وہی بچہ بڑا ہو کر دنیائے اسلام کا تاریخ ساز شخص بنا - قسط اول

(dr zahoor ahmed danish, nakyal kotle ak)
محترم قارئین :جیسا آپ پڑھ رہے ہیں کہ میں اپنے گذشتہ کالموں میں اللہ کے برگزیدہ بندوں کی سیرت کے حوالے سے قلم کو جنبش دے رہا ہوں ۔آج بھی ایک عظیم علم و دانش کے افق پر عظیم شخصیت کی سیرت کے ساتھ حاضر خدمت ہوں حقیقت کچھ اس طرح ہے کہ :
مغل تاجدارمحی الدین اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں ایران کے شہر مشہد سے کچھ ارباب فضل وکمال (صدر الافاضل کے آباء واجداد) ہندوستان آئے، انہیں بڑی پذیرائی ملی اور گوناں گوں صلاحیتوں کے سبب قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ اسی خانوادے میں حضرت علامہ مولانا معین الدین صاحب نزہتؔ کے گھر مراد آباد (یو.پی) میں ٢١صفر المظفر١٣٠٠؁ مطابق یکم جنوری١٨٨٣؁ء بروز پیر ایک ہونہار سعادت مند بچے کی ولادت ہوئی۔فیروز مندی اور اقبال کے آثار اس کی پیشانی سے ہُوَیْدا تھے وہی بچہ بڑا ہو کر دنیائے سنیت کا عظیم رہنما ہوا اور صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کے نام سے جانا پہچانا گیااور اپنی علمی جاہ وحشمت، شرافت نفس، اتباع شریعت، زہد وتقویٰ، سخن سَنجی،حق گوئی، جرأت وبے باکی اور دین حق کی حفاظت کے معاملے میں فقید المثال ٹھہرا۔

ابتدائی تعلیم:
صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللہ القادر جب چار سال کے ہوئے تو آپ کے والد گرامی نے انتہائی تُزُک واحتشام اور بڑی دھوم دھام سے '' بسم اللہ خوانی '' کی پاکیزہ رسم ادا فرمائی۔چندہی مہینوں میں ناظرہ قرآن پاک کے بعد حفظ قرآن شروع کردیا اور آٹھ سال کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اردو ادب اور اردوئے مُعلّٰی میں بھی اچھی خاصی قابلیت حاصل کرلی،چونکہ والد محترم حضرت علامہ مولانا سید محمد معین الدین نزہتؔ صاحب علم وفضل کے آفتاب،دادا حضرت علامہ مولانا سید محمد امین الدین صاحب راسخؔفضل وکمال کے نَیَّر تاباں اور پردادا حضرت مولانا کریم الدین صاحب آزادؔ علیہم الرحمۃ استاذ الشعراء وافتخار الادباء تھے لہٰذا ان کی آغوشِ تربیت نے آپ کو تہذیب وادب کا آفتاب تابداربنادیا۔

درسِ نظامی:
فارسی اور مُعْتَدبِہ حصہ تک عربی کی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل فرمائی اور متوسطات تک علوم درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب سے کی اس کے بعدخود حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب حضور صدر الافاضل کو لے کرقُدْوَۃُ الفضلاء ، زُبْدَۃُ العلماء حضرت علامہ مولانا سید محمد گل صاحب کابلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مہتمم مدرسہ امدادیہ مراد آباد کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا حضور!صاحب زادے انتہائی ذکی وفہیم ہیں ، ملا حسن تک پڑھ چکے ہیں ، میری دلی خواہش ہے کہ بقیہ درس نظامی کی تکمیل حضرت کی خدمت میں رہ کر کریں۔ مولانا سید محمدگل صاحب نے حضور صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی پر ایک نظر ڈالی اور اظہار مسرت فرماتے ہوئے آپ کو اپنی صحبت بابرکت میں لے لیا۔

فراغت:
استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا سید محمد گل قادری سے منطق، فلسفہ، ریاضی، اُقْلِیْدَس، توقیت وہیئت، جفر، عربی بحروف غیرمنقوطہ، تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ بہت سے مروجہ درس نظامی اور غیردرس نظامی علوم وفنون کی اسناد اپنے شفیق استاد سے حاصل فرمائیں اور بہت سے سلاسل احادیث وعلوم اسلامیہ کی سندیں بھی تفویض ہوئیں۔

