس میں قرآن حفظ کیا جاتا ہے، ہمارے اجتماعات میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں۔
لیکن ایک سوال ہمیں اپنی ذات سے پوچھنا ہوگا:
ہم میں سے کتنے لوگ قرآن پڑھتے ہوئے یہ جانتے ہیں کہ ان کا رب ان سے کیا فرما رہا ہے؟
ہم تلاوت کرتے ہیں، لیکن کتنے الفاظ سمجھتے ہیں؟
ہم نماز پڑھتے ہیں، لیکن کتنے معانی ہمارے دل و دماغ میں اترتے ہیں؟
ہم قرآن کی عظمت پر تقریریں کرتے ہیں، لیکن قرآن کی زبان کو عام کرنے کے لیے ہماری عملی کوششیں کہاں ہیں؟
یہ سوال محض علمی نہیں، یہ ہماری نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے!
قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، کتابِ ہدایت بھی ہے؛ صرف برکت کا سرچشمہ نہیں، انسانی زندگی کی رہنمائی کا الٰہی دستور بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾
کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟
اسی لیے میں برسوں سے کہتا آیا ہوں:
قرآن اور عربی کو ایک دوسرے سے جدا کر کے نہیں پڑھایا جا سکتا۔ قرآن فہمی کے لیے عربی بنیادی وسیلہ ہے، اور عربی کی تعلیم کے لیے قرآن سب سے عظیم سرچشمہ ہے۔
نور اے آئی کیا ہے؟
نور اے آئی محض ڈیجیٹل کتاب نہیں، صرف تلاوت سننے کا پروگرام نہیں، اور نہ ہی سوالات کے خودکار جوابات دینے والی کوئی مذہبی مشین ہے۔
یہ قرآنِ کریم اور بنیادی اسلامی تعلیمات سیکھنے کا ایک منظم، مرحلہ وار، بصری، صوتی اور تفاعلی تعلیمی نظام ہے۔
اس کے تعلیمی خاکے میں قرآن سیکھنے کے بیس تدریجی درجات شامل ہیں، جنہیں مرحلہ وار متعارف کرایا جانا ہے۔
اس میں طالب علم صرف الفاظ دیکھتا نہیں، انہیں سنتا، پہچانتا، ادا کرتا، لکھتا، ملاتا اور دہراتا بھی ہے۔
اس میں بصری تعلیم ہے، درست ادائیگی کی رہنمائی ہے، مستند آڈیو ہے، تحریری مشق ہے، الفاظ کی پہچان ہے، اور سیکھے ہوئے علم کو مضبوط کرنے کا تفاعلی نظام ہے۔
اس کا تصور یہ ہے کہ تعلیم محض حافظے کا بوجھ نہ رہے، بلکہ دلچسپی، مشق، فہم اور تدریجی ترقی کا ایک خوش گوار سفر بن جائے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر، اس کے تعلیمی منصوبے میں نماز، طہارت، روزہ، زکوٰۃ، حج، ایمان، مسنون دعاؤں اور اسمائے حسنیٰ کی بنیادی تعلیمات بھی شامل ہیں۔
گویا مقصد صرف قرآن کی زبان سے آشنائی نہیں، بلکہ انسان کی دینی زندگی کو علم اور فہم سے آراستہ کرنا ہے۔
مصنوعی ذہانت خادم ہوگی، حاکم نہیں!
محترم حضرات!
یہاں میں ایک نہایت اہم اصول واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
میں بحیثیت علمی نگران اور حتمی علمی منظوری کا ذمہ دار، یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ:
ہم مصنوعی ذہانت کو قرآن کا مفسرِ مستقل، شریعت کا مفتی، یا علمائے امت کا متبادل نہیں بنانا چاہتے۔
ہرگز نہیں!
ہمارا اصول بالکل واضح ہے:
قرآن اصل ہے، سنت رہنما ہے، معتبر علمی روایت بنیاد ہے، علماء نگران ہیں اور مصنوعی ذہانت صرف معاون ہے۔
ٹیکنالوجی تعلیم میں سہولت پیدا کر سکتی ہے، مگر وحی کی جگہ نہیں لے سکتی۔
مصنوعی ذہانت سیکھنے کی رفتار بہتر بنا سکتی ہے، لیکن دینی احکام خود سے وضع نہیں کر سکتی۔
وہ طالب علم کو مشق کرا سکتی ہے، مگر مستند تفسیر اور علمی تحقیق کا متبادل نہیں بن سکتی۔
اسی لیے نور اے آئی میں علمی مراجعت، مستند مآخذ، مواد کی جانچ اور اشاعت سے پہلے منظوری کے اصول کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
ہمیں ایسی مصنوعی ذہانت نہیں چاہیے جو اپنی طرف سے دین بنائے؛ ہمیں ایسی ٹیکنالوجی چاہیے جو انسان کو دین کے مستند علم تک پہنچنے میں مدد دے۔
یہی نور اے آئی کی علمی شناخت ہے، یہی اس کی ذمہ داری اور یہی اس کے اعتماد کی بنیاد ہے۔
مدرسے سے موبائل تک، اور موبائل سے پوری دنیا تک!
سامعینِ محترم!
ایک زمانہ تھا جب علم کے حصول کے لیے انسان میلوں کا سفر کرتا تھا۔
آج علم انسان کی جیب میں موجود ایک چھوٹی سی اسکرین تک پہنچ سکتا ہے۔
تو کیوں نہ ہم اس اسکرین کو قرآن کی تعلیم کا ذریعہ بنا دیں؟
کیوں نہ پاکستان کے کسی دور افتادہ گاؤں کا بچہ، افریقہ کے کسی علاقے کا نوجوان، یورپ میں رہنے والا کوئی مسلمان خاندان اور امریکہ کی کسی یونیورسٹی کا طالب علم اپنی سہولت کے مطابق قرآن کی زبان سیکھ سکے؟
کیوں نہ ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ عربی کے الفاظ سیکھے؟
کیوں نہ ایک ماں اپنے گھر میں قرآن فہمی کی نئی روایت قائم کرے؟
کیوں نہ مدارس کے اساتذہ جدید تدریسی وسائل سے فائدہ اٹھائیں؟
اور کیوں نہ ہماری جامعات، عربی زبان اور قرآنی تعلیم کو جدید تدریسی تحقیق کے ساتھ مربوط کریں؟
ہم مدرسے کو موبائل سے بدلنا نہیں چاہتے؛ ہم مدرسے اور استاد کی علمی روشنی کو موبائل کے ذریعے مزید انسانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں!
یہی ہمارا تعلیمی انقلاب ہے۔
بیس ملین انسانوں کا خواب!
میں آج اس اجتماع کے سامنے اپنے ایک عظیم خواب کا اعلان کرتا ہوں۔
ہماری خواہش ہے کہ نور اے آئی کی اس تعلیمی تحریک سے دنیا کے دو کروڑ، یعنی بیس ملین انسان مستفید ہوں۔
یہ ہمارا ہدف ہے، حاصل شدہ کامیابی کا دعویٰ نہیں۔
لیکن ہماری آرزو محض صارفین کی تعداد بڑھانا نہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ کروڑوں انسان قرآن کی زبان سے واقف ہوں، لاکھوں گھرانوں میں قرآن فہمی کا چراغ روشن ہو، اور ہزاروں تعلیمی ادارے عربی و قرآنی تعلیم کے اس نئے سفر میں شریک ہوں۔
ہم ایک ایسی نسل دیکھنا چاہتے ہیں جو قرآن کی تلاوت بھی کرے، اس کے معانی بھی سمجھے، اس میں تدبر بھی کرے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بھی بنائے۔
ہماری منزل بیس ملین ڈاؤن لوڈز نہیں، بیس ملین انسانوں کے لیے علم و ہدایت کی راہیں آسان کرنا ہے!
علمائے کرام اور جامعات سے میری اپیل
میں آج عالمِ اسلام کے علماء، شیوخ، اساتذہ، محققین، جامعات کے سربراہان اور مدارس کے ذمہ داران سے مخاطب ہوں۔
آئیے!
ہم اس عہد میں صرف ٹیکنالوجی کے تماشائی نہ رہیں، بلکہ اس کے اخلاقی اور علمی رہنما بنیں۔
ہمیں ایسے ماہرینِ عربی کی ضرورت ہے جو زبان کی صحت کی حفاظت کریں۔
ایسے قراء اور ماہرینِ تجوید کی ضرورت ہے جو تلفظ کی صحت کو یقینی بنائیں۔
ایسے علماء کی ضرورت ہے جو دینی مواد کی تحقیق و مراجعت کریں۔
ایسے ماہرینِ تعلیم کی ضرورت ہے جو تعلیم کو بچوں اور بڑوں کے لیے آسان اور مؤثر بنائیں۔
اور ایسے ٹیکنالوجی ماہرین کی ضرورت ہے جو اس علمی ورثے کو جدید دنیا کی ضروریات کے مطابق قابلِ رسائی بنائیں۔
اگر عالم اور انجینئر ایک دوسرے کے معاون بن جائیں، تو علم و ٹیکنالوجی کی یہ رفاقت انسانی تعلیم کا ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔
نور اے آئی اسی رفاقت کی ایک عملی کوشش ہے۔
اس موقع پر میں اس منصوبے کے لیے محنت کرنے والے حافظ سمیع اللہ درانی اور ان کے رفقائے کار کی کاوشوں کو سراہتا ہوں، اور اس علمی پروگرام کے منتظم ڈاکٹر زاہد عبدالشاہد سمیت تمام معزز علماء اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ہمارا انقلابی اعلان
معزز حاضرین!
ہم آج یہ اعلان کرتے ہیں کہ:
قرآن کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں، تمام انسانیت کے لیے اللہ کا پیغام ہے۔
عربی کسی ایک نسل کا امتیاز نہیں، بلکہ ایک عظیم عالمی علمی و تہذیبی زبان ہے۔
علم چند مخصوص طبقوں کی میراث نہیں، انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔
اور ٹیکنالوجی کا عظیم ترین استعمال وہ ہے جو انسان کو علم، اخلاق، خیر اور ہدایت سے قریب کر دے۔
میں چاہتا ہوں کہ نور اے آئی کی یہ تحریک اس پیغام کے ساتھ دنیا بھر میں پہنچے:
ہر گھر میں قرآن!
ہر دل میں قرآن کی محبت!
ہر زبان پر عربی سیکھنے کی کوشش!
ہر طالب علم کے لیے جدید اور آسان تعلیم!
اور ہر تعلیمی مرحلے میں علمی صحت، اخلاقی ذمہ داری اور مستند رہنمائی!
آخری پیغام: مستقبل ہمارا منتظر ہے!
میرے عزیزو!
آنے والی نسلیں ہم سے یہ نہیں پوچھیں گی کہ ہمارے دور میں مصنوعی ذہانت کتنی طاقت ور تھی۔
وہ پوچھیں گی کہ جب یہ طاقت ہمارے ہاتھ میں آئی تو ہم نے انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے اس سے کیا فائدہ اٹھایا؟
وہ پوچھیں گی کہ ہم نے ٹیکنالوجی سے صرف تجارت کی، یا علم کے چراغ بھی روشن کیے؟
ہم نے صرف دنیا کو مشینوں سے جوڑا، یا انسانوں کو اپنے رب کے کلام سے بھی قریب کیا؟
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا جواب تاریخ میں محفوظ ہو:
ہم نے مصنوعی ذہانت کو قرآن کا خادم بنانے کی کوشش کی تھی!
ہم نے عربی زبان کو عام کرنے کے لیے جدید ذرائع اختیار کیے تھے!
ہم نے استاد کی عظمت کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم کے نئے دروازے کھولے تھے!
اور ہم نے یہ خواب دیکھا تھا کہ دنیا کے ہر انسان تک قرآن اور عربی کا راستہ آسان بنایا جائے!
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾
اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کر دیا، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
آئیے، ہم اس الٰہی دعوت کی خدمت کے لیے علم، تدریس، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائیں۔
نور اے آئی محض ایک ایپ نہیں، ایک تعلیمی عزم ہے!
نور اے آئی محض ایک پلیٹ فارم نہیں، قرآن فہمی کی عالمی تحریک کا خواب ہے!
نور اے آئی محض مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں، علم و ہدایت کی خدمت کے لیے ٹیکنالوجی کو ذمہ دار بنانے کی کوشش ہے!
اور ہمارا پیغام پوری دنیا کے لیے ہے:
قرآن سیکھیں، عربی سمجھیں!
عربی سیکھیں، قرآن سے قریب ہوں!
ٹیکنالوجی کو علم و ہدایت کی خدمت میں لائیں!
من كراتشي إلى العالم، ومن لغة القرآن إلى قلوب الإنسان!
NorAI — قرآن کی روشنی، عربی کی عظمت، ٹیکنالوجی کی طاقت، انسانیت کی خدمت!
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر المشرف العلمي الأعلى لمنصة NorAI العالمية کراچی، پاکستان |