NorAi تعریفی پروگرام مونیکا سینٹورس اسلام آباد
(Dr wali khan almuzaffar, Islamabad)
|
قرآن پڑھنے والی امت کو قرآن سمجھنے والی امت بنانا ہوگا!
مصنوعی ذہانت، عربی زبان اور نور AI کے ذریعے ایک نئے قرآنی عہد کی طرف
بقلم و خطاب: ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر مستشارِ رئیس جامعہ الغزالی، کراچی صدر، جامعہ اللغة العربية المفتوحة، پاکستان علمی سرپرست، منصة نور آيه آئي العالمية (NorAI)
بمناسبت: تعارفی اجتماعِ نور AI 29 اکتوبر 2026ء — مووین پک ہوٹل، اسلام آباد
---
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله الذي أنزل القرآن بلسان عربي مبين، وجعله هدى للناس وبيّنات من الهدى والفرقان، والصلاة والسلام على سيدنا محمد، الذي علّم الأمة الكتاب والحكمة، وعلى آله وصحبه أجمعين.
معزز اساتذۂ جامعات، محترم ڈاکٹر صاحبان، علمائے کرام، مشائخِ عظام، اربابِ فکر و دانش، عزیزانِ گرامی!
آج میں آپ کے سامنے ایک ادارے کی تعریف کرنے، ایک ڈیجیٹل ایپلیکیشن کی تشہیر کرنے یا مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیزیوں کی داستان سنانے کے لیے نہیں کھڑا ہوا۔
میں آج ایک سوال لے کر آیا ہوں!
ایک ایسا سوال جو ہماری مسجدوں سے متعلق ہے، ہمارے مدرسوں سے متعلق ہے، ہماری یونیورسٹیوں سے متعلق ہے، ہمارے گھروں سے متعلق ہے، اور سب سے بڑھ کر ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل سے متعلق ہے۔
آخر کب تک ہم قرآن مجید کی تلاوت کرنے والی امت تو رہیں گے، مگر اس کے معانی و مطالب سے براہِ راست واقف ہونے والی امت بننے کے لیے ایک ہمہ گیر تعلیمی تحریک برپا نہیں کریں گے؟
یہ سوال کسی کی تلاوت، حفظ یا تجوید کی عظمت کو کم کرنے کے لیے نہیں ہے۔
ہرگز نہیں!
تلاوت عبادت ہے، حفظ سعادت ہے، تجوید قرآن کا حسن ہے، اور قرآنی تعلیم ہماری دینی روایت کا درخشاں سرمایہ ہے۔
لیکن کیا تلاوت کے ساتھ فہم، حفظ کے ساتھ تدبر، اور قراءت کے ساتھ شعور بھی ہماری اجتماعی ترجیح نہیں ہونا چاہیے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ (سورۃ ص: 29)
یہ مبارک کتاب اس لیے نازل ہوئی کہ اس کی آیات میں تدبر کیا جائے، اور عقل و بصیرت رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
غور کیجیے!
قرآن نے صرف تلاوت کا مطالبہ نہیں کیا، تدبر کی دعوت بھی دی ہے۔
اس نے صرف الفاظ سنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انسان کے فکر و شعور، کردار و عمل اور زندگی کے نظام کو بدلنے کا پیغام دیا ہے۔
اور اسی مقام پر آج ہماری گفتگو کا اصل موضوع شروع ہوتا ہے۔
نور AI: ایک ایپلیکیشن نہیں، ایک تعلیمی تصور!
آج دنیا مصنوعی ذہانت کے ایک حیرت انگیز عہد میں داخل ہوچکی ہے۔
مشینیں انسان کی زبان سمجھنے لگی ہیں، انسان کی گفتگو کا جواب دینے لگی ہیں، علوم کی ترتیب و تنظیم میں معاون بن رہی ہیں، اور تعلیم و تحقیق کے ایسے امکانات پیدا کر رہی ہیں جن کا چند عشرے پہلے تصور بھی مشکل تھا۔
لیکن میرا سوال یہ ہے:
اگر مصنوعی ذہانت دنیا کی تجارت بدل سکتی ہے، صنعت بدل سکتی ہے، طب اور انجینئرنگ کے طریقے بدل سکتی ہے، تو کیا ہم اسے قرآن مجید اور عربی زبان کی تعلیم کو آسان اور عام کرنے کے لیے استعمال نہیں کرسکتے؟
اگر ایک طالب علم موبائل فون کی مدد سے دنیا کی مختلف زبانیں سیکھ سکتا ہے تو وہ اسی موبائل کی مدد سے قرآن مجید کی زبان کیوں نہیں سیکھ سکتا؟
اگر جدید ٹیکنالوجی فاصلے مٹا سکتی ہے تو ایک پاکستانی، افغانی، ترکی، ملائیشیائی یا افریقی مسلمان کے لیے عربی زبان کی تعلیم کے فاصلے کیوں باقی رہیں؟
اگر علم دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چند لمحوں میں پہنچ سکتا ہے تو قرآن کی زبان کے دروازے ہر گھر اور ہر طالب علم کے لیے کیوں نہ کھول دیے جائیں؟
یہی وہ بنیادی فکر ہے جس کے تحت منصة نور آيه آئي العالمية (NorAI) کو ایک عالمی قرآنی و لسانی تعلیمی منصوبے کی صورت میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
اس کا مقصد محض جدید ٹیکنالوجی سے متاثر ہونا نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کو ایک عظیم علمی اور دینی مقصد کی خدمت میں استعمال کرنا ہے۔
ہم مشین کو قرآن کا حاکم نہیں بنانا چاہتے۔
ہم مشین کو قرآن کی تعلیم کا خادم بنانا چاہتے ہیں!
ہم مصنوعی ذہانت کو علمائے امت کا متبادل نہیں سمجھتے۔
ہم اسے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے ایک مؤثر معاون بنانا چاہتے ہیں۔
کیونکہ ہمارے نزدیک:
ٹیکنالوجی وسیلہ ہے، وحی معیار ہے؛ مصنوعی ذہانت معاون ہے، مستند علمِ دین کی حاکم نہیں!
قرآن عربی میں کیوں نازل ہوا؟
محترم حاضرین!
ہمارا دوسرا بڑا سوال عربی زبان سے متعلق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ (سورۃ یوسف: 2)
ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا، تاکہ تم سمجھو۔
اس آیت میں قرآن کے عربی ہونے کے ذکر کے ساتھ عقل و فہم کی دعوت بھی موجود ہے۔
قرآن کی زبان عربی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زبان عربی تھی۔
حدیث نبوی کا عظیم ذخیرہ عربی میں ہے۔
تفسیر، فقہ، اصول، سیرت، لغت اور اسلامی تہذیب کے بنیادی مصادر کا بڑا حصہ عربی میں محفوظ ہے۔
تو پھر یہ کیسا تعلیمی المیہ ہے کہ کروڑوں مسلمان قرآن سے عقیدت رکھتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے ہیں، اس کے احترام میں کھڑے ہوجاتے ہیں، لیکن اس کی زبان سمجھنے کی سعادت سے محروم رہتے ہیں؟
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر مسلمان مفسر بن جائے، ہر طالب علم مجتہد بن جائے، یا ہر گھر میں عربی ادب کا ایک امام پیدا ہوجائے۔
میرا مطالبہ اس سے کہیں زیادہ سادہ، فطری اور قابلِ عمل ہے۔
ہر مسلمان کو اتنی عربی ضرور سکھائی جائے کہ وہ قرآن کے بنیادی الفاظ، عام تراکیب اور روزمرہ قرآنی تعبیرات کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرسکے۔
یہ ایک تعلیمی حق ہے۔
یہ ایک دینی ضرورت ہے۔
اور یہ ایک ایسا مقصد ہے جس کے لیے ہماری مسجدیں، مدرسے، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور ڈیجیٹل ادارے سب متحد ہوسکتے ہیں۔
میں برسوں سے یہ بات کہتا آیا ہوں:
العربية حقٌّ لكل إنسان!
عربی ہر انسان کا حق ہے۔
اور آج اس میں ایک جملہ مزید شامل کرنا چاہتا ہوں:
وتعليمُ لغةِ القرآن مسؤوليةٌ حضاريةٌ مشتركة!
قرآن کی زبان سکھانا ہماری مشترکہ تہذیبی ذمہ داری ہے۔
مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، ترجیحات کا ہے!
معزز سامعین!
ہم ایک عجیب تعلیمی تضاد کے شکار ہیں۔
ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون موجود ہیں۔
ہمارے نوجوان دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے واقف ہو رہے ہیں۔
ہم ڈیجیٹل تفریح، سوشل میڈیا اور مختلف ایپلیکیشنز کے استعمال پر روزانہ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔
لیکن اسی ٹیکنالوجی کو منظم انداز میں قرآن فہمی اور عربی زبان کی تعلیم کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں ابھی ہماری ضرورت کے مقابلے میں بہت محدود ہیں۔
ذرا تصور کیجیے!
ایک بچہ صبح بیدار ہوتا ہے، موبائل کھولتا ہے، چند منٹ قرآن کی عربی سیکھتا ہے، ایک آیت کے بنیادی الفاظ سمجھتا ہے، ان کا صحیح تلفظ سنتا ہے، پھر اپنی آواز میں دہراتا ہے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے۔
ایک معمر شخص جسے کسی باقاعدہ ادارے میں داخلے کی سہولت نہیں، اپنے گھر میں بیٹھ کر قرآن کی زبان سیکھنے لگتا ہے۔
ایک پاکستانی ماں اپنے بچوں کے ساتھ عربی کے بنیادی الفاظ یاد کرتی ہے۔
ایک دیہاتی طالب علم، جس کے علاقے میں عربی زبان کے ماہر اساتذہ کم ہیں، جدید تعلیمی وسائل کی مدد سے اپنی استعداد بڑھاتا ہے۔
ایک غیر عرب مسلمان قرآن مجید کو صرف ثواب کی نیت سے نہیں، فہم و تدبر کے شوق سے بھی پڑھنے لگتا ہے۔
کیا یہ خواب ناقابلِ تعبیر ہے؟
نہیں!
یہ وہ تعلیمی امکان ہے جسے درست نصاب، مستند علمی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی اور اجتماعی کوشش سے حقیقت بنایا جاسکتا ہے۔
اور نور AI کے سامنے یہی عظیم میدان کھلا ہوا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ساتھ علمی امانت بھی ضروری ہے!
یہاں میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن بات کہنا چاہتا ہوں۔
قرآن مجید عام معلومات کی کتاب نہیں۔
یہ وحیِ الٰہی ہے۔
اس کے الفاظ، معانی، قراءات، تفسیری مباحث اور شرعی احکام غیر معمولی علمی احتیاط کے متقاضی ہیں۔
مصنوعی ذہانت خواہ کتنی ہی ترقی کرجائے، اس کے نتائج میں غلطی، التباس اور غیر مستند معلومات کا امکان برقرار رہتا ہے۔
اس لیے اگر ہم قرآن مجید کی تعلیم میں AI استعمال کر رہے ہیں تو ہمارے سامنے ایک ناقابلِ تغیر اصول ہونا چاہیے:
جدید ترین ٹیکنالوجی، مگر مستند ترین علمی نگرانی!
قرآن کا متن مستند ہو۔
ترجمہ معتبر ہو۔
تفسیر قابلِ اعتماد علمی مصادر پر مبنی ہو۔
عربی الفاظ کی صرفی و نحوی توضیحات درست ہوں۔
تعلیمی مواد ماہرین کی نظر سے گزرے۔
اور جہاں مصنوعی ذہانت سے غلطی ہو، وہاں اصلاح اور احتساب کا واضح نظام موجود ہو۔
ہمیں ایسی ٹیکنالوجی نہیں چاہیے جو اپنی رفتار سے ہمیں حیران کردے، مگر اپنی غلطیوں سے اعتماد کو نقصان پہنچائے۔
ہمیں ایسی ٹیکنالوجی چاہیے جو رفتار کے ساتھ صحت، سہولت کے ساتھ امانت اور جدت کے ساتھ علمی وقار کو برقرار رکھے۔
علماء کے بغیر قرآنی AI پر اعتماد نامکمل ہے، اور جدید وسائل سے مکمل بے اعتنائی ہماری تعلیمی استعداد کو محدود کردیتی ہے۔
لہٰذا نہ جدیدیت کے نام پر علمی روایت کو نظرانداز کیا جائے، نہ روایت کے نام پر ہر مفید جدید وسیلے سے منہ موڑا جائے۔
ہماری راہ دونوں کی حکیمانہ ہم آہنگی ہے۔
پاکستان سے دنیا تک: ایک علمی انقلاب کی ضرورت
خواتین و حضرات!
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں قرآن مجید سے محبت زندگی کے ہر شعبے میں محسوس کی جاسکتی ہے۔
یہاں ہزاروں دینی مدارس ہیں، بے شمار مساجد ہیں، حفظ و تجوید کی عظیم خدمات انجام دینے والے ادارے ہیں، اور ایسے جید علماء موجود ہیں جن پر عالمِ اسلام بجا طور پر فخر کرسکتا ہے۔
یہ ہماری قوت ہے۔
لیکن اس قوت کو عربی زبان کی عمومی تعلیم اور جدید تعلیمی ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید مؤثر بنانا وقت کا تقاضا ہے۔
میں ایک ایسا پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں جہاں قرآن کی تعلیم صرف ایک مضمون نہ ہو، بلکہ تربیت اور فہم کا زندہ سرچشمہ ہو۔
جہاں عربی زبان کو محض امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے۔
جہاں طالب علم سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہوئے اس کے بنیادی معانی کو بھی سمجھ سکے۔
جہاں نوجوان قرآن کی آیات کو سن کر ان کے پیغام سے شعوری تعلق قائم کرسکے۔
جہاں یونیورسٹیوں کے ماہرینِ تعلیم، علومِ اسلامیہ کے محققین، عربی زبان کے اساتذہ اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین ایک مشترکہ تعلیمی مشن پر کام کریں۔
اور جہاں ہمارے دینی مدارس جدید ٹیکنالوجی کو اپنے علمی معیار، تربیتی روایت اور روحانی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کرکے نئی نسل کی خدمت کریں۔
ہمیں نہ مدرسے کو یونیورسٹی کا دشمن بنانا ہے، نہ یونیورسٹی کو مدرسے کا حریف!
ہمیں دونوں کی علمی قوتوں کو یکجا کرنا ہے۔
کیونکہ قرآن کسی ایک ادارے کی میراث نہیں۔
عربی کسی ایک طبقے کی جاگیر نہیں۔
اور علم کسی ایک نسل کی ملکیت نہیں۔
نور AI کے سامنے پانچ بڑے اہداف
میری نظر میں اس عالمی تعلیمی منصوبے کی کامیابی کے لیے پانچ ترجیحات نہایت اہم ہیں۔
پہلی ترجیح: قرآن فہمی کی عمومی تحریک۔