دستارِ فضیلت:
بہار زندگی کا بیسواں سال تھا مدرسہ مراد آباد دلہن کی طرح سجا ہوا تھا، علماء ومشائخ رونق افروز تھے کہ ایک چمکتا ہوا تاج استاد محترم نے دستار کی شکل میں اپنے چہیتے تلمیذ خوش تمیز (صدر الافاضل) کے سر پر رکھتے ہوئے ایک تابِنْدَہ ودَر خشندہ سند فراغت ہاتھ میں عطا فرمائی اور اپنے بغل میں مسند تدریس وارشاد پر بٹھا دیا۔ یہ رسم دستارِ فضیلت ١٣٢٠؁ھ مطابق ؁١٩٠٣؁ء کو ادا ہوئی۔اسی وقت آپ کے والد گرامی حضرت علامہ مولانا سید محمد معین الدین نزہتؔ صاحب نے بہجت وسرور میں ڈوب کر ایک قطعہ ارشاد فرمایا جس سے مادہ سن فراغت نکلتا ہے۔ ؎
ہے میرے پسر کو طلباء پر وہ فضیلت سیاروں میں جو رکھتا ہے مِرِّیخ فضیلت
نزہتؔ نعیم الدین کو یہ کہہ کے سنادے دستارِ فضیلت کی ہے تاریخ ''فضیلت''

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی زیارت:
حضرت صدرالافاضل خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے، آپ کی قابلیت کے سبب بعد فراغت ہی کئی علوم وفنون میں آپ کی بالا دستی اور علم وفضل کی شہرت ہونے لگی۔ درایں اثنا جودھ پور کے ایک بد عقیدہ دَرِیْدَہ دہن و گستاخ قلم مولوی جو سنی علماء کے مضامین کے رد میں مقالے لکھا کرتا اور اپنے خُبْثِ باطن کا اظہار کرتا،اس نے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانااحمد رضا خان فاضل علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے خلاف ایک نہایت نامعقول ورذیل مضمون لکھ کر اخبار ''نظام الملک''میں شائع کروادیا۔ چنانچہ ضَیْغَم صحرائے ملت، استاذ العلماء ، سندالفضلاء ،حضور سیدی صدرالافاضل نے اس قسمت کے مارے، خباثت کے ہرکارے اس مولوی کی تحریر کا نہایت شوخ وطَرَح دار،دندان شکن اور مُسکِت رد لکھااوراسی اخبار ''نظام الملک ''میں شائع کرواکر منہ توڑ جواب دیا۔ امام اہل سنت کی خدمت بابرکت میں صدر الافاضل کے اس جرأت مندانہ اقدام کے بارے میں عرض کیا گیا اور نظام الملک اخبار بھی خدمت میں پیش کیا گیا۔جسے آپ نے ملاحظہ فرما کر صدر الافاضل کی قابلیت کی تعریف فرمائی اور آپ کے بریلی تشریف لانے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔طلب اعلیٰ حضرت پر حضرت صدر الافاضل امام اہل سنت کی بارگاہِ فیض رسا ں میں حاضر ہوئے۔ اعلیٰ حضرت نے اہل سنت کے موقف کی تائید پر آپ کو بے پناہ دعاؤں اور انتہائی محبت وشفقت سے نوازا۔اس کے بعد صدر الافاضل کو آستانہ اعلیٰ حضرت سے ایک خاص قلبی لگاؤ ہوگیا اور وقتاً فوقتاً آپ اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کرتے بلکہ جب بھی آپ مراد آباد میں ہوتے خصوصیت کے ساتھ اعلیٰ حضرت کی خدمت اقدس میں ہر پیر اور جمعرات کو حاضری کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے۔

سند ِفراغت پانے کے بعد آپ نے علم ِغیب ِمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر ایک جامع اور مدلل کتاب '' الکلمۃ العلیاء لاعلاء علم المصطفٰی'' تحریر فرمائی جس کا منکرین آج تک جواب نہ لکھ سکے اور ان شآء اللہ عزوجل قیامت تک نہ لکھ سکیں گے، جب اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی خدمت بابرکت میں یہ کتاب پیش کی گئی تو آپ نے بنظر عَمِیْق مطالعہ فرمایااور ارشاد فرمایا: ماشآء اللہ بڑی کار آمد اور عمدہ کتاب ہے، عبارت شگفتہ، مضامین دلائل سے بھرے ہوئے ،یہ نوعمری اور اتنے احسن براہین کے ساتھ اتنی بلند پایہ کتاب مولانا موصوف کے ہونہار ہونے پر دال ہے۔ بہرحال اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صدر الافاضل کا رشتہ محبت و مُوَدَّت اس قدر مضبوط ہوگیا کہ آپ کو اعلیٰ حضرت نے اپنا معتمد اور اپنے بعض کاموں کا مختار بنادیااور جہاں فاضل بریلوی اپنی شرعی ذمہ دار یوں کی وجہ سے خود شرکت نہ فرماتے وہاں صدر الافاضل آپ کی نمائندگی فرماتے۔

محترم قارئین :سیرت کے مزید گوشوں کو آپ تک پہنچانے کے لیے دوسری قسط کے ساتھ پھر حاضرہونگے ۔دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گاکہ دعامومن کا ہتھیار ہے ۔ان مساعد ،افراتفری ،عداوتوں و نفرتوں کی دنیا میں اس ہتھیا ر ہی سے ہم اپنا دفاع کرسکتے ہیں ۔اپنی رائے سے ضرور نوازئیے گا۔گذشتہ دنوں میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے مجھ اور آپ میں اتنی دوریاں رہیں ۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 434 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 231 Articles with 219488 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language: