چین میں سائنسی جدت سے صنعتی ترقی تک کا سفر
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں سائنسی جدت سے صنعتی ترقی تک کا سفر تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
سائنسی تحقیق کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب نئی دریافتیں انسانی زندگی میں بہتری لانے، صنعتوں کو جدید بنانے اور معیشت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ بنیں۔ چین میں حالیہ برسوں کے دوران خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت، طبی ٹیکنالوجی اور انتہائی درست پیمائش کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت سائنسی جدت کو معاشی ترقی کی بنیادی قوت بنایا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کو چین میں ’’نئی معیاری پیداواری قوتوں‘‘ کی ترقی کا نام دیا گیا ہے۔ نئی معیاری پیداواری قوتوں سے مراد ایسی جدید پیداواری صلاحیت ہے جو روایتی ترقیاتی طریقوں سے آگے بڑھتے ہوئے اعلیٰ ٹیکنالوجی، زیادہ کارکردگی اور بہتر معیار پر مبنی ہو۔
جون 2024ء میں چین کے چھانگ عہ۔6 مشن نے چاند کے دور دراز حصے سے پہلی مرتبہ نمونے زمین پر پہنچائے۔ اس کامیابی کے چند ماہ بعد چینی کمپنی ڈیپ سیک کے آر۔1 ماڈل نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی توجہ حاصل کی۔ 2026ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ مارچ میں چین نے ایک کمپنی کے تیار کردہ برین کمپیوٹر انٹرفیس پر مبنی طبی آلے کو مارکیٹ میں استعمال کرنے کی منظوری دی، جبکہ حال ہی میں سائنسی جریدے نیچر میں چینی سائنس دانوں کی جانب سے تیار کردہ ایسے نیوکلیئر کلاک پر تحقیق شائع ہوئی جو مستحکم طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں سیٹلائٹ نیویگیشن اور خلائی تحقیق میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انفرادی شعبوں میں ہونے والی کامیابیوں کو وسیع تر معاشی ترقی میں تبدیل کرنا چین کی موجودہ پالیسی کا بنیادی مقصد ہے۔ چین کے پاس اقوام متحدہ کی صنعتی درجہ بندی کے مطابق تمام صنعتی شعبوں پر مشتمل ایک مکمل صنعتی نظام موجود ہے، لیکن آبادیاتی تبدیلیوں، وسائل کی حدود اور ماحولیاتی دباؤ جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔ بعض اہم ٹیکنالوجیز میں بیرونی انحصار اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا تکنیکی مقابلہ بھی جدت پر مبنی ترقی کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔ نئی معیاری پیداواری قوتوں کے تصور کا مطلب روایتی صنعتوں کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ انہیں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ رہنما ہدایات میں ’’پرانے کو ختم کرنے سے پہلے نیا قائم کرنے‘‘ کے اصول پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ایسے منصوبوں سے بچنا ہے جو مقامی ضروریات اور حقیقی حالات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں، نیز اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نئی صنعتوں کے فروغ کے ساتھ موجودہ صنعتی شعبوں کی ترقی اور جدید کاری بھی جاری رہے۔ تحقیق کو عملی پیداوار میں تبدیل کرنا اس پورے عمل کی اہم کڑی ہے۔ مارچ 2026ء میں مارکیٹ میں استعمال کی منظوری حاصل کرنے والا برین کمپیوٹرانٹرفیس پر مبنی طبی آلہ اس کی ایک مثال ہے۔ یہ آلہ دماغی اعصابی اشاروں کو سمجھ کر ایک نیومیٹک دستانے تک احکامات پہنچاتا ہے، جس سے گردن کے حصے میں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں کا سامنا کرنے والے اہل مریض ہاتھ سے چیزیں پکڑنے جیسی حرکات انجام دے سکتے ہیں۔ اس کی منظوری تحقیق کو عملی طبی استعمال تک پہنچانے میں ایک اہم قدم ہے۔
تاہم، مسلسل ترقی کے لیے صرف کامیاب مصنوعات اور تیزی سے بڑھتی صنعتیں کافی نہیں۔ بنیادی سائنسی تحقیق، مالی معاونت، ادارہ جاتی اصلاحات اور نئی ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔ چین کی اعلیٰ قیادت نے بنیادی تحقیق کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی تحقیق کے نتائج فوری طور پر تجارتی فائدہ نہ بھی دیں، تب بھی وہ مستقبل کی صنعتوں اور نئی دریافتوں کی بنیاد بنتے ہیں۔
چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کو اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اقتصادی اور سائنسی نظام میں اصلاحات، مارکیٹ تک رسائی کے قواعد میں بہتری اور نئی ٹیکنالوجیز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
اس حکمت عملی میں عالمی تعاون کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ چینی قیادت نے ڈیجیٹل، ذہین اور ماحول دوست ترقی کو فروغ دینے، اوپن سورس ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے اور جدت کے لیے کھلا و مسابقتی ماحول تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔تاہم ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے عالمی نیٹ ورکس، سرحد پار تعاون اور علم و تجربے کا تبادلہ ناگزیر ہیں۔
چین کی نئی صنعتی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ سائنسی دریافتوں کو صنعتی ترقی، بہتر مصنوعات اور معاشی پیداواری صلاحیت میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے روایتی صنعتوں کی جدید کاری، مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری، بنیادی تحقیق اور عالمی تعاون کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جدت کے ثمرات کتنی مؤثر انداز میں صنعتوں اور معاشرے تک پہنچتے ہیں اور ترقی کا یہ عمل کس حد تک پائیدار ثابت ہوتا ہے۔ |
|