قرآن پڑھنے والے ہر مسلمان کو اس کے بنیادی الفاظ اور معانی سمجھنے کے تدریجی مواقع فراہم کیے جائیں۔
دوسری ترجیح: عربی زبان کی آسان اور مرحلہ وار تعلیم۔
ایسا نصاب تیار کیا جائے جو بچوں، نوجوانوں، خواتین، بزرگوں، دینی طلبہ اور عام تعلیم یافتہ افراد کی مختلف ضروریات کا لحاظ رکھتا ہو۔
تیسری ترجیح: علمی صحت اور شرعی اعتماد۔
مستند علماء، مفسرین، عربی زبان کے ماہرین اور متعلقہ محققین کی نگرانی میں مواد تیار، جانچا اور مسلسل بہتر کیا جائے۔
چوتھی ترجیح: جامعات اور مدارس کے ساتھ اشتراک۔
نور AI کو ایک الگ تھلگ ڈیجیٹل منصوبے کے بجائے ایک ایسی تعلیمی تحریک بنایا جائے جس کے ساتھ یونیورسٹیاں، مدارس، مساجد اور علمی ادارے شریکِ کار ہوسکیں۔
پانچویں ترجیح: عالمی رسائی۔
یہ پلیٹ فارم صرف پاکستان کے لیے نہیں، بلکہ عربی سیکھنے اور قرآن کو سمجھنے کے خواہش مند انسانوں کے لیے ایک عالمی خدمت کا ذریعہ بنے۔
ہمیں صرف استعمال کنندگان کی تعداد نہیں بڑھانی؛ ہمیں تعلیمی معیار، حقیقی استفادے اور قرآن فہمی کے نتائج بھی بہتر بنانے ہیں۔
کیونکہ ہماری منزل محض ایک کروڑ افراد تک رسائی حاصل کرنا نہیں ہونی چاہیے۔
ہماری اصل منزل یہ ہونی چاہیے کہ ان افراد کی زندگیوں میں قرآن فہمی کا حقیقی چراغ روشن ہو۔
ڈیجیٹل کامیابی کی پیمائش صرف ڈاؤن لوڈ کی تعداد سے نہیں، بلکہ سیکھنے والوں کی علمی ترقی سے ہونی چاہیے۔
میرے اساتذہ کا خواب اور نئی نسل کی ذمہ داری
آج جب میں عربی زبان اور قرآن کی تعلیم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے کی بات کرتا ہوں تو مجھے اپنے اساتذہ اور اکابر کی علمی جدوجہد یاد آتی ہے۔
بالخصوص میرے استاذ و مربی، عظیم محدث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ، جن کی علمی سرپرستی میں مجھے طویل عرصہ کام کرنے کا موقع ملا۔
ان کی زندگی نے مجھے سکھایا کہ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں؛ امانت ہے، ذمہ داری ہے، دیانت ہے اور مسلسل محنت کا نام ہے۔
میں نے مدارس کی دنیا بھی دیکھی ہے۔
عربی زبان کی تدریس بھی کی ہے۔
علمی و ادبی صحافت سے بھی وابستہ رہا ہوں۔
اور یونیورسٹیوں کے علمی و انتظامی ماحول سے بھی استفادہ کیا ہے۔
اسی تجربے کی بنیاد پر میں پورے یقین سے کہتا ہوں:
اگر ہمارے اکابر نے کتابوں، مدارس اور اساتذہ کے ذریعے علومِ اسلامیہ کی حفاظت کی، تو ہماری نسل کی ذمہ داری ہے کہ انہی علوم کو مستند علمی بنیادوں کے ساتھ جدید دنیا کے قابلِ رسائی تعلیمی وسائل میں بھی منتقل کرے۔
یہ روایت سے بغاوت نہیں۔
یہ روایت کی خدمت کا ایک نیا میدان ہے۔
یہ ماضی سے قطع تعلق نہیں۔
یہ ماضی کے علمی سرمائے کو مستقبل کی ضروریات کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش ہے۔
آج اسلام آباد سے ایک علمی دعوت!
محترم حاضرین!
آج کا اجتماع محض تعارفی نشست بن کر ختم نہیں ہونا چاہیے۔
میں چاہتا ہوں کہ یہاں سے ایک سنجیدہ علمی مکالمے کا آغاز ہو۔
اساتذۂ جامعات آگے بڑھیں۔
عربی زبان کے ماہرین آگے بڑھیں۔
قرآن و حدیث کے علماء آگے بڑھیں۔
مصنوعی ذہانت کے ماہرین آگے بڑھیں۔
اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران آگے بڑھیں۔
ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق اس مشن میں حصہ ڈالے۔
کوئی نصاب کی تشکیل میں تعاون کرے۔
کوئی علمی مواد کی تحقیق و مراجعت میں کردار ادا کرے۔
کوئی جدید تدریسی طریقوں کی نشاندہی کرے۔
کوئی اس منصوبے کو مدارس اور جامعات تک پہنچائے۔
کوئی اس کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مدد دے۔
اور کوئی اس کے تعلیمی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک قابلِ اعتماد نظام تشکیل دے۔
آج میں اس اجتماع کے محترم منتظم و منسق ڈاکٹر زاہد عبدالشاہد صاحب کی کوششوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، جنہوں نے اہلِ علم و دانش کو اس اہم موضوع پر جمع کرنے کا اہتمام کیا۔
یہ اجتماع اسی وقت نتیجہ خیز ہوگا جب اس کے بعد عملی تعاون، علمی مشاورت اور مشترکہ منصوبہ بندی کا سلسلہ شروع ہوگا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ AI کیا کرسکتی ہے!
عزیزانِ ملت!
میں اپنی گفتگو کو ایک آخری سوال پر سمیٹنا چاہتا ہوں۔
دنیا ہم سے پوچھ رہی ہے:
مصنوعی ذہانت کے اس عہد میں آپ کا کردار کیا ہے؟
کیا آپ صرف نئی ٹیکنالوجی کے صارف بن کر رہیں گے؟
کیا آپ دوسروں کے تیار کردہ علمی وسائل سے استفادہ کرنے پر اکتفا کریں گے؟
یا آپ اپنے علمی ورثے، اپنی تہذیبی ضرورتوں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے خود بھی مفید، قابلِ اعتماد اور مؤثر تعلیمی وسائل تیار کریں گے؟
یاد رکھیے!
جو قومیں علم پیدا نہیں کرتیں، وہ دوسروں کے علم کی محتاج رہتی ہیں۔
جو قومیں اپنی تعلیمی ترجیحات خود متعین نہیں کرتیں، ان کی نسلوں کی فکری سمت دوسروں کی ترجیحات سے متاثر ہونے لگتی ہے۔
اور جو قومیں اپنے علمی ورثے کو زمانے کے مفید وسائل کے ساتھ مربوط نہیں کرتیں، ان کے اور نئی نسل کے درمیان تعلیمی فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
لیکن میں مایوس نہیں ہوں۔
میں امید کا پیامبر ہوں!
مجھے یقین ہے کہ ہمارے پاس قرآن ہے۔
ہمارے پاس عربی زبان کا عظیم علمی سرمایہ ہے۔
ہمارے پاس اساتذہ، علماء، حفاظ، قراء، محققین اور ماہرین موجود ہیں۔
ہمارے پاس باصلاحیت نوجوان ہیں۔
اور اب ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے جسے درست منصوبہ بندی کے ساتھ تعلیم کے وسیع تر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ضرورت صرف ایک چیز کی ہے:
واضح نصب العین، مستند علمی قیادت اور مسلسل اجتماعی جدوجہد!
آخری پیغام: قرآن کو صرف ہاتھوں میں نہیں، شعور میں بھی جگہ دیجیے!
میں چاہتا ہوں کہ آج کے اس اجتماع سے ایک آواز بلند ہو۔
ایسی آواز جو اسلام آباد سے کراچی تک پہنچے۔
کراچی سے لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گلگت تک پہنچے۔
پھر پاکستان سے افغانستان، ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ تک پہنچے۔
وہ آواز یہ ہو:
ہر گھر میں قرآن، ہر دل میں قرآن کی محبت، ہر زبان پر قرآن کی تلاوت، اور ہر ذہن میں قرآن کے پیغام کو سمجھنے کی جستجو!
ہم قرآن کی تلاوت ترک کرنے کی دعوت نہیں دیتے؛ ہم تلاوت کے ساتھ تدبر بڑھانے کی دعوت دیتے ہیں۔
ہم حفظ کی عظمت گھٹانا نہیں چاہتے؛ ہم حفظ کے ساتھ فہم کی روشنی بڑھانا چاہتے ہیں۔
ہم علماء کی جگہ مشینیں نہیں بٹھانا چاہتے؛ ہم علماء کی علمی خدمت کو جدید وسائل کے ذریعے زیادہ وسیع اور مؤثر بنانا چاہتے ہیں۔
ہم عربی زبان کو کسی قوم کی لسانی برتری کا عنوان نہیں بنانا چاہتے؛ ہم اسے قرآن فہمی، علمی رابطے اور تہذیبی تعاون کا وسیلہ بنانا چاہتے ہیں۔
اور ہم نور AI کو محض ایک تجارتی یا تکنیکی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے؛ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مستند قرآنی تعلیم اور عربی زبان کی خدمت کا ایک معتبر عالمی وسیلہ بنے۔
ہماری منزل ایک کامیاب ایپ نہیں، ایک باشعور نسل ہے!
ہماری خواہش ایک بڑی ڈیجیٹل تعداد نہیں، قرآن سے مضبوط علمی تعلق ہے!
ہمارا ہدف محض مصنوعی ذہانت کی ترقی نہیں، انسانی فہم و شعور کی ترقی ہے!
اور ہمارے اس پورے سفر کا اصول صرف ایک ہے:
الذكاء الاصطناعي في خدمة القرآن، لا القرآن في خدمة الذكاء الاصطناعي!
مصنوعی ذہانت قرآن کی خدمت میں ہو، قرآن کو مصنوعی ذہانت کے تابع نہ کیا جائے!
آئیے!
ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ قرآن فہمی کو خواص تک محدود نہیں رہنے دیں گے۔
عربی زبان کی تعلیم کو غیر ضروری مشکلات کا اسیر نہیں بننے دیں گے۔
جدید ٹیکنالوجی کو مستند علمی نگرانی سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔
اور اپنی آنے والی نسلوں کو قرآن کی زبان سیکھنے کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔
کیونکہ:
قرآن کا نور قدیم نہیں ہوتا، اس کے ابلاغ کے وسائل بدلتے رہتے ہیں۔
وحی کا پیغام ابدی ہے، تعلیم کے طریقے زمانے کے ساتھ ترقی کرتے رہتے ہیں۔
اور آج ہمیں اسی ابدی پیغام کو جدید ترین مفید وسائل کے ذریعے دنیا تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
میں اپنے خطاب کا اختتام ان چند عربی جملوں پر کرتا ہوں:
نريدُ جيلًا يقرأُ القرآنَ ويفهمُه، ويحفظُه ويتدبَّرُه، ويتعلَّمُ لغتَه ويعملُ به.
نريدُ أن تكونَ العربيةُ لغةَ علمٍ وحياة، لا مادةً دراسيةً جامدة.
ونريدُ أن يكونَ الذكاءُ الاصطناعيُّ خادمًا للعلم، معينًا للمعلم، وميسِّرًا لطالب المعرفة.
فليكنْ شعارُنا: القرآنُ هدايتُنا، والعربيةُ لغتُنا الجامعة، والعلمُ رسالتُنا، والتقنيةُ وسيلتُنا، وخدمةُ الإنسانيةِ غايتُنا.
اللہ تعالیٰ نور AI اور اس جیسے تمام مخلص تعلیمی منصوبوں کو علمی صحت، اخلاص، قبولیت اور انسانیت کے لیے نفعِ عام کا ذریعہ بنائے۔
اللہ ہمیں قرآن کا خادم، عربی زبان کا مخلص داعی اور نئی نسلوں کے علمی مستقبل کا ذمہ دار معمار بنائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.
---
ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر مستشارِ رئیس جامعہ الغزالی، کراچی صدر، جامعہ اللغة العربية المفتوحة، پاکستان علمی سرپرست، منصة نور آيه آئي العالمية (NorAI)
اسلام آباد — 29 اکتوبر 2026ء |